settings icon
share icon
سوال

کیا یسوع اَمن کا حامی ہے ؟

جواب


اَمن کا حامی وہ شخص ہوتا ہے جو کسی بھی مقصد کے لیے ہونے والے ظلم و تشدد ، بالخصوص جنگ و جدل کی مخالفت کرتا ہے۔ اَمن کا حامی اکثر ضمیر کی آواز یا مذہبی رجحان کی وجہ سے ہتھیار اُٹھانے سے انکار کرتا ہے ۔

خُداوند یسوع اِس لحاظ سے "اَمن کا شہزادہ " ہے (یسعیاہ 9باب6آیت) کہ وہ ایک دن اِس زمین پر حقیقی اور ہمیشہ قائم رہنے والا اَمن لے کر آئے گا۔ اور اِس دُنیا کے اندر اُس کا پیغام بھی حیرت انگیز طور پر غیر متشدد تھا (متی 5باب38-44آیات)۔ لیکن بائبل اِس بات کے حوالے سے بالکل واضح ہے کہ کئی بار جنگ و جدل ناگزیر ہوتا ہے (دیکھئے 144 زبور 1آیت)۔ اگر بائبل میں سے خُداوند یسوع مسیح کے بارے میں کچھ پیشین گوئیوں کو دیکھا جائےتو اُس صورت میں یسوع کو اَمن کا حامی قرار دینا مشکل لگتا ہے۔ مکاشفہ 19باب25آیت یسوع کے بارے میں کچھ اِس طرح سے بیان کرتی ہےکہ ، "قوموں کے مارنے کے لئے اُس کے مُنہ سے ایک تیز تلوار نکلتی ہے اور وہ لوہے کے عصا سے اُن پر حکومت کرے گا اور قادِرمطلِق خُدا کے سخت غضب کی مَے کے حَوض میں انگور رَوندے گا۔ " خُداوند یسوع مسیح کی ہزار سالہ بادشاہی کے قیام کے لیے مخالفِ مسیح اور اُس کی فوجوں کے خلاف تشدد اور جنگ و جدل کرنا لازمی ہوگا۔

جس وقت یسوع اُس رومی صوبہ دار سے ملا جس کا نوکر فالج زدہ تھا ، یسوع نے اپنے لیے اُس صوبہ دار کی طرف سے حمدوثناء اور پرستش کو قبول کیا اور اُس صوبہ دار کے ایمان کی وجہ سے اُس کی تعریف کی (متی 8باب5-13آیات)۔ لیکن یسوع نے اُس صوبہ دار سے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ فوج کی نوکری چھوڑ دے – اُس کی وجہ یہ ہے کہ یسوع محض مذہبِ امن/مصالحت پسندی کا پرچار نہیں کر رہا تھا۔ یوحنا اصطباغی کا سامنا بھی سپاہیوں سے ہوا تھا اور اُنہوں نے اُس سے پوچھا تھا کہ "ہمیں کیا کرنا چاہیے؟"( لوقا 3باب14آیت)۔ یہ یقیناً یوحنا اصطباغی کے لیے سب سے بہترین موقع تھا جب وہ اُنہیں کہہ سکتا تھا کہ اپنے ہتھیار پھینک دو اور فوج کی نوکری چھوڑ دو، لیکن اُس نے ایسا نہیں کیا۔ یوحنا نے اُن سپاہیوں سے کہا کہ " نہ کسی پر ظلم کرو اور نہ کسی سے ناحق کچھ لو اور اپنی تنخواہ پر کفایت کرو۔ "

یسوع کے شاگردوں میں سے چند ایک کے پاس ہتھیار بھی تھے اور یہ حقیقت اِس تصور سے متصادم ہے کہ یسوع اَمن کا حامی تھا۔ جس رات یسوع پکڑوایا گیا اُس نے اپنے شاگردوں سے کہا بھی تھا کہ وہ اپنے ساتھ تلواریں رکھیں ، شاگردوں نے یسوع کو بتایا کہ اُن کے پاس دو تلواریں ہیں جس پر اُس نے کہا کہ کافی ہیں (لوقا 22باب 37-39آیات)۔ جس وقت یسوع کو گرفتار کیا جا رہا تھا ، پطرس نے اپنی تلوار نکالی اور وہاں پر موجود ایک شخص کو زخمی کر دیا (یوحنا 18باب10آیت)۔ یسوع نے اُس آدمی کو شفا بخشی (لوقا 22باب51آیت)، اور پطرس کو حکم دیا کہ وہ اپنی تلوار کو میان میں رکھے (یوحنا 18باب 11آیت)۔ یہاں پر یہ بات قابلِ غور ہے کہ خُداوند یسوع نے پطرس کے تلوار رکھنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا لیکن اُس نے اُس کی طرف سے تلوار کے غلط استعمال کی مذمت کی۔

واعظ کی کتاب زندگی کی مختلف سرگرمیوں کا موازنہ پیش کرتے ہوئے زندگی کے توازن کو پیش کرتی ہے: " ہر چیز کا ایک موقع اور ہر کام کا جو آسمان کے نیچے ہوتا ہے ایک وقت ہے ۔ مار ڈالنے کا ایک وقت ہے اور شِفا دینے کا ایک وقت ہے ۔ ڈھانے کا ایک وقت ہے اور تعمیر کرنے کا ایک وقت ہے۔ مُحبّت کا ایک وقت ہے اور عداوت کا ایک وقت ہے ۔ جنگ کا ایک وقت ہے اور صلح کا ایک وقت ہے " (واعظ3باب1، 3 اور 8آیات) ۔ یہ کسی اَمن کے حامی کے الفاظ نہیں ہیں۔

جس وقت یسوع نے یہ کہا کہ " یہ نہ سمجھو کہ مَیں زمین پر صلح کرانے آیا ہُوں ۔ صلح کرانے نہیں بلکہ تلوارچلوا نے آیا ہُوں۔کیونکہ مَیں اِس لئے آیا ہُوں کہ آدمی کو اُس کے باپ سے اور بیٹی کو اُس کی ماں سے اور بہُو کو اُس کی ساس سے جُدا کر دُوں۔اور آدمی کے دُشمن اُس کے گھر ہی کے لوگ ہوں گے۔ " (متی 10باب34-36آیات) تو اِن الفاظ کی روشنی میں وہ قطعی طور پر اَمن کا حامی نظر نہیں آتا۔ اگرچہ یسوع جنگ و جدل کی شرط نہیں رکھتا لیکن سچائی کی مداخلت کی وجہ سے جو تنازعات پیدا ہوتے ہیں وہ اُنہیں قبول کرتا ہے۔

ہمیں کبھی بھی لفظی طور پر یہ حکم نہیں دیا گیا کہ ہم اَمن کے حامی بنیں۔ اِس کے برعکس ہمیں حکم ملا ہے کہ ہم بدی سے نفرت رکھیں اور نیکی سے لپٹے رہیں (رومیوں 12باب9آیت)۔ ایسا کرنے کی صورت میں ہمیں اِس دُنیا کے اندر موجود بدی اور ظلم و ستم کے خلاف کھڑا ہونا پڑے گا اور ہمیشہ ہی اچھائی کو قائم رکھنے کے لیے کوشش کرنی ہوگی]اور یہ چیز ایک تنازعے کا مطالبہ کرتی ہے[ (2 تیمتھیس 2باب22آیت)۔ یسوع نے اِس نمونے کو حتمی شکل دی ہے اور جب خُدا کی حاکمیت کے منصوبے کی تکمیل کی بات ہو تو اُس نے کبھی بھی تنازعات کی پرواہ نہیں کی۔ یسوع نے اپنے دور کے مذہبی اور سیاسی قائدین کے خلاف کھل کر تعلیم دی تھی کیونکہ وہ خُد اکی راستبازی کی تلاش میں نہیں تھے (لوقا 13باب21-32آیات؛ 19 باب 45-47آیات)۔

جب بدی کو شکست دینے کی بات آتی ہے تو وہاں پر خُدا قطعی طور پر اَمن کا حامی نہیں ہے۔ پرانہ عہد نامہ ایسی بہت ساری مثالوں سے بھرا پڑا ہے جہاں پر خُدا نے اُن قوموں کی عدالت کرنے کے لیے جن کے گناہ پورے ہوگئے تھے اپنے لوگوں یعنی اسرائیل کو اُن کے خلاف جنگ کرنے کے لیے استعمال کیا ۔ اُن میں سے چند ایک مثالیں پیدایش 15باب16آیت؛ گنتی 21باب3آیت؛ 31باب1-7آیات؛ 32باب20-21آیات؛ اِستثنا 7باب1-2آیات؛ یشوع 6باب20-21آیات؛ 8باب1-8آیات؛ 10باب29-32آیات؛ 11باب7-20آیات ہیں۔ یریحو کی جنگ سے پہلے یشوع کی ملاقات " خُداوند کے لشکر کے سردار " کے ساتھ ہوئی تھی (یشوع 5باب14آیت)۔ یہ شخصیت جس کے بارےمیں خیال کیا جاتا ہے کہ تجسم سے پہلے یسوع مسیح ہے، اُس کے ہاتھ میں " ننگی تلوار " تھی (13آیت)۔ خُداوند لڑنے کے لیے تیار تھا۔

ہم اِس حوالے سے پُر یقین ہو سکتے ہیں کہ خُدا ہمیشہ ہی عدل و انصاف کے تقاضوں کے بالکل مطابق لوگوں کی عدالت کرتا اور قوموں کے خلاف جنگ کرتا ہے (مکاشفہ 19باب11آیت)۔ " کیونکہ اُسے ہم جانتے ہیں جس نے فرمایا کہ اِنتقام لینا میرا کام ہے ۔ بدلہ مَیں ہی دُوں گااور پِھر یہ کہ خُداوند اپنی اُمّت کی عدالت کرے گا۔زِندہ خُدا کے ہاتھوں میں پڑنا ہَولناک بات ہے " عبرانیوں 10باب30-31آیات)۔ پس بائبلی حوالہ جات سے جو بات ہم سیکھتے ہیں وہ یہ ہے کہ ہم صرف انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہی جنگ میں حصہ لے سکتے ہیں۔ کسی بھی طرح کے ظلم و تشدد، نا انصافی یا نسل کُشی کا سامنا کرنا مسیحیوں کے لیےجنگ کو جائز اور لازم بنا دیتا ہے، پس ہم ایمان رکھتے ہیں کہ ایسی صورتوں میں مسیح کے پیروکار مسلح افواج کا حصہ بن سکتے ہیں اور وہ جنگ و جدل میں بھی حصہ لے سکتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا یسوع اَمن کا حامی ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries