دعائے ربانی کیا ہے، کیا ہم کو وہ دعا کرنی چاہئے؟



سوال: دعائے ربانی کیا ہے، کیا ہم کو وہ دعا کرنی چاہئے؟

جواب:
دعائے ربانی ایک دعا ہے جسے خداوند یسوع مسیح نے اپنے شاگردوں کو متی13- 6:19 اور لوقا4- 11:2 میں سکھایا۔ متی13- 6:9 کہتا ہے۔ پس تم اس طرح دعا کیا کرو کہ ائے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے تیرا نام پاک مانا جائے۔ تیری بادشاہی آئے۔ تیری مرضی جیسی آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔ ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے۔ اور جس طرح ہم نےاپنے قرضداروں کو معاف کیا ہے تو بھی ہمارے قرض ہمیں معاف کر اور ہمیں آزمایش میں نہ لا بلکہ برائی سے بچا [کیونکہ بادشاہی اور قدرت اور جلال ہمیشہ تیرے ہی ہیں۔ آمین"۔ بہت سے لوگ دعائے ربانی سے متعلق اس بطور غلط فہمی میں ہیں کہ اس کو لفظ بہ لفظ کرکے حفظ کرلینی چاہئے۔ کچھ لوگ دعائے ربانی کو ایک جادوئی نسخہ بطور لیتے ہیں جیسے کہ اس کے الفاظ خود ہی خدا کے ساتھ ایک خاص قدرت کا اثر رکھتا ہے۔

مگر بائیبل ہمکو اس کی الٹی بات سکھاتی ہے۔ ان سب سے بڑھکر جب ہم دعا کرتے ہیں تو خدا ہمارے منہ کے الفاظ سے بڑھکر ہمارے دلونمیں دلچسپی رکھتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ "جب تو دعا کرےتو اپنی کوٹھری میں جا اور دروازہ بند کرکے اپنے باپ سے جو پوشیدگی میں ہے دعا کر۔ اس صورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دیگا اور دعا کرتے وقت غیر قوموں کے لوگوں کی طرح بک بک نہ کرو۔ کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بہت بولنے کے سبب سے انکی سنی جائيگی" ( متی7- 6:6) خدا کا کلام کہتا ہے کہ کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر بات میں تمہاری درخواستیں دعا اورمنت کے وسیلہ سے شکر گزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں (فلپیوں7- 4:6)۔ سو ایسا نہیں ہونا چاہئےکہ کچھ الفاظ حفط کرلیں اور دعا بطور خدا کے حضور پیش کی جائے۔

دعائے ربانی کو ایک مثال بطور اور ایک نمونہ بطورسمجھنی چاہئے کہ دعا کس طرح کی جائے۔ یہ دعا کے اندر جانے کے لئے "جزوترکیبی" ہے۔ یہاں آپ دیکھیں کہ یہ کس طرح موزوں ثابت ہوتا ہے۔ "ا‏ئے ہمارے باپ تو جو آسمان پر ہے" یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہماری دعائیں کسکو مخاطب کرتی ہیں۔ یعنی کہ آسمانی باپ کو۔ "تیرا نام پاک مانا جائے" یہ ہم سےکہاتا ہے کہ ہم کو خدا کی عبادت کرنی چاہئے اور جو اس کی ذات ہے کہ اس لئے اس کی تعریف اور حمدوستایش کرنی چاہئے کیونکہ وہ اپنی ذات میں پاک اور بے عیب ہے۔ اس کے آگے یہ جو فقرہ ہے کہ "تیری بادشاہی آئے۔ اور تیری مرضی جیسی آسمان میں پوری ہوتی ہے زمین پربھی ہو"۔ یہ ہم کو یاد دلاتا ہے کہ ہم کو اپنی زندگیوں میں دنیا میں خدا کے منصوبہ کے لئے دعا کرنی چاہئے نہ کہ ہمارے اپنے منصوبہ کے لئے۔ ہمیں دعا کرنی چاہئے کہ خداکی پاک مرضی ہماری زندگیوں میں پوری ہو۔ نہ کہ ہماری اپنی خواہشات پوری ہوں۔ پھر آگے ہمیں حوصلہ دیا جاتا ہے کہ ہم خدا سے اپنی جسمانی ضرورت کی مانگ کریں جس میں پہلا ہے روٹی۔ " ہماری روز کی روٹی آج ہمیں دے" ہم کو ضرورت کے مطابق ہی جسمانی روٹی مانگنی ہے۔ آگے کہا گیا ہے کہ جس طرح ہم نےاپنے قرضداروں کو معاف کیا ہے تو بھی ہمارے قرض ہمیں معاف کر" یہ ہم کو یاد دلاتا ہے کہ ہم خدا کے حضور اپنے گناہوں کا اقرار کریں انہیں ترک کریں اور اس کی طرف رجوع لائيں اور ساتھ ہی ہمارے خلاف جنہوں نے خطائيں کی ہیں انہیں ہم معاف کریں جس طرح خدا نے ہمارے گناہ معاف کئے ہیں۔ آگے اس دعائے ربانی کا اختتام اس طرح ہے کہ "ہمیں آزمائش میں نہ لا بلکہ برائي سے بچا" یہ گناہ پر فتح حاصل کرنے کے لئے خدا سے منت کی جارہی ہے اور شیطان کے حملوں سے حفاظت کے لئے درخواست ہے۔

تو پھر دوبارہ یہ کہنا ہے کہ دعائے ربانی ایک ایسی دعا نہیں ہے کہ ہمیں اس کو حفظ کرکے خدا کے حضور دہرانا ہے بلکہ یہ صرف ایک مثال ہے کہ ہمکو کس طرح دعا کرنی چاہئے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا دعائے ربانی کو حفظ کرلینا کوئی غلط بات ہے؟ نہیں۔ اگر آپ کا دل اس میں ہے اور آپ سچ مچ انہیں الفاظ کو کہنا چاہتے ہیں تو یاد رکھئے کہ دعا میں جو آپ اپنے دل سے بات کرتے ہیں اس سے زیادہ خدا آپ کے ساتھ رفاقت رکھنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ فلپیوں7- 4:6 اعلان کرتا ہے "کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر ایک بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلے سے شکر گزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں تو خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہرہے۔ تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھیگا"۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



دعائے ربانی کیا ہے، کیا ہم کو وہ دعا کرنی چاہئے؟