settings icon
share icon
سوال

کیا یسوع ایک افسانوی کردار ہے؟کیا یسوع قدیم مذاہب کے دیوتاؤں کی نقل ہے ؟

جواب


بہت سے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ نئے عہد نامے میں یسوع کے بارے میں پیش کی جانے والی تمام تفصیلات قدیم غیر اقوام کی افسانوی داستانوں جیسے کہ اوسائرس ، ڈائیونیسس، اڈونیس ، ایٹَس اور میتھراکی کہانیوں سے اخذ کردہ افسانوی کہانیاں ہیں ۔ اصل دعویٰ یہ ہے کہ یہ افسانوی قصے بنیادی طور وہی کہانی پیش کرتے ہیں جیسی کہانی ناصرت کے یسوع مسیح کے بارے میں نیا عہد نامہ بیان کرتا ہے ۔ جیسا کہ دی ڈا ونسی کوڈ(The Da Vinci Code) میں ڈین براؤن دعویٰ کرتا ہے کہ " مسیحیت میں کچھ بھی اصلی نہیں ہے ۔"

جو دعویٰ یہ کہتا ہے کہ انجیل کے مصفین نے یہ تمام تفصیلات قدیم غیر اقوام کے افسانوی قصے کہانیوں سے لی ہے، اِس کے بارے میں حقیقت کو دریافت کرنے کے لیےضروری ہے کہ (1) ان دعوؤں کے پیچھے تاریخ کی کھوج کی جائے (2) مسیح کے مقابلے میں جھوٹے معبودوں/دیوتاؤں کی اصل تصویر یا اُن کے اصل تصور کی جانچ پڑتا ل کی جائے، (3) کسی بھی طرح کے خود ساختہ یا تشکیل کردہ منطقی مغالطوں /غلطیوں کو بے نقاب کیا جائے ( 4) اور اس کے ساتھ ساتھ نئے عہد نامےکی اناجیل میں پیش کردہ یسوع مسیح کی حقیقی اور تاریکی تصویر کو واضح طور پر پیش کیا جائے۔

یسوع مسیح کے ایک افسانوی کردار ہونے یا اُس کے بارے میں بیان کرنے والی اصل تحریروں میں تحریف اور اضافہ ہونے کا دعویٰ انیسویں صدی کے آزاد خیال جرمن مذہبی عالمین کی تصانیف کے ساتھ شروع ہوا تھا ۔ بنیادی طور پراُن کا کہنا تھا کہ یسوع مختلف علاقوں مثلاً میسوپتامیہ میں تموُز، شام میں اڈونیس، ایشیائےکوچک میں ایٹس اور مصر میں حو رس کی طرح کے مرنے اور جی اُٹھنے والے زرخیزی کے دیوتاؤں کی نقل سے بڑھ کر کچھ اور نہیں ہے۔ غور طلب حقیقت یہ ہے کہ اِن نظریات پر مشتمل کسی بھی کتاب کو اُس وقت کے تعلیمی ماہرین کی طرف سے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تھا ۔ مثال کے طور پر جب یہ دعویٰ کیا گیا کہ یسوع تمُوز کی ہی ایک نئی شکل ہے تو اُس دُور کے عالمین نے اِس دعوے کی تحقیق کی تھی اور یہ فیصلہ سنایا تھا کہ یہ دعویٰ مکمل طور پر بے بنیاد ہے ۔ بنیادی طور پر حالیہ دور میں انٹرنیٹ کے عروج اور بے لگام ذرائع سے معلومات کی بڑے پیمانے پر ترسیل کے سبب سے یہ دعوے دوبارہ سامنے آر ہے ہیں ۔

یہ بات ہماری رہنمائی تفتیش و تحقیق کے اگلے حصے کی جانب کرتی ہے کہ کیا قدیم افسانوی معبود/دیوتا یسوع مسیح کی شخصیت کا حقیقی عکس دکھاتے ہیں؟ مثال کے طور پر جیسے کہ "زائیٹ گائسٹ(Zeitgeist)" فلم مصری دیوتا حورس کے بارے میں درج ذیل دعوئے کرتی ہے:

• حورس 25 دسمبر کو ایک کنواری سےپیدا ہوا جس کا نام "آئیسِس میری " تھا۔

• مشرق میں ایک ستارے نے اُس کی پیدایش کا اعلان کیا تھا۔

• تین بادشاہ نومولود " نجات دہندہ " کو سجدہ کرنے آئے تھے ۔

• وہ 12 سال کی عمر میں غیر معمولی کم سن اُستاد بن گیا تھا۔

• اُس نے 30 سال کی عمر میں "بپتسمہ " لے کر اپنی " خدمت" کا آغاز کیا تھا ۔

• حورس کے بارہ " شاگرد" تھے۔

• حورس کو دھوکا دیا گیا تھا۔

• اُسے مصلوب کیا گیا تھا۔

• اُسے تین دن کےلیے دفن کیا گیا تھا ۔

• تین دن کے بعد وہ جی اُٹھا تھا۔

تاہم جب حورس کے بارے میں اصل تصانیف کا بغورتجزیہ کیا جاتا ہے تو ہمیں مندرج ذیل معلومات حاصل ہوتی ہے :

• حورس آئیسِس سے پیدا ہوا تھا ؛ مگر تاریخ میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ وہ "میری" کہلاتی تھی ۔ مزید یہ کہ یسوع کی ماں کا اصل نام مریم ہے، مریم لفط کو جب انگریز زبان میں ڈھالا گیا تو اِس کو "میری" پڑھا یا لکھا گیا۔ اگر کلامِ مُقدس کے اصل یونانی متن میں بھی دیکھیں تو وہاں پر یسوع کی ماں کے نام کو "میری" کے طور پر بیان نہیں کیا گیا۔

• آئیسِس کنواری نہیں تھا وہ اوسائرس کی بیوہ تھی اور حورس اوسائرس سے پیدا ہوا تھا ۔

• حورس دسمبر کی بجائے کھو یاک کے مہینے (Khoiak-اکتوبر/نومبر) میں پیدا ہوا تھا ۔ مزید برآں بائبل مُقدس میں مسیح کی تاریخ پیدایش کے حوالے سے مہینے یا تاریخ کو تفصیلی طور پر بیان نہیں کیا گیا ۔

• ایسا کوئی ریکارڈ نہیں ہے کہ حورس کی پیدایش کے وقت تین بادشاہ اُس کے پاس آئے تھے ۔ بائبل مسیح کو دیکھنے کےلیے آنے والے مجوسیوں کی اصل تعداد کا کبھی ذکر نہیں کرتی ۔

• حورس کسی بھی لحاظ سے " نجات دہندہ " نہیں ہے کیونکہ اُس نے کسی بھی انسان کی خاطر اپنی جان نہیں دی تھی۔

• حورس کے 12سال کی عمر میں استاد بننے کے بارے میں کوئی معلومات موجود نہیں ۔

• حورس کو " بپتسمہ" نہیں دیا گیا تھا ۔ پانی کے ذکر کے ساتھ حورس کے بارے میں صرف ایک کہانی موجود ہے جس میں اُسکے ٹکڑے ٹکڑے کر کےاُسے پانی میں پھینک دیا گیا تھا، پھر آئیسِس دیوی نے مگرمچھ دیوتا سے درخواست کی کہ وہ اُسے پانی سے باہر پھینک دے۔

• حورس کے پاس کوئی " خدمت" نہیں تھی ۔

• حورس کے 12 شاگرد نہیں تھے ۔ حورس کے بارے میں تاریخی تفصیلات کے مطابق اُس کے پاس چار نیم دیوتا تھے جو اُس کی پیروی کرتے تھے اور 16انسانی پیروکاروں اور لوہاروں کی نا معلوم تعداد کے بارے میں بھی کچھ اشارے ملتے ہیں جو اُس کے ساتھ جنگ پر گئے تھے ۔

• ایسا کوئی ذکر نہیں ملتا ہے کہ حورس کو اُس کے دوست کی طرف سے دھوکہ دیا گیا تھا ۔

• حو رس کو مصلوب نہیں کیا گیا تھا ۔حو ر س کی موت کے بارے میں متعدد بیانات موجود ہیں مگر ان میں سے کسی میں بھی مصلوبیت کا عمل شامل نہیں ہے ۔

• ایسا کوئی بیان موجود نہیں ہے کہ حورس کو تین دن کےلیے دفن کیا گیا تھا ۔

• حو رس زندہ نہیں ہوا تھا ۔ حورس کے اُسی بدن کے ساتھ قبر میں سے جی اُٹھنے کے بارے میں کوئی ذکرنہیں جس بد ن کے ساتھ اُسے قبر میں رکھا گیا تھا ۔ کچھ بیانات میں ذکر ہے کہ حورس یا اوسائرس کو آئیسِس دیوی کی طرف سے دوبارہ زندہ کر کے پاتال کاحاکم بنا دیا گیا تھا۔

جب یسوع اور حورس کا اکٹھے موازنہ کیا جاتا ہے تو اگر اُن میں کچھ مماثلت ہے بھی تو وہ بہت ہی معمولی سی ہے۔

کچھ لوگ جو یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یسوع ایک افسانوی کردار ہے وہ یسوع کا موازنہ میتھرا دیوتا سے بھی کرتے ہیں ۔ یسوع کے بارے میں اوپر بیان کردہ تمام تفصیلات ( جیسے کہ کنواری سے پیدایش، مصلوب ہونا ، تین دن بعد جی اُٹھنا ، وغیرہ ) کا اطلاق میتھرا پر بھی کیا جاتا ہے ۔ مگر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ میتھرا کی افسانوی کہانی اصل میں کیا بیان کرتی ہے ؟

• وہ کسی عورت کی بجائے ایک ٹھوس چٹان سے پیدا ہوا تھا ۔

• اُس نے سب سے پہلے سورج اور پھرقبل از تاریخ کے ایک بیل کے ساتھ لڑائی کی تھی اور اِس لڑائی کو تخلیق کا پہلا عمل خیال کیا جاتا ہے۔ میتھرا نے اُس بیل کو مار ڈالا جو بعدمیں نسلِ انسانی کےلیے زندگی کا سبب بن گیا تھا ۔

• میتھرا کی پیدایش 25 دسمبر کو سورج کے خطِ استواء سے دور ترین ہونے کے وقت پر منائی جاتی تھی۔

• اُس کے اعلیٰ استاد ہونے کے بارے میں کوئی ذکر موجود نہیں ہے ۔

• اس بارے میں کچھ ذکر نہیں کہ میتھرا کے 12 شاگرد تھے ۔ یہ تصور کہ میتھرا کے 12 شاگرد تھے اُس تصویر سے لیا گیا ہو گا جس میں بارہ منطقتہ البروج میتھراکو گھیرے ہوئے ہیں۔

• میتھرا جسمانی طور پر زندہ نہیں ہوا تھا ۔ بلکہ جب میتھرا نے اپنے زمینی مقصد کو پورا کر لیا تھا تو اُسے زندہ اور اچھی حالت میں ایک رتھ کے ذریعے فردوس میں لے جایا گیا تھا ۔ ابتدائی مسیحی مصنف ٹیر ٹیولین نے میتھرا کے پیروکاروں کی طرف سےاُس کے جی اُٹھنے کے واقعے کو دوبارہ پیش کرنے کے بارے میں لکھا ہے۔ لیکن یہ بات نئے عہدنامے کی کتب کے تحریر کئے جانے کے دور کے کافی بعد رونما ہوئی تھی لہذا اگر کسی طرح کی نقل کی بھی گئی تھی تووہ میتھرا ازم کی طرف سے مسیحیت کی نقل کی گئی ہو گی۔

کرشنا، ایٹس ڈائیو نیس اور دیگر افسانوی دیوتاؤں کی مزید مثالیں دی جا سکتی ہیں لیکن سب کا نتیجہ ایک ہی ہے ۔ آخر میں یہ جاننا ضروری ہے کہ بائبل میں پیش کردہ تاریخی یسوع بے مثال ہے ۔ یسوع کی کہانی سے ملتی جلتی غیر اقوام کی مبینہ افسانوی کہانیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے ۔ مزید برآں حورس ، میتھرا اور دیگر مذاہب کی داستانوں کا چونکہ قبل از مسیح سے تعلق ہے لہذا ان قبل از مسیح مذاہب کے عقائد کا تاریخی ریکارڈ بہت کم ہے ۔ اِن مذاہب کی ابتدائی تحریروں کی اکثریت کا تعلق تیسری اور چوتھی صدی بعد از مسیح سے ہے ۔ چنانچہ یہ خیال کرنا کہ قبل از مسیح سے تعلق رکھنے والے ان مذہب کے عقائد ( جن کے بارے میں کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے ) بعد از مسیح کے عقائد سے مشابہ تھے ایک بچگانہ بات ہے ۔ اِس کے برعکس اِس بات کو پیش کرنا زیادہ مناسب ہوگا کہ قبل از مسیح مذاہب کی افسانوی داستانوں میں ابھی جو مماثلت مسیحیت کہانی کے ساتھ پائی جاتی ہے وہ اِس وجہ سے ہے کہ اُن مذاہب نے مسیحیت کی تعلیمات اور کہانی میں سے بہت کچھ چُرایا یا اُسکی نقل کی ہے۔

یہ بات ہماری جانچ پڑتال کے اگلے حصے یعنی اس بات کا دعویٰ کرنے والوں کی اِس منطقی مغالطہ آمیزی کی جانچ کی طرف رہنما ئی کرتی ہے کہ مسیحیت غیر اقوام کے پُر اسرار مذاہب سے اخذ کی گئی تھی ۔ ہم خاص طور پر یہاں دو مغالطہ آمیزیوں پر غور کریں گے (1) غلط سبب کا مغالطہ اور (2) اصطلاحی مغالطہ ۔

اگر ایک بات یا واقعہ پہلے رونما ہوا ہو تولوگ لازمی طور پر یہ نتیجہ اخذ کریں گے کہ اُس کے بعد جو کچھ بھی اُس جیسا نظر آئے اُس کے ہونے کی وجہ یا سبب پہلے رونما ہونے والی بات یا واقعہ ہے۔ یہ غلط سبب کا مغالطہ ہے ۔ ایک مرغ ہر صبح سورج طلوع ہونے سے پہلے بانگ دے سکتا ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ مرغ سورج کے طلوع ہونے کا سبب بنتا ہے ۔ حتیٰ کہ اگر قبل از مسیحیت کے افسانوی دیوتاؤں کے متعلق بیانات مسیحیت سے مشابہت رکھتے ہیں بھی تو (حالانکہ وہ مشابہت نہیں رکھتے ) اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اُن بیانات و تفصیلات کو لیکر اناجیل کے مُصنفین نے ایک افسانوی یسوع کو پیش کیا ہے اور اُس کے بارے میں سبھی من گھڑت باتیں بیان کی ہیں۔ ایسا دعویٰ کرنا یوں ہی ہوگا جیسے کہا جائے کہ ناسا کا خلائی شٹل پروگرام ٹی وی سیریز سٹار ٹریک کے سبب سے ہے ۔

اصطلاحی غلطی اُس وقت واقع ہوتی ہے جب کسی نقطے/ بات کو ثابت کرنے کےلیے الفاظ کو نئے انداز سے پیش کیا جائے یا اُن کو بیان کرنے کے لیے نئی اصطلاح استعمال کی جائے۔ مثال کے طور پر زائیٹ گائسٹ فلم میں کہا جاتا ہے کہ حورس نے " اپنے خدمت کی ابتدا کی " مگر اس فلم میں لفظ خدمت کو نئے انداز میں بیان کیا جا رہا ہے ۔ حو رس کی حقیقی طور پر ایسی کوئی "خدمت" نہیں تھی جیسی مسیح نے خدمت کی تھی ۔ ابھی کچھ ایسے ہیں جو یسوع کے بپتسمے کے بارے میں بات کرتے ہوئے اُسے میتھرا کیساتھ جوڑتے ہیں اور کہتے ہیں کی بپتسمے کی ابتدا میتھرا کے پُراسرار مذہب میں ہوئی تھی۔ لیکن ہمیں جاننے کی ضرورت ہے کہ اُس مذہب میں کیا کیا جاتا تھا جسے بپتسمے کے مشابہ کہا جا رہا ہے؟ میتھریک پجاری نئے آنے والے اراکین کو ایک گڑھے میں بٹھاتے ، گڑھے کے اُوپر ایک بیل کو لٹکاتے اور پھر اُس بیل کا پیٹ چاک کرتے ہوئے نئے آنے والے اراکین کو خون سے نہلا دیتے تھے۔ اس طرح کے عمل کی مسیحی بپتسمہ سے کسی طرح کی کوئی مشابہت نہیں ہے جس میں کوئی شخص ( مسیح کی موت کی نشاندہی کرتے ہوئے ) پانی میں غوطہ لیتا اور پھر ( مسیح کے جی اُٹھنے کی نشاندہی کرتے ہوئے )پانی سے اُوپر نکل آتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو یسوع کو ایک افسانوی کردار مانتے ہیں وہ اِس اصطلا ح " بپتسمہ" کا گمرانہ کُن انداز میں استعمال کرتے ہیں تاکہ ان دونوں رسموں کو اس انداز میں بیان کریں کہ ان دونوں کے درمیان تعلق قائم ہو سکے ۔

یہ بات ہمیں نئے عہد نامے کی سچائی کے موضوع کی طرف پھیر لاتی ہے ۔ماضی کی کوئی قدیم ترین مذہبی تحریر بھی اپنی تاریخی حقانیت کے حوالے سے نئے عہد نامے کے مقابلے میں بہت کم ثبوت رکھتی ہے۔ اُس دور کی اب تک موجودکس بھی دستاویز کے مقابلے میں نئے عہدنامےکے مصنفیں کی تعداد زیادہ ہے (نئے عہد نامے کے نو مصنفین ہیں)، دیگر مصنفین کے مقابلے میں یہ زیادہ بہتر مصنفین تھے، اور یہ پہلے اور قدیم مصنفین تھے۔ مزید برآں تاریخ اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ ان مصنفین نے مسیح کے وسیلے نجات اور اُس کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی گواہی دیتے ہوئے موت تک کا سامنا کیا تھا ۔ اگرچہ کچھ لوگ کسی جھوٹ کو سچ سمجھ کر اُس کے لیے جان دے دیں، لیکن کوئی بھی انسان کبھی بھی اُس بات کے لیے جان نہیں دیتا جس کے بارے میں اُسے معلوم ہو کہ وہ سرے سے ہی جھوٹ ہے۔ اس بارے میں غور کریں کہ اگر آپ کو مصلوب کیے جانے کا خطرہ درپیش ہو جیسا کہ روایت بتاتی ہے کہ پطرس رسول کو تھا اور آپ کو اپنی جان بچانے کےلیے محض اُس جھوٹ کو ترک کرنا ہو جو آپ نے جان بوجھ کر بولا تھا تو آپ کیا کریں گے ؟

اس کے علاوہ تاریخ یہ بھی ثابت کرتی ہے کہ تاریخی بیانات میں کم از کم دو نسلیں گزرجانے کے بعد افسانوی رنگ شامل ہو سکتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک کسی واقعے کے عینی شاہدین موجود ہوتے ہیں اُس وقت تک غلطیوں کی تردید اور افسانوی آرائش کو بے نقاب کیا جاسکتا ہے ۔ نئے عہد نامہ کی تمام اناجیل عینی شاہدین کےدورِ حیات میں ہی لکھی گیئں تھیں جس میں پولس رسول کے کچھ خطوط 50 بعد از مسیح کے ابتدائی حصے میں قلمبند کئے گئے تھے ۔ پو لس رسول اپنے ہم عصر عینی شاہدین سے براہ راست درخواست کرتا ہے کہ وہ اُس کی گواہی کی تصدیق کریں ( 1کرنتھیوں 15باب 6آیت)۔

نیا عہد نامہ اس حقیقت کی تصدیق کرتا ہے کہ پہلی صدی میں کسی بھی اور دیوتا کو غلطی سے یسوع مسیح کے طور پر نہیں مانا گیا تھا۔ جب پولس رسول نے اتھینے میں تعلیم دی تو اُس شہر کے اعلیٰ مفکرین نے کہا "یہ غیر معبودوں کی خبر دینے والا معلوم ہوتا ہے ۔ اِس لئے کہ وہ یسوع اور قِیامت کی خوشخبری دیتا تھا۔ پس وہ اُسے اپنے ساتھ اریو پگُس پر لے گئے اور کہا آیا ہم کو معلوم ہو سکتا ہے کہ یہ نئی تعلیم جو تُو دیتا ہے کیا ہے؟۔ کیونکہ تُو ہمیں انوکھی باتیں سناتا ہے ۔ پس ہم جاننا چاہتے ہیں کہ اِن سے غرض کیا ہے"۔ واضح رہے کہ اگر پولس رسول غیر معبودوں کے قصے کہانیوں کو ہی دُہرا رہا ہوتا تو اتھینے کے لوگوں نے اُس کی تعلیم کو " نئی" اور " انوکھی" باتوں کے طور پر حوالہ نہیں دیناتھا۔ اگر پہلی صدی میں مرنے اور جی اُٹھنے والے معبودوں/ دیوتاؤں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی تو جب پولس رسو ل نے یسوع کے مُردوں میں جی اُٹھنے کی تعلیم دی تو اُس وقت اپکُوری اور ستوئیکی لوگوں نے یہ رائے کیوں نہیں دی تھی " آہ ، بالکل حورس اور میتھرا کی طرح "؟

آخر میں ، یہ دعویٰ کہ یسوع افسانوی معبودوں /دیوتاؤں کی نقل ہے اُن مصنفین کی ایجاد ہے جن کی تحریروں کو حقیقی عالمین نے رَد کر دیا تھا کیونکہ وہ منطقی مغالطہ آمیزی پر مشتمل تھیں اور جن کا موازنہ نئے عہد نامے کی اُن اناجیل سے نہیں ہو سکتا جو 2000 سالوں کی سخت جانچ پڑتال پر کھری اُتری ہیں ۔ جب اصل افسانوی قصوں کی جانچ پڑتال کی جاتی ہے تو یسوع اور دوسرے معبودوں/دیوتاؤں کے مابین مبینہ مماثلت ختم ہو جاتی ہے۔یسوع کے ایک افسانوی کردار ہونے کے نظریے کی بقاء کا انحصارمخصوص اور چُنیدہ تفاصیل، نئے انداز میں بیان کردہ الفاظ و اصطلاحات اور جھوٹے مفروضات پر ہے۔

یسوع مسیح تاریخ میں ایک بالکل منفرد ذات ہے، وہ جب یہ سوال کرتا ہے کہ " کہ تم مجھے کیا کہتے ہو؟"(متی 16باب 15آیت) تو اُس کی آواز تمام جھوٹے دیوتاؤں اور معبودوں سے بلند ہوتی ہے اور اِس سوال کا جواب ہی کسی بھی شخص کی ابدی منزل کا تعین کرتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا یسوع ایک افسانوی کردار ہے؟کیا یسوع قدیم مذاہب کے دیوتاؤں کی نقل ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries