settings icon
share icon
سوال

اِس سے کیا مُراد ہے کہ یسوع گناہگاروں کا یار ہے؟

جواب


یسوع گنہگاروں کا یار ہے اِس حقیقت کا مطلب یہ ہے کہ وہ ہمارا دوست ہے اورہمارا انتظا ر کر رہا ہے کہ ہم اُس کی موجودگی اور دستیابی کو تسلیم کریں۔ خدا کی محبت ہمارے لیے قریباً نا قابلِ تصورہے ۔ جب ہم یسوع کے تجسم،ہمارے درمیان رہنے اور انسانی زندگی کا تجربہ حاصل کرنے کے لیے اُس کے آسمان کو چھوڑ کر ایک بے بس انسانی بچّے کے طور پر پیدا ہونے پر غور کرتے ہیں تو ہمیں اُس محبت کی گہرائی کی جھلک نظر آنے لگتی ہے۔ اس سب میں جب ہم صلیب پر اُس کی کفارہ بخش موت کو شامل کرتے ہیں تو یہ سب اور بھی حیرت انگیز بن جاتا ہے ۔

"گنہگاروں کا یار "بننے کے لیے یسوع نے خود کو ایک گناہ آلودہ اور بگاڑ کی شکار دنیا میں رہنے کا پابند کیا کیونکہ"سب نے گُناہ کِیا اور خُدا کے جلال سے محرُوم ہیں"(رُومیوں 3باب 23آیت)۔ ہماری گناہ آلودہ حالت کے باوجودیسوع ہمارے ساتھ ایک رشتہ قائم کرنا چاہتا ہے۔

"گنہگاروں کا یار" کی اصطلاح انا جیل کے مماثل حوالوں میں سے ہے۔ یسوع نے کہا " پس اِس زمانہ کے آدمیوں کو مَیں کس سے تشبیہ دُوں اور وہ کس کی مانند ہیں؟ اُن لڑکوں کی مانِند ہیں جو بازار میں بیٹھے ہُوئے ایک دُوسرے کو پُکار کر کہتے ہیں کہ ہم نے تمہارے لئے بانسلی بجائی اور تُم نہ ناچے۔ ہم نے ماتم کِیا اور تم نہ روئے۔ کیونکہ یُوحنّا بپتسمہ دینے والا نہ تو روٹی کھاتا ہُوا آیا نہ مَے پیتا ہُوا اور تم کہتے ہو کہ اُس میں بدرُوح ہے۔ اِبنِ آدم کھاتا پیتا آیا اور تُم کہتے ہو کہ دیکھو کھاؤُ اور شرابی آدمی محصُول لینے والوں اور گنہگاروں کا یار۔"(لوقا 7باب 31-34آیات کا متی 11باب 16-19 آیات کے ساتھ موازنہ کریں)۔

اس حوالے میں یسوع اُن لوگوں کی رُوحانی ناپختگی کے درجے کی نشاندہی کر رہا ہے جو خود کو "راستباز" اور سب سے زیادہ "رُوحانی" سمجھتے تھے۔ خدا کی مرضی کو سمجھنے اور اس کے ساتھ تعلق قائم کرنے کی بجائے اُنہوں نے اپنے موقف کی بنیاد روایت ، شریعت اور ظاہری شکل و صورت کی سخت پیروی کرنے پر رکھی ۔ اُنہوں نے یسوع کو "گنہگاروں کا یار" قرار دیتے ہوئے اُس پر تنقید کی کہ وہ آوارہ اور "معاشرتی طور پر ناقابلِ قبول" لوگوں کے ساتھ وقت گزارتا ہے ۔

کھوئی ہوئی بھیڑ کی تمثیل اُن گمشدہ اور غیر محفوظ زندگیوں کی اہمیت کو واضح کرتی ہےجو محفوظ مقام سے بھٹک گئی ہیں۔ خُدا کے نزدیک کھوئی ہوئی بھیڑیں/ زندگیاں اتنی اہم ہیں کہ وہ اُن کی اُس وقت تک تلاش کرتا رہے گا جب تک اُنہیں تلاش کر کے واپس محفوظ مقام پر نہیں لایا جاتا ۔ " سب محصول لینے والے اور گنہگار اُس کے پاس آتے تھے تاکہ اُس کی باتیں سُنیں۔ اور فریسی اور فقیہہ بُڑبُڑا کر کہنے لگے کہ یہ آدمی گنہگاروں سے مِلتا اور اُن کے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ اُس نے اُن سے یہ تمثِیل کہی کہ تُم میں کَون اَیسا آدمی ہے جس کے پاس سَو بھیڑیں ہوں اور اُن میں سے ایک کھو جائے تو نِنانوے کو بیابان میں چھوڑ کر اُس کھوئی ہُوئی کو جب تک مِل نہ جائے ڈُھونڈتا نہ رہے؟"(لوقا 15باب 1-4آیات)۔

یسوع نے واضح کیا ہے کہ وہ " کھوئے ہُوؤں کو ڈُھونڈنے اور نجات دینے آیا ہے"(لوقا 19باب 10آیت)۔ وہ اُن لوگوں کے ساتھ رفاقت رکھنے کو تیار تھا جو ریاکار فریسیوں کے معیار کے مطابق زیادہ اچھے نہیں تھے۔ لیکن یہ وہ لوگ تھے جو مسیح کی آواز کو سننے کے لیے تیار تھے اور خُدا کے نزدیک اہمیت کے حامل تھے!

متی 9باب 10-13آیات ایک اور موقع کے بارے میں بیان کرتی ہیں جب مذہبی قائدین نے یسوع کا اُس کے رفاقتی حلقےکی وجہ سے مذاق اڑایا تھا۔ وہ انہیں اِن الفاظ میں جواب دیتا ہے" مَیں راست بازوں کو نہیں بلکہ گنہگاروں کو بُلانے آیا ہُوں"(13آیت)۔

لوقا 4باب 18آیت میں یسوع یسعیاہ 61باب 1-2آیات کا حوالہ دیتا ہے :" خُداوند خُدا کی رُوح مجھ پر ہے کیونکہ اُس نے مجھے مَسح کِیا تاکہ حلیموں کو خوش خبری سُناؤُں۔ اُس نے مجھے بھیجا ہے کہ شکستہ دِلوں کو تسلّی دُوں۔ قیدیوں کے لئے رہائی اور اسیروں کے لئے آزادی کا اِعلان کرُوں۔ تاکہ خُداوند کے سالِ مقبول کا اور اپنے خُدا کے اِنتقام کے روز کا اِشتہار دُوں اور سب غمگینوں کو دِلاسا دُوں۔"غریبوں، قیدیوں، اندھوں اور مظلوموں کو خوشخبری سنانے کے لیے یسوع کو اُن کے ساتھ کسی نہ کسی طرح کا رابطہ رکھنا تھا۔

یسوع نے گناہ کو نظرانداز نہیں کیا اور نہ ہی بے دینوں کے تباہ کن رویوں میں حصہ لیا۔ "گنہگاروں کا یار" ہونے کے ناطے یسوع نے واضح کیا کہ " خُدا کی مہربانی تجھ کو تَوبہ کی طرف مائِل کرتی ہے؟"(رومیوں 2باب 4آیت)۔ یسوع نے ایک کامل، بے گناہ زندگی بسر کی اور اُسے " زمین پر گُناہ مُعاف کرنے کا اِختیار " حاصل تھا (لوقا 5باب 24آیت)۔ اس سبب سے ہمیں ایک تبدیل شدہ دل اور زندگی کا تجربہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔

یسوع، ہمارے یارنے گنہگاروں کے گناہ آلودہ کاموں میں شامل ہونے کے لیے اُن کے ساتھ وقت نہیں گزارا بلکہ اُس نے اُن کے ساتھ وقت اِس لیے گزارہ تاکہ اُنہیں یہ خوشخبری سنا سکے کہ اُنکے لیے معافی دستیاب ہے۔ بہت سے گنہگار اُس کے زندگی بخش کلام کے وسیلے تبدیل ہو گئے تھے - زکائی اس بات کی ایک بہترین مثال ہے (لوقا 19باب 1-10آیات)۔

جب یسوع کے دشمنوں نے اُسے "گنہگاروں کا یار" کہا تواِس سے اُن کا مقصد یسوع کی بے عزتی کرنا تھا۔ اپنے جلال اور ہمارے ابدی مفاد کی خاطر یسوع نے ایسی معمولی باتوں کو برداشت کیا اور ایک " اَیسا دوست(بنا) بھی ہے جو بھائی سے زِیادہ مُحبّت رکھتا ہے" (امثال 18باب 24آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اِس سے کیا مُراد ہے کہ یسوع گناہگاروں کا یار ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries