settings icon
share icon
سوال

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟

جواب


اگر ہم یسوع کو محض ایک انسان خیال کریں تو یہ سوال کرنا ایک فطری بات ہے۔ لیکن یسوع کو جس وجہ سے جہنم میں ابدیت گزارنے کی ضرورت نہیں تھی وہ یہ ہے کہ وہ محض ایک انسان نہیں بلکہ مجسم خدا ہے۔ خدائے ثالوث کے دوسرے اقنوم نے جسم اختیار کیا اور ایک انسان کی شکل میں لوگوں کے درمیان زندگی بسر کی۔ لیکن وہ دوسرے انسانوں کی طرح نہیں تھا کیونکہ اُس کی فطرت بھی خدا جیسی تھی - مُقدس، کامل اور لامحدود۔

یوحنا کی انجیل کی ابتدائی سطور جیسے کئی حوالے اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہیں ۔ وہاں ہم درج ذیل الفاظ کو پڑھتے ہیں:"اِبتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا۔ یہی اِبتدا میں خُدا کے ساتھ تھا۔ سب چیزیں اُس کے وسیلہ سے پیدا ہُوئیں اور جو کچھ پَیدا ہُوا ہے اُس میں سے کوئی چیز بھی اُس کے بغیر پَیدا نہیں ہُوئی۔ اور کلام مُجسّم ہُوا اور فضل اور سچّائی سے معمُور ہو کر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُس کا اَیسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اِکلَوتے کا جلال"(یوحنا 1باب 1-3، 14آیات)۔

یہ حوالہ اس بات کی واضح گواہی دیتا ہے کہ ابدی کلام جو خدا کے ساتھ ابدی اور جوہر میں خدا جیسا ہے وہ انسانی بدن کے ساتھ ہمارے درمیان رہا("اپنا خیمہ لگایا" یا "قیام کیا") ۔ جیسا کہ پولس رسول یسوع کے بارے میں کہتا ہےکہ"اُلُوہِیّت کی ساری معمُوری اُسی میں مُجسّم ہو کر سکُونت کرتی ہے" (کلسیوں 2باب 9آیت)۔

اِن باتوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے آئیں اس سوال کو مزید گہرائی سے دیکھتے ہیں۔ یہ بات یقیناً سچ ہے کہ ہمارے گناہوں کی سزا جہنم میں ابدیت گزارنا ہے۔ بائبل فرماتی ہے کہ سب نے گناہ کیا ہے (رومیوں 3باب 23آیت) اور ہمارے گناہ کی مزدوری موت ہے (رومیوں 6باب 23آیت)۔ مکاشفہ کی کتاب بیان کرتی ہے کہ جن کے نام برّہ کی کتابِ حیات میں درج نہیں ہیں اُنہیں آگ کی جھیل میں ڈال دیا جاتا ہے جہا ں وہ " دن اور رات ابدالآباد عذاب میں رہیں گے " (مکاشفہ 20باب 10، 15آیات)۔

لیکن یسوع کی موت ہر اس شخص کے گناہوں کا کفارہ کیسے دے سکتی ہے جو اب تک دنیا پر رہ چکا ہے ؟ یہیں سے یسوع کے مجسم خدا ہونے کی حقیقت اس بحث کا حصہ بنتی ہے۔ اگر یسوع ( اپنے گناہوں سمیت)محض ایک انسان ہوتا تو اُس کی موت دوسروں کے گناہوں کاتو دُور، اُس کے اپنے گناہوں کا کفارہ نہیں ہونی تھی ۔ لیکن یسوع محض انسان نہیں ہے؛ وہ مجسم خدا ہے۔ ایک انسان ہونے کے ناطے وہ اُن لوگوں میں شمار ہو سکتا ہے جن کے لیے اس نے خود کو قربان کیا تھا۔ ایک کامل اور گناہ سے مبّرا انسان کی حیثیت سے وہ پہلے اپنے گناہ کا کفارہ ادا کیے بغیر بنی نوع انسان کے گناہوں کا کفارہ دے سکتا ہے ۔ بالآخر بطورِ خدا وہ اُس الٰہی غضب کو پوری طرح ٹھنڈا کر سکتا ہے جس کا باعث ہمارے گناہ ہیں ۔

ایک لامحدود خُدا کے خلاف گناہ کی سزا بھی لامحدو طور پر ادا کرنے ہوگی ۔ اس لیے ہمارے گناہ کی قیمت کی ادائیگی بھی لامحدود ہونی چاہیے۔ لامحدود ادائیگی کے لیے صرف دو راستے ہیں۔ یا تو ایک محدود مخلوق (انسان) کو اپنے گناہ کی لامحدود وقت کے لیے ادائیگی کرنی پڑے گی یا ایک لامحدود ہستی (یسوع) کو ایک ہی بار تمام انسانوں کی خاطر ہمیشہ کے لیے اِس کی ادائیگی کرنی ہو گی ۔ اس کے علاوہ کوئی اور طریقہ نہیں ۔ ایک لامحدود مُقدس خُدا کے خلاف کیا گیا گناہ بطور ادائیگی ایک ایسے ہی لامحدود کفارے کا تقاضا کرتا ہے اور یہاں تک کہ جہنم میں ابدیت گزارنا بھی گناہ کے خلاف خُدا کے لامحدود اورراست غضب کو ختم نہیں کر پائے گا۔ صرف ایک الٰہی ہستی ہی ہمارے گناہ کے خلاف مُقدس خُدا کے لامحدود غضب کا سامنا کر سکتی ہے۔ لہذا یہ حقیقت خدا کے غضب کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بنی نوع انسان کے عوضی کے طور پر ایسی ہی لامحدود ہستی کا تقاضا کرتی ہے۔ یسوع مجسم خدا کی حیثیت سے واحد ممکنہ نجات دہندہ ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اعمال 2باب 38آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ بپتسمہ نجات حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries