متی اور لوقا میں یسوع کے نسب نامے مختلف کیوں ہیں؟


سوال: متی اور لوقا میں یسوع کے نسب نامے مختلف کیوں ہیں؟

جواب:
یسوع کا نسب نامہ کلامِ مقدس میں دو جگہوں پر پیش کیا گیا ہے : متی 1باب اور لوقا 3باب 23-38آیات۔ متی نسب نامے کو یسوع سے شروع کرتا ہے اور ابرہام تک لے کر جاتا ہے جبکہ لوقا نسب نامے کو یسوع سے شروع کرتے ہوئے آدم تک لے کر جاتا ہے ۔ تاہم اِس بات پر یقین کرنے کےلیے اچھی وجوہات موجود ہے کہ متی اور لوقا حقیقت میں بالکل مختلف نسب ناموں کو پیش کر رہے ہیں ۔ مثلاً متی یعقوب کو یوسف کے باپ کے طور پر پیش کرتا ہے ( متی 1 باب 16آیت ) جبکہ لوقا عیلی کو یوسف کے باپ کے طور پر پیش کرتا ہے ( لوقا 3باب 23آیت)۔ متی نسب نامے کے لیے داؤد کے بیٹے سلیمان کا شجرہ ِ نسب استعمال کرتا ہے ( متی 1باب 6آیت) دوسری طرف لوقا نسب نامے کےلیے داؤد کے بیٹے ناتن کے شجرہ نسب کا استعمال کرتا ہے ( متی 3 باب 31آیت)۔ اصل میں داؤد سے لے کر یسوع تک اِن دونوں نسب ناموں میں صرف سیالتی ایل اور زُر بابل کے دومشترک نام ہیں ( متی 1باب 12آیت ؛ لوقا 3باب 27آیت)۔

کچھ لوگ اِن اختلافات کو بائبل میں غلطیوں کے طور پر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہودی لو گ معلومات کے قلمبند کرنے اور خاص طور پر نسب ناموں کو محفوظ کرنے کے معاملے میں بہت محتاط تھے ۔ یہ نا قابل تصور بات ہے کہ متی اور لوقا ایک ہی شجرہ ِ نسب کےدو انتہائی متضاد نسب نامے تیار کر سکتے تھے ۔ مگر بات پھر وہی ہے کہ یسوع سے لے کر داؤد تک نسب نامے پوری طرح مختلف ہیں ۔ یہاں تک کہ یہ بھی ممکن ہے کہ سیالتی ایل اور زُربابل کا حوالہ ایک ہی نام کے مختلف اشخاص کی نشاندہی کرتا ہو۔مثلاً متی یکوُنیاہ کو سیالتی ایل کے باپ کے طور پر پیش کرتا ہے جب کہ لوقا نیری کو سیالتی ایل کے باپ کے طور پر پیش کرتا ہے ۔ سیالتی ایل نام کے شخص کےلیے یہ عام بات ہوگی کہ وہ اپنے بیٹے کا نام زُربابل نام کی مشہور شخصیت کے نام پر رکھے ( عزرا اور نحمیاہ کی کتب دیکھیں )۔

اِس سلسلے میں کلیسیا ئی تاریخ دان یوسیبیس(Eusebius) کی طرف سے پیش کی گئی ایک وضاحت یہ بھی ہے کہ متی بنیادی یا جسمانی شجرہ نسب کی پیروی کر رہا ہے تو دوسری جانب لوقا " یہودی ازدواج کے قانون"کےمطابق واقعات کی تفصیل بیان کر رہا ہے ۔ اگر کوئی شخص اولادِ نرینہ کے بغیر مر جاتا تو یہ یہودی روایت تھی کہ اُس کے بھائی کو اُس کی بیوہ سے شادی کرنی پڑتی اور اپنے بھائی کےلیے بیٹا پیدا کرنا ہوتا تھا جو اُس کے مرحوم بھائی کے نام سے کہلاتا تھا ۔ یوسیبیس کے مفروضے کےمطابق ملکی ( لوقا 3باب 24آیت) اور متّان نے مختلف اوقات میں ایک ہی عورت (روایت کے لحاظ سے جس کا نام Estha/استھا تھا) سے شادی کی تھی ۔ اور اِس کے نتیجے میں عیلی ( لوقا 3باب 23آیت) اور یعقوب ( متی 1باب 15آیت) دو نوں سوتیلے بھائی تھے ۔ عیلی اولادِ نرینہ کے بغیر ہی مر گیا اور اِس طرح اُس کے ( سوتیلے) بھائی یعقوب کو اُس کی بیوہ سے شادی کرنا پڑی اور اِس طرح یوسف پیدا ہوا۔ اس صورت میں یوسف قانونی طور پر "عیلی کا بیٹا " کہلایا جب کہ جسمانی لحاظ سے " یعقوب کا بیٹے " کہلا یا ۔ لہذا متی اور لوقا دونوں ایک ہی نسب نامے کو درج کر رہے ہیں مگر لوقا قانونی شجرہ ِ نسب کی جبکہ متی جسمانی شجرہ ِ نسب کی پیروی کرتا ہے ۔

آج کل کے بائبل کے زیادہ قدامت پسند علماء کا نقطہ ِ نظر اِس لحاظ سے مختلف ہے جن کے مطابق لوقا مریم کے نسب نامے اور متی یوسف کے نسب نامے کو درج کر رہا ہے ۔ متی داؤد کے بیٹے سلیمان کے ذریعے یوسف کےشجرہ ِ نسب کی پیروی کرتا ہے جب کہ لوقا داؤد کےبیٹے ناتن کےذریعے مریم کے شجرہ نسب کی پیروی کرتا ہے ۔ چونکہ یونانی میں "داماد" کےلیے کوئی مخصوص لفظ نہیں تھا اس لیے جب یوسف نے عیلی کی بیٹی مریم سے شادی کی تو وہ " عیلی کا بیٹا" کہلایا ۔ یسوع داؤد کی نسل سے ہے چاہے یہ مریم کے شجرہِ نسب سےدیکھا جائے یا یوسف کے شجرہِ نسب سے ممکن ، اور اِس طرح وہ مسیحا کہلانے کے لائق ہے ۔ تاہم ماں کی طرف سے نسب نامے کا پیش کیا جانا غیر معمولی عمل ہے مگرچونکہ یسوع کنواری مریم سے پیدا ہوااِس لیے لوقا مریم کا نسب نامہ بھی پیش کرتا ہے۔ لوقا بیان کرتا ہے کہ یسوع " جیسا کہ سمجھا جاتا تھا " یوسف کا بیٹا تھا ( یوقا 3باب 23آیت)۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
متی اور لوقا میں یسوع کے نسب نامے مختلف کیوں ہیں؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں