یسوع تمثیلوں میں کیوں تعلیم دیتا تھا؟


سوال: یسوع تمثیلوں میں کیوں تعلیم دیتا تھا؟

جواب:
کہا جاتا ہے کہ ایک تمثیل رُوحانی و آسمانی معنی کی حامل ایک دنیاوی کہانی ہوتی ہے ۔ یسوع مسیح نے تمثیلوں کو گہری اور الٰہی سچائیو ں کی تشریح کے ایک ذریعے کے طور پر بکثرت استعمال کیا تھا ۔ اس طرح کی کہانیاں آسانی سے یاد ہو جاتی ہیں ، اِن کے کردار بڑے واضح ہوتے ہیں اور اِ ن کا علامتی مفہوم کافی گہرا ہوتا ہے ۔ یہودیت میں تمثیلیں تعلیم دینے کا ایک عام طریقہ تھیں ۔ اپنی خدمت کے ایک خاص وقت سے پہلے یسو ع نے اُن عام چیزوں ( نمک، روٹی، بھیڑ، وغیرہ ) کو بروئے کارلاتے ہوئے بہت سی تصوراتی تشبیہات کا استعمال کیا تھا جن سے ہر کوئی بخوبی واقف تھا اور جن کا مفہوم اُس کی تعلیم کے سیاق و سباق میں پوری طرح واضح تھا ۔ تمثیلوں کو مزید وضاحت کی ضرورت تھی اور ا پنی خدمت کے ایک حصے میں یسوع نے تمثیلوں کو خصوصی طور پر استعمال کرنا شروع کیا تھا ۔

سوال یہ ہے کہ اپنی تمثیلوں کے مفہوم کے بارے میں یسوع نے زیادہ تر لوگوں کو حیرت زدہ اور تذبذب میں کیوں رہنے دیا تھا ؟ اِس قسم کی صورتحال کا پہلا موقع اُس کی طرف سے بیج بونے اور مختلف طرح کی زمین کی تمثیل ہے۔ اس تمثیل کی تشریح کرنے سے پہلے اُس نے اپنے شاگردوں کو ہجوم سے الگ کر لیا تھا ۔ اُنہوں نے یسوع سے کہا"تُو اُن سے تمثیلوں میں کیوں باتیں کرتا ہے؟"یسوع نے جواب میں اُن سے کہا کہ " تم کو آسمان کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر اُن کو نہیں دی گئی۔ کیونکہ جس کے پاس ہے اُسے دِیا جائے گااور اُس کے پاس زِیادہ ہو جائے گااور جس کے پاس نہیں ہے اُس سے وہ بھی لے لِیا جائے گاجو اُس کے پاس ہے۔ مَیں اُن سے تمثیلوں میں اِس لئے باتیں کرتا ہوں کہ وہ دیکھتے ہوئے نہیں دیکھتے اور سنتےہوئے نہیں سنتے اور نہیں سمجھتے۔ اور اُن کے حق میں یسعیا ہ کی یہ پیشن گوئی پُوری ہوتی ہے کہ تم کانوں سے سنو گے پر ہرگز نہ سمجھو گے اور آنکھوں سے دیکھو گے پر ہرگز معلوم نہ کرو گے۔ کیونکہ اِس اُمّت کے دِل پر چربی چھا گئی ہے اور وہ کانوں سے اُونچا سنتے ہیں اور اُنہوں نے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں تااَیسا نہ ہو کہ آنکھوں سے معلوم کریں اور کانوں سے سنیں اور دِل سے سمجھیں اور رجوع لائیں اور مَیں اُن کوشفا بخشوں۔ لیکن مُبارک ہیں تمہاری آنکھیں اِس لئے کہ وہ دیکھتی ہیں اور تمہارے کان اِس لئے کہ وہ سنتے ہیں۔ کیونکہ مَیں تم سے سچ کہتا ہوں کہ بہت سے نبیوں اور راستبازوں کو آرزُو تھی کہ جو کچھ تم دیکھتے ہو دیکھیں مگر نہ دیکھا اور جو باتیں تم سنتے ہو سنیں مگر نہ سُنِیں"( متی 13باب 10-17آیات)۔

اپنی خدمت کے اُس وقت سے جب اُس نے تمثیلوں میں کلام کرنا شروع کیا تھا وہ اِن تمثیلوں کی وضاحت صرف اپنے شاگردوں کے سامنے ہی کرتا تھا لیکن وہ لوگ جو اُس کی تعلیم کی مسلسل تردید کرتے رہے اُنہیں اُن کے رُوحانی اندھے پن میں چھوڑ دیا گیاتا کہ حیران ہوں کہ اِن تمثیلوں کے کیا معنی ہیں۔ اُس نے ان دونوں طرح کے لوگوں کے درمیان واضح فرق کیا تھا ایک وہ جن کو " سُننے کے کان " دئیے گئے اور دوسرے وہ جو کلام سُننے کے بعد بھی اپنی بے اعتقادی پر قائم تھے مگر اصل میں اسے کبھی نہیں سمجھتے اور " ہمیشہ تعلیم( پاتے رہتے ) ہیں مگرحق کی پہچان تک کبھی نہیں پُہنچتے " ( 2 تیمتھیس 3باب 7آیت)۔ شاگردوں کو رُوحانی باتوں کو سمجھنے کی نعمت بخشی گئی تھی جس کے باعث رُوح کی باتیں اُن پر واضح ہو جاتی تھیں ۔ چونکہ شاگردوں نے یسوع کی طرف سے سچائی کو قبول کیا تھا لہذا اُنہیں مزید سچائی کا علم بخشا گیا ۔ آج یہ بات اُن ایمانداروں کے حق میں بھی درست ثابت ہوتی ہے جن کو اُس رُوح القدس کی نعمت بخشی گئی ہے جو تمام طرح کی سچائی میں ہماری رہنمائی کرتا ہے ( یوحنا 16باب 13 آیت)۔ اُس نے ہماری آنکھیں حق کی روشنی کےلیے اور ہمارے کانوں کو ہمیشہ کی زندگی کے میٹھے کلام کے لیے کھولا ہے ۔

خداوند یسوع جانتا تھا کہ سچائی سب کے کانوں کے لیے سُریلا سنگیت نہیں ہے ۔ سادہ الفاظ میں کہیں تو کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کو نہ تو خدا کی گہری باتوں میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی اُن باتوں کا کوئی لحاظ ہے ۔ لہذا وہ تمثیلوں میں کلام کیوں کرتا تھا ؟ خدا کے کلام کے حقیقی بھوکے اور پیاسے لوگوں کےلیے تمثیل الٰہی سچائیوں کی فراہمی کےلیے ایک موثر اور زیادہ دیر تک یاد رہنے والا ذریعہ ہے ۔ یسوع مسیح کی تمثیلوں میں الفاظ کی تعداد بہت کم ہے مگر یہ سچائی کی ایک بڑی مقدار کی حامل ہیں ۔ اُس کی تمثیلیں تصورات سے بھرپُور ہیں جو آسانی سے بھولتی نہیں ۔ لہذا قبول کرنے والے کانوں کےلیے تمثیل ایک برکت ہے لیکن بے حس دلوں اور سُننے میں سُست کانوں کے حامل لوگوں کےلیے یہی تمثیل عدالت کا اعلان ہے ۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
یسوع تمثیلوں میں کیوں تعلیم دیتا تھا؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں