settings icon
share icon
سوال

کیا یوناہ کو واقعی وہیل مچھلی نے نِگل لیا تھا ؟

جواب


یوناہ کی کتاب ایک ایسے نبی کی کہانی ہے جس نے خُدا کے واضح فرمان کو نظرانداز کرنے کی کوشش کی، جسے ایک وہیل(یا "بڑی مچھلی") کی طرف سے نگل لیا گیا اور بعد میں ساحل پر اُگل دیا گیااور جس نے نہ چاہتے ہوئے بھی بدکار نینوہ شہر کی توبہ کرنے کی جانب رہنمائی کی تھی ۔ بائبل کی سادہ تعلیم یہی ہے کہ ہاں ، یوناہ کو واقعی وہیل(یا ایک بڑی مچھلی) نے نگل لیا تھا۔

متشکک لوگوں کی طرف سے یوناہ کے بارے میں بائبلی بیان کو اُس کے معجزاتی عنصر کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ اِن معجزات میں درج ذیل واقعات شامل ہیں۔

• خدا وند کی طرف سے ایک تیز طوفان برپا کیا گیا۔ ( یوناہ 1باب 4-16آیات)

• جہاز کے ملاحو ں کی طرف سے یوناہ کے سمندر میں پھینکے جانے پر ایک بڑی مچھلی نے اُسے نگل لیا۔ ( 1باب 17آیت)۔

• یوناہ مچھلی کے پیٹ میں تین دن اور تین رات تک زندہ رہتا ہے – یا وہ مر جاتا ہے اور اُسے دوبارہ زندہ کیا جا تا ہے ۔جس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ متن کی تشریح کیسے کرتے ہیں۔ ( 1باب 17آیت)

• خداوند کے حکم سے مچھلی یوناہ کو ساحل پر اُگل دیتی ہے۔ ( 2باب 10آیت)

• خدا کی طرف سے کدُو کی بَیل کو تیزی کیساتھ بڑھایا جاتا ہےتا کہ یوناہ کو سایہ مہیا کرے ۔ ( یوحنا 4باب 6آیت)

• بَیل کو برباد اور خشک کرنے کےلیے خدا کی طرف سے ایک کیڑے کو بھیجا جاتا ہے۔ ( 4باب 7آیت)

• خدا کی طرف جُھلسادینے والی لُو چلائی جاتی ہے تاکہ یوناہ کو بے چین کیا جائے ( یوناہ 4باب 8آیت)

قدیم دنیا کے اس مخصوص علاقے میں دجون دیوتا کی پرستش کی مقبولیت کے پیش ِ نظر خدا کی طرف سے یوناہ کو نینوہ تک پہنچانے کے ذریعے کے طور پر وہیل یا کسی بڑی مچھلی کو استعمال کرنے کا مقصد یقیناً نینوہ کے لوگوں کی توجہ حاصل کرنا تھا ۔دجون ایک مچھلی نما دیوتا تھا جومسوپتامیہ اور مشرقی بحیرہ روم کے ساحلوں میں پائے جانے والے اصنام پرستوں کے مندروں میں بڑا مشہور تھا ۔ بائبل میں اس کا فلستیوں کے حوالے سے متعدد بارے ذکر کیا جاتا ہے (قضاۃ 16باب 23-24آیات؛ 1سموئیل 5باب 1-7آیات ؛ 1تواریخ 10باب 8-12آیات)۔ دجون کی تصاویر نینوہ میں محلوں اور مندروں اور تمام علاقے میں پائی گئی ہیں ۔ کچھ معاملات میں اُسے مچھلی نما آدمی کے طور پر پیش کیا گیا تھا ۔ اور دیگر صورتوں میں وہ جزوی آدمی اور جزوی مچھلی – ایک طرح کا جل مانس تھا ۔

ماہر علومِ مشرقیہ ہنری کلے ٹرو مبل مشاہدہ کرتا ہے :" نینوہ ، جہاں مچھلی دیوتا عبادت کا پسندیدہ معبود تھا، وہاں ایک الٰہی پیغمبر کے طور پر یوناہ کےلیے عام گواہوں کی موجودگی میں فونیشیا کے ساحل پر ایک بڑی مچھلی کے منہ سے باہر پھینکے جانے سے بہتر اور کیا اعلان ہو سکتا ؟ اس قسم کے واقعے نےمشرقی مشاہدین کی ہمدردانہ فطرت کو لازمی طور پر اُبھارا ہو گا اور اس طرح سے لوگ بظاہر مچھلی -دیوتا کے اُس اوتار کی پیروی کرنے کو تیار تھے جو سمندر سے ظاہر ہونے کی اپنی کہانی کا اعلان کرتے ہوئے اُس شہر میں اپنے مشن پر گیا تھا جو مچھلی- دیوتا کی عبادت کا مرکز تھا(“Jonah in Nineveh,” Journal of Biblical Literature, Vol. 2, No.1, 1892, p. 56) ۔

کچھ عالمین کا گمان ہے کہ یوناہ کی ظاہر ی شکل یعنی مچھلی کے ہاضمہ کے تیزابی عمل کے سبب سے سفید رنگت کی جلد اُس کے مقصد میں بہت مدد گار ثابت ہوئی ہو گی ۔ یہ بھی ہو سکتا تھا کہ نینوہ کے لوگوں کوایک ایسے شخص کی طرف سے مخاطب کیا گیا ہو جس کی جلد، بال اور کپڑے بھوت کی طرح سفید تھے – ایک ایسا آدمی جس کے ہمراہ پُر جوش لوگوں کا ایک ایسا ہجوم تھا جن میں سے بیشتر نے اُس کے ایک بڑی مچھلی کی طرف سے ساحلِ سمندر پر اُگلے جانے کو دیکھا تھا ۔یوناہ کی مچھلی کے وسیلہ سے آمد کی نوعیت کے پیشِ نظر نینوہ شہر کی توبہ ایک منطقی پیش قدمی کا نتیجہ ہے ۔

بائبل کے علاوہ کوئی حتمی تاریخی ثبوت موجود نہیں ہے کہ یوناہ کو کبھی کسی مچھلی نے نگل لیا تھا اور اس واقعے کےبارے میں بتانے کےلیے وہ زندہ بچ گیا تھا ؛ تاہم کچھ بااثر تصدیقی شواہد ہیں ۔ تیسری صدی قبل از مسیح میں ایک بابلی پجاری /تاریخ دان بیرو سس نے وانس نامی ایک افسانوی کردار کے بارے میں لکھا تھا جو بیروسس کے مطابق انسانوں کو الٰہی حکمت دینے کےلیے سُمندر میں سے ظاہر ہوا تھا ۔ عالمین ا س پُر اسرار مچھلی -انسان کی شناخت بابل کے پانی کے دیوتا ای (جسے انیکی بھی کہا جاتا ہے ) کے اوتار کے طور پر کرتے ہیں ۔ بیروسس کے بیان کے بارے میں منفر د بات وہ نام "اونس" ہے جو اُ س نے استعمال کیا تھا ۔

بیروسس نے اس بارے میں یونانی دورِ تہذیب کے دوران یونانی زبان میں لکھا تھا ۔ وانس(Oannes) یونانی نام ایِوانس (Ioannes)سے محض ایک حرف ہٹا دینےسے تشکیل دیا گیا ہے جو نئے عہد نامے میں یونانی متن کے اندر یوناہ کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔جیسا کہ ایِوانس سے I (حرف -آئی) ہٹایا جا رہا ہے پروفیسر ٹرومل لکھتا ہے کہ " اسوری تحروں میں موجود J(جے) غیر ملکی الفاظ میں I بن جاتا یا مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے ؛لہذا جونا(Jona) کے یونانی نمونے کے طور پر وانس (Joannes) اسوری زبان میں ایوِانس یا وانس کے طور پر ظاہر ہو گا " (ibid., p. 58)۔

نینوہ ایک اسوری شہر تھا۔ اِس کا بنیادی مطلب یہ ہے کہ بیروسس نے یوناہ نامی ایک مچھلی کے ذریعے آنے والےانسان کے بارے میں لکھا جو انسان کو الٰہی حکمت دینے کے لیے سمندر سے نکلا تھا- اور یہ عبرانی بیان کی ایک قابل ذکر تصدیق ہے ۔

بیروسس نے اپنی معلومات کے لیے مستند بابلی ذرائع پر انحصار کرنے کا دعویٰ کیا ہے ۔ نینوہ شہر کو بیروسس سے 300 سے زیادہ سال پہلے نبوکد نضر بادشاہ کی سربراہی میں بابلی لوگوں کی طرف سے 612 قبل مسیح میں فتح کیا گیا تھا۔ یہ بات بالکل قابل فہم ہے کہ نینوہ شہر میں یوناہ کی کامیابی کا بیان بیروسس کے لیے دستیاب تحریروں میں محفوظ تھا۔ اگر ایسا ہے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ یوناہ کو تین صدیوں کے عرصے میں پہلے اسوری لوگوں کی طرف سے دیوتا اور افسانوی کر دار بنا دیا گیا تھا جنہوں نے بلا شبہ اُسے اپنے مچھلی دیوتا دجون سے منسوب کیا تھا اور پھر بابل کے لوگوں کی طرف سے اُسے معبود بنا دیا گیا تھا ، جو اُسے اپنے پانی کے دیوتا ای سے منسوب کرتے معلوم ہوتے ہیں ۔

یوناہ ایک تخیلاتی شخصیت نہیں تھا جسے ایک نا فرمان نبی کا کردار ادا کرنے کےلیے ایجاد کیا گیا تھااورجس کو ایک مچھلی نے نگل لیا تھا ۔ وہ اسرائیل کی نبوتی تاریخ کا حصہ تھا ۔ یوناہ اسرائیل کی تواریخ میں ایک ایسے نبی کے طور پر ظاہرہو تا ہے جس نے ارام کے خلاف یربعام دوم کی جنگی کامیابیوں کی پیشن گوئی کی تھی ( 2سلاطین 14باب 25آیت)۔ اُس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ گلیل کے نشیبی علا قے میں واقع قصبے جات جفر سے امِتّی کا بیٹا تھا ( یوناہ 1باب 1آیت)۔ یوسیفس ان تفصیلات کو اپنی کتاب Antiquities of the Jews(یہودیوں کے تاریخ واقعات - 10باب 2پیرا) میں دہراتا ہے ۔

نینوہ شہر 2500سال سے زیادہ عرصے کے بعد دوبارہ دریافت ہوا ۔ اب یہ سمجھا جاتا ہے کہ اِس کے خاتمے کے وقت یہ دنیا کا سب سے بڑا شہر تھا (دیکھیں : Tertius Chandler’s Four Thousand Years of Urban Growth: An Historical Census)۔ سر آسٹن ہینری لیئرڈ کے مطابق جس نے نینوہ کے دوبارہ دریافت ہونے کی تاریخ لکھی تھی نینوہ شہر جتنے علاقے پر آباد تھا وہ "بالکل تین دن کا سفر" تھا جیسا کہ یوناہ 3باب 3آیت میں درج ہے ۔( A Popular Account of Discoveries at Nineveh, New York: J. C. Derby, 1854, p. 314)۔ اس کی دوبارہ دریافت سے پہلے متشکک لوگ نے اس امکان پر طنز کیا تھا کہ کیا قدیم دنیا میں اتنا بڑا شہر موجود ہوسکتا ہے۔ درحقیقت کچھ متشکک لوگوں نے تو نینو ہ کے وجود کو یکسر مسترد کردیا تھا۔ 1800 کی دہائی کے وسط میں اِس کی دوبارہ دریافت بائبل کے لیے قابل ذکر دفاع ثابت ہوئی جو نینوہ کے نام کا اٹھارہ مرتبہ ذکر کرتی اور اِس کے حال کو بیان کرنے کے لیے پوری دوکتابیں (یوناہ اور ناحوم ) وقف کرتی ہے ۔

اس بات پر غور کرنا دلچسپی کا حامل ہے کہ نینوہ شہر کو دوبارہ کہاں دریافت کیا گیا تھا ۔ یہ جدید عراق میں موسل کے علاقے کے آس پاس کے دو ٹیلوں کے نیچے دفن پایا گیا تھا۔ یہ ٹیلے مقامی طور پر Kuyunjik (کیونجک) اور Nabi Yunus ( نبی یوناہ) کے ناموں سے مشہور ہیں۔عربی میں یونس نبی دراصل "یوناہ نبی" کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

جہاں تک اُس وہیل یا بڑی مچھلی کی بات ہے جس نے یوناہ کو نگل لیا تھا بائبل اس کی وضاحت نہیں کرتی کہ یہ کس قسم کا سمندری جانور تھا۔ پرانے عہد نامے میں استعمال ہونے والی عبرانی اصطلاح gadowl dag کے لفظی معنی "بڑی مچھلی" ہے ۔ نئے عہد نامے میں استعمال ہونے والے یونانی لفظ këtos کا سادہ مطلب "سمندری مخلوق" ہے۔ بحیرہ روم کی سمندری مخلوقات میں کم از کم دو اقسام ایسی ہیں جو کسی انسان کو پوری طرح نگل سکتی ہیں۔ یہ کشالوٹ (جسے سپرم وہیل بھی کہا جاتا ہے) اور سفید شارک ہیں۔ دونوں جانور بحیرہ روم میں گشت کے لیے مشہور ہیں اور قدیم زمانے سے ملاحوں کے علم میں ہیں۔ ارسطو نے ان دونوں اقسام کا ذکر اپنی چوتھی صدی قبل مسیح کی کتاب Historia Animalium میں کیا تھا ۔

متشکک لوگ یوناہ کی کتاب میں بیان کردہ معجزات کا مذاق اڑاتے ہیں کیونکہ ایسا کوئی میکانیکی عمل نہیں ہے جس سے اس طرح کے واقعات رونما ہوسکیں۔ یہ اِن کا تعصب ہے۔ بہرحال ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ایک ایسی ذات موجود ہے جو قدرتی مظاہر کو ایسے مافوق الفطرت انداز میں استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ قدرتی عالم کا خالق ہے اور اِس کا پابند نہیں ہے۔ ہم یقین رکھتے ہیں کہ خدا نے یوناہ کو نینوہ بھیجا تاکہ وہاں کے لوگ توبہ کریں اور یہ بھی کہ اس عمل میں یوناہ کو وہیل یا ا یک بڑی مچھلی نے نگل لیا تھا ۔

یسوع نے یوناہ کی آزمایش کو ایک حقیقی تاریخی واقعہ قرار دیا تھا ۔ اُس نے اِس واقعے کو اپنی مصلوبیت اور مردوں میں سے جی اُٹھنے کے لیے تمثیلیاتی استعارے کے طور پر استعمال کیاتھا : "کیونکہ جیسے یوناہ تِین رات دِن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی اِبنِ آدمؔ تِین رات دِن زمین کے اندر رہے گا۔ نینوہ کے لوگ عدالت کے دِن اِس زمانہ کے لوگوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اِن کو مجرم ٹھہرائیں گے کیونکہ اُنہوں نے یُوناہ کی مُنادی پر تَوبہ کر لی اور دیکھو یہاں وہ ہے جو یُوناہ سے بھی بڑا ہے"( متی 12باب 40-41آیات)۔

یہ ایسا ثبوت ہے جس پر کسی بھی مسیحی کو یہ یقین کرنے کے لیے پختہ اعتماد رکھنا چاہیے کہ یوناہ کو واقعی وہیل نے نگل لیا تھا اور کسی بھی متشکک کو یوناہ کی کہانی کو ایک بناوٹی قصے کے طور پر مسترد کرنے سے پہلے دو بار سوچنا چاہیے۔



English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا یوناہ کو واقعی وہیل مچھلی نے نِگل لیا تھا ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries