settings icon
share icon
سوال

یسوع اپنے مرنے اور جی اُٹھنے کے درمیانی وقت میں کہاں پر تھا؟

جواب


یسوع اپنی موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے درمیان والے تین دن کہا ں تھا اِس بحث کا مرکزی حوالہ 1پطرس 3باب 18- 19آیات ہیں جوبیان کرتی ہیں کہ "اِس لیے مسیح نے بھی یعنی راست باز نے ناراستوں کےلیے گناہوں کے باعث ایک بار دُکھ اُٹھا یا تاکہ ہم کو خدا کے پاس پہنچائے ۔ وہ جسم کے اعتبار سے تو مارا گیا لیکن رُوح کے اعتبار سے زندہ کیا گیا ۔ اُسی میں اُس نے جا کر اُن قیدی رُوحوں میں منادی کی۔"یہاں پر لفظ رُوح سے مُراد مسیح کی رُوح ہے ۔ یاد رکھیں کہ یہاں پر مسیح کے جسم اورمسیح کی رُوح اور مسیح کے جسم اور رُوح القدس کے درمیان فرق کو مدِنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ مسیح کا جسم مر گیا تھا مگر اُ س کی رُوح زندہ رہی۔ یقیناً اُس کا جسم تو قبر میں تھا مگر اُس کی موت کے وقت جسم سے علیحدہ ہونے کے باعث (متی 27باب 50آیت )اُس کی رُوح اُن تین دنوں کے دوران کسی اور جگہ پر رہی ۔

پطرس اِس بارے میں بہت کم معلومات فراہم کرتا ہے کہ یسوع کی موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے درمیانی تین دنوں میں کیا ہو ا ۔بائبل مُقدس کا کنگ جیمز ترجمہ بیان کرتا ہے کہ یسوع نے قیدی رُوحوں میں " منادی " کی(1پطرس 3باب 19آیت)۔ یہاں پر استعمال ہونے والے یونانی لفظ کا سادہ ترین مطلب ہے کہ یسوع نے " ایک پیغام کی دیا یا پہنچایا"؛ جبکہ بائبل مُقدس کا نیو انٹرنیشنل ترجمہ بیان کرتا ہے کہ یسوع نے "اعلان کیا"۔ مسیح نے دُکھ سہا اور صلیب پرجان دی، اُس کا جسم قتل کر دیا گیا تھا ۔ مگر اُس کی رُوح زندہ تھی اور اُس نے اُسے باپ کے ہاتھو ں میں سونپ دیا(لوقا 23باب 46آیت)۔پطرس کے مطابق یسوع کی موت اور اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے درمیانی کسی وقت میں یسوع نے قیدی رُوحوں میں جا کر ایک خاص اعلان کیا یا پیغام پہنچایا ۔

یہ قیدی رُوحیں کہاں تھیں جن سے یسوع نے اپنی موت اور جی اُٹھنے کے درمیان کلام کیا ؟ بائبل میں ہمیں کہیں پر بھی نہیں بتایا جاتا ہے کہ یسوع نے جہنم کا دَورہ کیا تھا(جیسا کہ کچھ لوگ یہ تعلیم دیتے چلے آ رہے ہیں)۔ یہ خیال قطعی طور پر بائبل کے مطابق نہیں ہے کہ یسوع اپنے دُکھوں کو جاری رکھنے کےلیے جہنم میں گیا تھا، کیونکہ اُس کا دُکھ اُس وقت ختم ہوگیا تھا جب اُس نے صلیب پر کہا تھا کہ" تمام ہوا"(یوحنا 19باب 30آیت)۔بائبل مُقدس کا دی نیو امریکن سٹینڈرڈ بائبل ترجمہ بیان کرتا ہے کہ یسوع عالمِ ارواح (عالمِ اسفل،پاتالHades )میں گیا تھا( اعمال 2باب 31آیت)۔ مگر عالم ارواح توجہنم نہیں ۔ عالمِ ارواح وہ اصطلاح جو مکمل طور پر مُردوں کے عالم کی طرف اشارہ کرتی ہے وہ عارضی مقام جہاں پر مُردے اپنی قیامت کے منتظر ہوتے ہیں ۔بائبل کےنیو امریکن سٹنڈرڈ بائبل اور نیو انٹرنیشنل ورژن جیسے تراجم مکاشفہ 20باب 11-15آیات میں عالمِ ارواح اور آگ کی جھیل کے درمیان واضح فرق کو بیان کرتے ہیں ۔ گنہگاروں کےلیے آگ کی جھیل عدالت کا ایک مستقل اور آخری مقام ہے ۔ مگر عالمِ ارواح گنہگاروں اور پرانے عہدنامہ کے مقدسوں دونوں ہی کےلیے ایک عارضی مقام ہے ۔

ہمارے خداوند یسوع نے اپنی رُوح باپ کےہاتھوں میں سونپ دی ، وہ جسمانی طور پر مر گیا اور فردوس میں داخل ہوا جیسا کہ اُس نے صلیب پر ایمان لانے والے ڈاکو سے وعد ہ کیا تھا(لوقا 23باب 43آیت)۔ اپنی موت اور جی اُٹھنے کے درمیانی وقت میں یسوع نے اُس مقام کا دورہ بھی کیا تھا جہاں اُس نے رُوحوں تک ایک پیغام پہنچا یاتھا ــ غالباًوہ گرائے گئے فرشتے بھی (دیکھیں یہوداہ 1باب 6آیت)اِسی مقام پر قید کی حالت میں اپنے ابدی انجام کا انتظار کر رہے ہیں، یہ غالباً وہ ہیں جو طوفان سے پہلے نو ح کے دور میں خُدا کے خلاف سنگین گناہ میں ملوث تھے( 1پطرس 3باب 20آیت)۔ بہرحال پطر س یہ نہیں بتاتا کہ یسوع نے قیدی رُوحوں میں کیا اعلان کیا تھا مگر یہ گناہوں سے مخلصی کا پیغام تو قطعی طور پر نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ فرشتے بچائے نہیں جا سکتے ( عبرانیوں 2باب 16آیت)۔ یقیناً یسوع نے شیطان اور قیدی رُوحوں پر اپنی فتح کا اعلان کیا ہو گا ۔( 1-پطرس 3 باب 22آیت؛ کلسیوں 2باب 15آیت)۔

ہو سکتا ہے کہ افسیوں 4باب 8- 10آیات یسوع کی اپنی موت اور جی اُٹھنے کے درمیان والے تین دن کی سرگرمیوں کے بارے کوئی اور اشارہ دیتی ہوں ۔ 68زبور 18آیت کا متن پیش کرتے ہوئے پولس رسول مسیح کے بارے میں کہتا ہے " جب وہ عالمِ بالا پر چڑھا تو قیدیوں کو ساتھ لے گیا اور آدمیوں کو انعام دئیے" افسیوں 4باب 8آیت)۔ بائبل مُقدس کا انگلش سٹنڈرڈ ورژن پیش کرتا ہے کہ مسیح نے " ایک قید ی گروہ کی قیادت کی" ۔ یہ ایک ایسے واقعے کی جانب اشارہ کرنے والا حوالہ ہے جو کلام ِ مقدس میں کہیں بھی بیان نہیں گیا ۔ اِس حوالے کی روشنی میں یوں لگتا ہے جیسے یسوع نے فردوس میں موجود تمام نجات یافتہ کو جمع کیا اور اُن کواُن کے مستقل آسمانی مکان میں لے گیا ہو۔ یعنی یہ کہ صلیب پر اُن کی نجات کو یقینی بنانے کے بعد یسوع نے ابراہام، داؤد، یشوع ، دانی ایل ، غریب لعزر ، صلیب پرایمان لانے والے ڈاکو اور ہر اُس شخص کو جو پہلے سےیسوع پر ایمان لا نے کےباعث راستباز ٹھہرایا جا چکا تھا اپنے ساتھ لیا اور اُن کی رہنمائی عالمِ ارواح سے اُن کے نئے روحانی گھر کی جانب کی ۔

یہ تمام بحث صرف یہ کہتی ہے کہ بائبل کُلی طور پر نہیں بتاتی کہ اصل میں مسیح نے اپنی موت اور جی اُٹھنے کے درمیانی تین دن میں کیا گیا تھا۔ ہم بس یہ بتا سکتے ہیں کہ اُس نے دو کام کیے تھے : اُس نے مرجانے والے مقدسوں کو آرام بخشا تھا اور انہیں اُن کے ابدی گھر میں پہنچایا اور اُ س نے اُن گرائے گئے فرشتوں پر اپنی فتح کا اعلان کیا جن کو قید میں رکھا گیا ہے ۔ جو بات ہم حتمی طور پر جان سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپنی موت کے بعد کسی طرح کی منادی کر کے یسوع یقینی طور پر گناہگاروں کے طور پر مر جانے والوں کی رُوحوں کو نجات پانے کا دوسرا موقع قطعی طور پر نہیں دے رہا تھا۔ موت کے بعد ہم نجات کا دوسرا موقع نہیں پا سکتے بلکہ خُدا کی عدالت کا سامنا کرتے ہیں۔ مزید یہ بھی کہ یسوع اپنی موت کے بعد جہنم میں کسی طرح کا دُکھ نہیں اُٹھا رہا تھا (جیسا کہ کچھ لوگ غلط تعلیم دیتے ہیں)اُس نےصلیب پر ہماری نجات کے کام کو مکمل کر دیا تھا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یسوع اپنے مرنے اور جی اُٹھنے کے درمیانی وقت میں کہاں پر تھا؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries