یسوع کو اِس قدر دُکھ کیوں اُٹھانا پڑا؟


سوال: یسوع کو اِس قدر دُکھ کیوں اُٹھانا پڑا؟

جواب:
یسوع نےاپنی آزمائشوں ، اذیتوں اور مصلوبیت کے دوران شدید تکلیف برداشت کی تھی ( متی 27؛ مرقس 15؛ لوقا 23؛ یوحنا 19باب)۔ اُس کی تکلیف جسمانی تھی: یسعیاہ 52باب 14آیت بیان کرتی ہے کہ "اور جس طرح بہتیرے تجھ کو دیکھ کر دنگ ہو گئے (اُس کا چہرہ ہر ایک بشر سے زائد اور اُس کا جسم بنی آدم سے زیادہ بگڑ گیا تھا)"۔ اُس کو جذبانی لحاظ سےتکلیف کا سامنا کرنا پڑا: "اِس پر سب شاگرد اُسے چھوڑ کر بھاگ گئے "( متی 26باب 56آیت)۔ اُس کی تکلیف روحانی بھی تھی:" جو گناہ سے واقف نہ تھا اُسی کو خُدا نے ہمارے واسطے گناہ ٹھہرایا"( 2کرنتھیوں 5باب 21آیت)۔ یسوع پر تمام جہاں کے گناہوں کا بوجھ لاد دیا گیا تھا ( 1یوحنا 2باب 2آیت)۔ اِس گناہ کے باعث یسوع چلّا اُٹھا " اے میرے خُدا، اے میرے خُدا، تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟" (متی 27باب 46آیت)۔ ہمارے گناہوں کی سزا برداشت کرنےاور ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کی خاطر صلیب پر جان دینے کے باعث یسوع کی جسمانی تکلیف میں اور بھی زیادہ اضافہ ہو گیا تھا ( رومیوں 5باب 8آیت)۔

یسعیاہ نبی نے یسوع کے دُکھ اور اذیت کی نشاند ہی پہلے ہی کر دی تھی: " وہ آدمیوں میں حقیر و مردُود۔ مردِ غم ناک اور رنج کا آشنا تھا۔ لوگ اُس سے گویا رُوپوش تھے اُس کی تحقیر کی گئی اور ہم نے اُس کی کچھ قدر نہ جانی۔ حالانکہ کہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کیا گیا اور ہماری بد کرداری کے باعث کچلا گیا۔ ہماری ہی سلامتی کےلئے اُس پر سیاست ہوئی تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم شفا پائیں" ( یسعیاہ 53باب 5،3آیات)۔ یہ حوالہ خاص طور بیان کرتا ہے کہ یسوع نے اتنی تکلیف کیوں اُٹھائی : " ہماری خطاؤں کے سبب سے " ہماری شفا اور ہمیں سلامتی بخشنے کےلیے ۔

یسوع نے اپنے شاگردوں کو بتادیا تھا کہ یقینی طور پر اُسے دُکھ اُٹھانا پڑے گا:" ضرور ہے کہ ابنِ آدم بہت دُکھ اُٹھائے اور بزرگ اور سردار کاہن اور فقیہہ اُسے ردّ کریں او روہ قتل کیا جائے اور تیسرے دن جی اُٹھے" ( لوقا 9باب 22آیت؛ 17باب 25آیت)۔ یہاں پر "ضرور" ایک قابلِ غورلفظ ہےجو اِس بات پر زور دیتا ہے کہ وہ "ضرور بہت دُکھ اُٹھائےگا "اور "ضرور قتل کیا جائےگا" ۔ مسیح کا دُکھ اُٹھانا دنیا کی نجات کےلیے خدا کے منصبوبے کا حصہ تھا ۔

22زبور 14- 18آیات مسیح کے چند دُکھوں کی تصویر کشی کرتی ہیں : " مَیں پانی کی طرح بہہ گیا۔ میری سب ہڈیاں اُکھڑ گئیں۔ میرا دل موم کی مانند ہو گیا۔ وہ میرے سینے میں پگھل گیا۔ میری قُوت ٹھیکرے کی مانند خشک ہو گئی اور میری زبان میرے تالُو سے چپک گئی اور تُو نے مجھے موت کی خاک میں ملا دیا۔ کیونکہ کُتوں نے مجھے گھیر لیا ہے۔ بدکاروں کی گروہ مجھے گھیرے ہوئے ہے۔ وہ میرے ہاتھ اور میرے پاؤں چھیدتے ہیں۔ مَیں اپنی سب ہڈیاں گن سکتا ہوں۔ وہ مجھے تاکتے اور گھورتے ہیں۔ وہ میرے کپڑے آپس میں بانٹتے ہیں اور میری پوشاک پر قُرعہ ڈالتے ہیں"۔ یسوع کو اِس طرح کی کئی پیشین گوئیوں کی تکمیل کےلیے دُکھ اُٹھانا پڑا۔

مگر یسوع کو اس قدر شدیدمصیبت میں پڑنے کی کیا ضرورت تھی؟جرم کےلیے بے گناہ کے مارے جانے کا اُصول تو باغِ عدن میں ہی قائم کر دیا گیا تھا: خدا نے آدم اور حوا کو چمڑے کے کرتے پہنائے تاکہ وہ اپنے برہنگی ڈھانپ سکیں ( پیدایش 3باب 21آیت) لہذا گناہ کو ڈھانپنے کےلیے باغِ عدن میں خون بہایا گیا تھا۔ اور بعد میں یہ اُصول موسیٰ کی شریعت میں مقرر کر دیا گیا تھا :" کیونکہ جسم کی جان خون میں ہے اور مَیں نے مذبح پر تمہاری جانوں کے کفارہ کے لئے اُسے تم کو دیا ہے کہ اُس سے تمہاری جانوں کے لئے کفارہ ہو کیونکہ جان رکھنے ہی کے سبب سے خون کفارہ دیتا ہے"(احبار 17باب 11آیت؛ عبرانیوں 9باب 22آیت)۔ یسوع کو اِس لیے دُکھ اُٹھانا پڑنا کیونکہ دُکھ اُٹھانا قربانی کا حصہ تھا اور یسوع خدا کا وہ برّ ہ ہے " جو جہان کے گناہ اُٹھا لیے جاتا ہے" ( یوحنا 1باب 29آیت)۔ یسوع کی جسمانی اذیت ہمارے گناہوں کی قیمت کا حصہ تھی۔ ہماری مخلصی "ایک بے عیب اوربے داغ برّے یعنی مسیح کے بیش قیمت خون سے" ہوئی ہے ( 1پطرس 1باب 19آیت)۔

صلیب پر یسوع کی تکلیف گناہ کی تباہ کُن فطرت، خدا کے غضب ، بنی نو ع انسان کے ظلم اور شیطان کی نفرت کو ظاہر کرتی ہے ۔ کلوری کے مقام پر بنی نو ع انسان کو ابنِ آدم کے ساتھ بد ترین سلوک کرنے کی اجازت دی گئی اور اس طرح وہ بنی نو ع انسان کےلیے مخلصی دینے والا بن گیا ۔ شیطان نے سوچا ہو گا کہ اُس نے ایک شاندار فتح حاصل کر لی ہے لیکن یہ صلیب کا دُکھ ہی تھا جس کے ذریعہ سے ابنِ خدا شیطان، گناہ اور موت پر فتح یاب ہوا تھا۔ " اب دُنیا کی عدالت کی جاتی ہے۔ اب دُنیا کا سردار نکال دیا جائے گا "( یوحنا 12باب 31آیت؛ کلسیوں 2باب 15آیت)۔

یسوع نےاُن زندگیوں کی نجات کی خاطر دُکھ اُٹھا یا اور وہ اُن کے لیے مواء جو اُس پر ایمان لاتے ہیں ۔ اپنے پکڑوائے جانے والی رات کو جب یسوع نے باغِ گتسمنی میں دُعا کی تو اُس نے ہر بات کو باپ کی مرضی پر چھوڑ دیا :" اے باپ اگر تُو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹالے تو بھی میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پُوری ہو "( لوقا 22باب 42آیت)۔ وہ اذیتوں کا پیالہ اُس سے ہٹایا نہیں گیا تھا بلکہ اُس نے ہماری خاطر اُسے پیا تھا ۔ کیونکہ ہماری نجات کےلیے اِس کے سواکوئی اور راستہ نہیں تھا۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
یسوع کو اِس قدر دُکھ کیوں اُٹھانا پڑا؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں