settings icon
share icon
سوال

کیا یسوع گناہ سے مبّرہ تھا ؟

جواب


جی ہاں ! یسوع گناہ سے مبّرہ تھا، اور یسوع کے گناہ سے مبّرہ ہونے کی وجہ سے ہی ہمیں آسمان پر ابدی زندگی کی اُمید ہے۔ اگر یسوع گناہ سے مبّرہ نہ ہوتا تو وہ ہمارے گناہ کی قربانی نہ بن پاتا۔ باغِ عدن میں آدم اور حوّا کی طرف سے کی گئی نافرمانی کی وجہ سے گناہ اِس دُنیا کے اندر آیا (پیدایش 3باب6آیت)۔ اور اُن کے گناہ کی وجہ سے موت بھی آئی جیسا کہ خُدا نے اُنہیں خبردار بھی کیا تھا (پیدایش 2باب17آیت)۔ اِس سب کے نتیجے کے طور پر تمام بنی نوع انسان اب گناہ آلود فطرت کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں (رومیوں 5باب12-19آیات)، اور یہ گناہ آلود فطرت انسان کے پیٹ میں پڑنے کے وقت سے ہی شروع ہو جاتی ہے (51 زبور 5آیت)۔ بائبل اِس بات کو واضح کرتی ہے کہ خُداوند یسوع مسیح اگرچہ ہماری طرح ہر ایک چیز میں آزمایا گیا (عبرانیوں 4باب15آیت)، لیکن اُس نے کبھی بھی گناہ نہیں کیا تھا (2 کرنتھیوں 5باب21 آیت؛ 1 یوحنا 3باب5آیت)۔ پطرس رسول نے اِس بات کو بڑے واضح طور پر بیان کیا ہے کہ : " نہ اُس نے گُناہ کِیا اور نہ اُس کے منہ سے کوئی مکر کی بات نکلی " (1 پطرس 2باب22آیت)۔ یقینی طور پر جیسا کہ خُداوند یسوع مسیح خُدا ہے، وہ کبھی بھی گناہ نہیں کر سکتا۔

مزید برآں خالق خُدا اور ہمارے درمیان فرق پیدا کرنے والی ایک اور چیز یہ ہے کہ اپنی گناہ آلود فطرت کی وجہ سے ہم فطری اور ابدی طور پر ہلاکت کا شکار ہو سکتے ہیں "گناہ کی مزدوری موت ہے" (رومیوں 6باب23آیت)۔ اب خُدا کے ساتھ صلح کرنے کے لیے ہمیں معافی کی ضرورت ہے اور "بغیر خون بہائے معافی نہیں ہوتی" (عبرانیوں 9باب22آیت)۔ آدم اور حوّا کے گناہ کرنے کے بعد خُدا نے اُنہیں "چمڑے کے کُرتے " پہنائے (پیدایش3 باب21آیت) اور اُس چمڑے کے حصول کے لیے لازمی طور پر کوئی نہ کوئی بے گناہ جانور ذبح کیا گیا ہوگا۔ اُس کے بعد بہت سارے جانوروں کی قربانی دی گئی جس سے یہ ثابت ہوتا ہے گناہ موت کا تقاضا کرتا ہے اور یہ کہ جانوروں کی قربانی گناہ کو محض عارضی طور پر ہی ڈھانپتی ہے۔ کسی بھی جانور کی قربانی کبھی بھی گناہ کا مکمل خاتمہ نہیں کرتی۔

پرانے عہد نامے کی سبھی قربانیاں خُداوند یسوع کے" ایک ہی بار قُربان " ہونے کا عکس تھیں (عبرانیوں 7باب27آیت؛ 10باب 10آیت)۔ پاک اور کامل خُدا کے ساتھ صلح کرنے کا ہمارا واحد راستہ پاک اور کامل قربانی پیش کرنے کے وسیلے ہی ممکن ہے ۔ اگر خُداوند یسوع گناہ سے مبّرہ نہ ہوتا تو خُدا کے ساتھ صلح کرنا ہمارے لیے قطعی طور پر ممکن نہ ہوتا۔ جیسا کہ پطرس نے بیان کیا ہے کہ " کیونکہ تم جانتے ہو کہ تمہارا نِکما چال چلن جو باپ دادا سے چلا آتا تھا اُس سے تمہاری خلاصی فانی چیزوں یعنی سونے چاندی کے ذرِیعہ سے نہیں ہُوئی۔بلکہ ایک بے عیب اور بے داغ برّے یعنی مسیح کے بیش قیمت خُون سے " (1پطرس 1باب18-19آیات)۔ بلاشک یہ یسوع مسیح کا گناہ سے پاک خون ہی ہے جو ہمارے اور خُدا کے درمیان صلح اور اَمن قائم کرتا ہے (کلسیوں 1باب20آیت)۔ اور اِس صلح کی بدولت ہم خُدا کی نظر میں مُقدس، بے عیب اور بے الزام ٹھہر سکتے ہیں(کلسیوں 1 باب22 آیت)

گناہ سے مبّرہ مسیح کی کوہِ کلوری پر صلیبی موت نے اُن سب لوگوں کے گناہوں کا کفارہ ادا کر دیا ہے جو اُس پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لاتے ہیں۔ پس آدم اور حوّا کے گناہ میں گرنے کی وجہ سے جو کچھ باغِ عدن میں کھو گیا تھا وہ کوہِ کلوری پر واپس مل گیا۔ جس طرح سے ایک آدمی (آدم) کے ذریعے سے گناہ دُنیا میں داخل ہوا، اُسی طرح سے خُدا نےاِس دُنیا کو ایک اور آدمی –خُداوند یسوع مسیح کے گناہ مبّرہ خون – کے وسیلے سے نجات دی۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا یسوع گناہ سے مبّرہ تھا ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries