settings icon
share icon
سوال

دُعائے ربانی میں شکرگزاری کیوں شامل نہیں ہے؟ کیا ہماری تمام دعاؤں میں شکرگزاری کا اظہار شامل نہیں ہوناچاہیے؟

جواب


1 تھسلنیکیوں 5باب 17-18 آیات میں بیان کردہ پولس رسول کی یہ نصیحت کہ " بلاناغہ دُعا کرو" اور یہ کہ " ہر بات میں شکرگزاری کرو" اس لحاظ سے عجیب معلوم ہوتی ہے کہ دُعائے ربانی میں شکر گزاری کےلیے ہدایات شامل نہیں ہیں ۔ چونکہ اناجیل کے دیگر حوالہ جات میں یسوع دُعا میں شکر گزاری کی مثال پیش کرتا ہے اس اعتبار سے بھی دُعائے ربانی میں شکرگزاری کا نہ پایا جانا خصوصی طور پر عجیب معلوم ہوتا ہے ۔

یسوع اُس کھانے کےلیے خدا کا شکر کرتا ہے جو وہ 5,000 ( متی 14باب 16-21آیات) اور 4,000 ( متی 15باب 35-38آیات) لوگوں کو معجزانہ طور پر کھلاتا ہے ۔ وہ آخری فسح کے موقع پر پیالے اور روٹی کے لیے شکر کرتا ہے ( متی 26باب 26-27آیات)۔ یسوع خدا کا شکر ادا کرتا ہے کہ اُس نے لعزر کو مُردوں میں سے زندہ کرنے کےلیے اُس کی دعا کو سنا ہے (یوحنا 11باب 41آیت)۔ حتیٰ کہ وہ بادشاہی کی باتوں کو داناؤں سے چھپانے اور غریبوں ، بے عقلوں اور نکموں پر ظاہر کرنے کےلیے باپ کا شکر کرتا ہے ( متی 11باب 25آیت)۔ مگر وہ دُعائے ربانی میں شکر گزاری کے عنصر کو چھوڑ دیتا ہے ۔

اگر ہم دُعائے ربانی ( متی 6باب 9-13آیات)پر مشتمل اُس حوالے کا مشاہدہ کریں تو سب سے پہلے ہم اس بات پر غور کرتے ہیں کہ یسوع شاگردوں کو ایک مخصوص انداز میں دُعا کرنا کیوں سکھا رہا تھا ۔ یسوع درحقیقت اُس طریقہ کار پر تنقید کر رہا تھا جو فریسی اپنی دُعاؤں کے لیے استعمال کرتے تھے۔ وہ ایسی جگہوں پر سرِ عام دُعا کرتے تھے جہاں سب کی طرف سے اُنہیں دیکھا اور سنا جا سکتا تھا ۔ یہ اُن کی طرف سے عوام الناس پر یہ ظاہر کرنے کا ایک طریقہ تھا کہ وہ کتنے پاک اور دین دار ہیں ۔ یسوع دُعا کے اُس طریقہ کار کی مذمت کرتا ہے : وہ آدمیوں کی طرف سے دیکھے جانے کی صورت میں " اپنا اجر پا چکے " تھے ۔ یسوع کھلے عام یا عوامی طور پر دعا کرنے کی مذمت نہیں کر رہا بلکہ وہ اُن لوگوں کی دعائیہ مشق کی مذمت کرتا ہے جن کا مقصد ہوتا ہے کہ " لوگ اُن کو دیکھیں۔" ہم یسوع کو غیر قوموں کے دُعا کرنے کے طریقہ کار پر تنقید کرتے ہوئے بھی دیکھتے ہیں جس میں وہ اس بات کو یقینی بنانے کےلیے کہ اُن کا معبود اُن کی دُعا کو سن لے ایک ہی بات کو بار بار دہراتے جاتے ہیں جس طرح 1سلاطین 18 باب میں کرمل کے پہاڑ پر بعل کے پجاریوں نے کیا تھا ۔

یسوع کا دعا کے ان طریقہ کار کے خلاف اصلاحی رویہ اختیار کرنے کا مقصد اپنے شاگردوں کو مثالی دُعا سکھانا تھا ۔لہذا اب ہم دُعائے ربانی کی محض تلاوت نہیں کرتے جیسے رومن کیتھولک کلیسیا کے اراکین کرتے ہیں ۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ دُعائے ربانی کو اجتماعی طور پر پڑھنا غلط ہے ۔ یسوع یہاں اجتماعی دُعا کی بجائے شخصی دُعا کا ذکر کر رہا ہے ۔

دُعائے ربانی کو دُعا کےلیے ایک عام رہنما اُصول یعنی ایک ایسےوسیلے کے طور پر سمجھنا زیادہ بہتر ہے جو ہماری دعائیہ زندگی کو تشکیل دیتا ہے ۔ دعائے ربانی میں چھ درخواستیں ہیں جن میں سے پہلی تین کا تعلق خدا سے ہے جبکہ آخری تین ہمارے متعلق ہیں ۔ خدا سے " اپنے آسمانی باپ " کے طور پر مخاطب ہونے کے بعد ہم سب سے پہلے دُعا کرتے ہیں کہ خدا کا نام عزت و جلال پائے ۔ اور اس کے بعد ہم دُعا کرتے ہیں کہ اُس کی بادشاہی آئے ۔ ایک لحاظ سے خدا کی بادشاہی یسوع کی پہلی آمد کے وقت سے ہی آ چکی ہے مگر اب ہم اُس بادشاہی کے پورے طور پر واقع ہونے کی دُعا کرتےہیں ۔تیسرے نمبر پر ہم خدا کی مرضی – اُس کی اخلاقی یا عیاں کردہ مرضی کے لیے دُعا کرتے ہیں کہ وہ ہماری زندگی سے شروع ہوتی ہوئی تمام زمین پر پوری ہو۔اِن تین درخواستوں کے بعد جو خدا کے جلال اور تعظیم کے بارے میں بیان کرتی ہیں ہم اگلی اُن تین درخو استوں کو پیش کرتےہیں جو ہماری روزمرہ کی ضروریات کی فراہمی ، گناہوں کی معافی اور بُرائی سے بچاؤ سے متعلق ہیں ۔

ہمیں دُعائے ربانی میں شکرگزاری کا عنصر کیوں نہیں ملتا اس کا بہترین جواب یہ ہے کہ شکر گزاری درحقیقت وہ رویہ ہے جس کے ساتھ ہم خدا سے دُعا کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے لئے جو خدا کے فرزند ہیں شکر گزاری ہمارے دِلوں کو بھر دے گی اور ہمارے ہونٹوں سے خدا کےلیے پھوٹ نکلے گی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ دوسری چیزوں کے ساتھ ساتھ ہمارے گناہ معاف ہوگئے اور ہم نے یسوع مسیح کے وسیلے سے ابدی زندگی پائی ہے ۔ خدا نے ہمارے لئے جو کچھ کیا ہے ہم جتنا زیادہ اس بات پر غور کریں گے ہم اتنے ہی زیادہ خدا کے شکر گزار ہوں گے۔ اس طرح خدا کے ساتھ ہمارے تعلقات میں شکر گزاری ہر لمحے ، ہر حال اور واقعے میں ایک قدرتی عمل بن جاتا ہے ۔ پولس رسول 1تھسلنیکیوں 5باب 18آیت میں لکھتا ہے"ہر ایک بات میں شکرگزاری کرو کیونکہ مسیح یسوع میں تمہاری بابت خُدا کی یہی مرضی ہے۔ "

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

دُعائے ربانی میں شکرگزاری کیوں شامل نہیں ہے؟ کیا ہماری تمام دعاؤں میں شکرگزاری کا اظہار شامل نہیں ہوناچاہیے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries