کیا یسوع کا حقیقت میں وجود تھا ؟ کیا یسوع مسیح کےوجود کا کوئی تاریخی ثبوت موجود ہے ؟


سوال: کیا یسوع کا حقیقت میں وجود تھا ؟ کیا یسوع مسیح کےوجود کا کوئی تاریخی ثبوت موجود ہے ؟

جواب:
عام طور پر جب اِس طرح کا سوال پوچھا جاتا ہے تو سوال کرنے والے شخص کی کوشش ہوتی ہے کہ اِس سوال کا جواب " بائبل میں سے" نہ ہو۔ ہم اِس خیال کی تائید نہیں کرتے کہ یسوع کے حقیقی وجود کے بارے میں بائبل ایک ثبوت کا ذریعہ نہیں ہو سکتی ۔ نیا عہد نامہ یسوع مسیح کے بارے میں سینکڑوں حوالہ جات رکھتاہے ۔ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو یہ خیال پیش کرتے ہیں کہ اناجیل دوسری صدی بعد از مسیح میں یعنی یسوع کی موت کے قریباً سو سال بعد تحریر ہوئیں۔ پہلی بات تو ایسا ہے نہیں لیکن اگر ایساہوتا بھی تو (اگرچہ ہم اِس بات کو سختی کے ساتھ رَد کرتے ہیں ) قدیم دور میں شواہد کے لحاظ سے کسی واقعے کے رُونما ہونے کے 200 سال بعد تک اُس کے متعلق پائی جانے والی تحریروں کو قابلِ اعتبار خیال کیا جاتا تھا۔ مزیدبرآں(مسیحی اور غیر مسیحی)علماء کی ایک بڑی تعدا د اِس بات کو مانتی ہے کہ پولس رسول کے خطوط حقیقت میں اُس کی طرف سےپہلی صدی کے وسط کے قریب لکھے گئے تھےیعنی یسوع کی موت کے تقریباً چالیس سال بعدتک کے عرصے کے دوران ۔ قدیم مسودات کے مقابلے میں یہ خطو ط یسوع نامی ایک شخص کے بارے میں غیر معمولی اور نہایت اہم ثبوت ہیں جو پہلی صدی عیسوی میں اسرائیل میں ہو گزرا ہے۔

یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ 70 بعد از مسیح میں رومیوں نے اسرائیل پر حملہ کر کے اسرائیل اور یروشلیم کے زیادہ تر حصے کو تباہ کر دیا اور اس کے باشندوں کو قاتل کر دیا۔ پورے کے پورے شہروں کو جلا کر بالکل خاک کر دیا گیا۔پس اگر یسوع کے حقیقی وجود کے بارے میں بہت سارے شواہد تباہ ہو گئے ہیں تو ہمیں اِس بات سے حیران نہیں ہونا چاہیے ۔ یسوع کے بارے میں بہت سے چشم دیدہ گواہوں کو قتل کر دیا گیا ہوگا ۔ ان حقائق کے پیشِ نظر یسوع کے بارے میں بچ جانے والے چشم دید گواہوں کی تعدا بھی کافی کم ہوگئی ہوگی ۔

اِس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کہ یسوع کی خدمت زیادہ تر رومی سلطنت کےنسبتاً کم اہم علاقوں تک ہی محدود تھی یسوع کے بارے میں کافی زیادہ تعداد میں معلومات غیر مذہبی اور آزاد خیال تاریخی ذرائع سے بھی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ یسوع کے بارے میں کچھ اہم ترین تاریخی شواہد میں مندرجہ ذیل ذرائع شامل ہیں :

پہلی صدی سے تعلق رکھنے والا رومی مورخ ٹیسی ٹس جو قدیم دنیا کے بہترین مورخین میں سے ایک سمجھا جاتا ہےاُس نے مسیحیوں کے لیےتوہم پرست "کرسچن" کی اصطلاح کو استعمال کیا (یہ اصطلاح غالباً اُس نے لفظ کرستس کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بنائی تھی جو لاطینی زبان میں مسیح کے لیے استعمال کی جاتی ہے) اور اُس کے بیان کے مطابق مسیح کو تبریس کے دورِ حکومت میں یہودیہ کے حاکم پنطس پیلاطس کے حکم پر مار دیا گیا۔ شہنشاہ ہیڈرین کے ایک اعلیٰ افسر سیوٹونیس نے ذکر کیا کہ کرستس (مسیح) کے طور پر جانا جانے والا ایک شخص پہلی صدی میں ہو گزرا ہے (Annals 15.44)۔

فلیویس یوسیفس ایک مشہورترین یہودی مورخ ہو گزرا ہے۔ وہ اپنی کتاب Antiquities میں یعقوب کا ذکر" یسوع جو مسیح کہلاتا تھا کے بھائی کے" طور پر کرتا ہے۔ اُس کی تحریر میں ایک خاص آیت ہے جسے مسیحیت کے مخالفین متنازعہ قرار دیتے ہیں وہ آیت3:18 ہے جو کہتی ہے "اور اُن دِنوں وہاں پر ایک دانشور آدمی یسوع تھااگر اُسے محض ایک آدمی کہنا بجا ہو توکیونکہ اُس نے بہت سے حیرت انگیز (عجیب) کام کئے۔۔۔وہ مسیح تھا۔۔۔۔وہ تیسرے دن پھر اُن پر زندہ ظاہر ہوا جیسا کہ خُدا کے نبیوں نے اُس کے بارے میں اِس بات اور مزید ہزاروں حیرت انگیز باتوں کی پیشن گوئی کی ہوئی تھی۔"اُس کی تحریر کا ایک ترجمہ اِسی بات کو کچھ یوں پیش کرتا ہے کہ "اور اُس وقت وہاں ایک دانا آدمی یسوع تھا۔اُس کا حُسن سلوک اچھا تھا اور اُسےنیک شخص کے طور پر جانا جاتا تھا۔ یہودیوں اور دیگر قوموں میں سے بہت سے لوگ اُس کے شاگرد بن گئے تھے ۔ پیلاطس نے اُسے مصلوب کر کے مارنے کے لیے رَد کیا۔ لیکن اُنہوں نے جو اُسے پیار کرتے تھے نہ چھوڑا۔ اُنہوں نے بتایا کہ وہ مصلوب ہونے کے تین دن بعد پھر اُن پر ظاہر ہوا، اور وہ زندہ تھا؛ وہ غالباً مسیحا تھا جس کے بارے میں نبیوں نے بہت ساری عجیب باتیں بیان کی ہوئی تھیں۔

جولیس افریکینس مسیح کی مصلوبیت کے وقت پر ہونے والے اندھیرے کے بارے میں بات کرتے ہوئے تھیلس کی تحریر کا حوالہ پیش کرتا ہے جس میں تھیلس نے اُس وقت ہونے والے اندھیرے کی وضاحت کرنے کی کوشش کی ہے (Extant Writings, 18)۔

پلائنی ینگر اپنے خطوط 10:96 میں ابتدائی کلیسیا کے مسیحیوں کی عبادتی رسومات پر بات کرتے ہوئے اِس حقیقت کو بیان کرتا ہے کہ وہ یسوع مسیح کی بطورِ خُدا پرستش کرتے تھےاور وہ اخلاقی طور پر اچھے تھے۔ وہ اپنے اِس بیان کے اندرمسیحیوں کےباہمی طور پر جمع ہو کر عشاء کھانے اور عشائے ربانی کی یادگاری کا بھی ذکر کرتا ہے۔

بابلی تالمود(Sanhedrin 43a) فسح کی شام کو یسوع کے مصلوب ہونے کی تصدیق کرتی ہے اور یہ بھی کہ اُس پر جادوگری کرنے اور یوں اسرائیل کو گمراہ کر کے برگشتہ کرنے کی کوشش کا الزام لگایا گیا۔

ساموساتا سے تعلق رکھنے والا لوسی آن دوسری صدی کا یونانی مصنف تھا جو یہ اعتراف کرتا ہے کہ مسیحی لوگ یسوع کی پرستش کرتے تھے جس نےاُنہیں نئی تعلیمات اور انوکھے رسم و رواج سکھائے اور جواُن ( مسیحیوں) کےلیے مصلوب ہو گیا تھا۔ اُس نے کہا کہ یسوع کی تعلیمات میں ایمانداروں میں باہمی محبت، اُن کی رُوحانی تبدیلی اور دوسرے دیوتاؤں کو ترک کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا تھا۔ مسیحی لوگ یسوع کی طرف سے بیان کردہ اُصولوں کے مطابق زندگی بسر کرتے اور اپنے آپ کو لافانی مانتے تھے ۔ وہ موت کی سزاتک کو قبول کرنے ،رضا کارانہ خود ایثاری اور مادی چیزو ں کو ترک کرنے کی خصوصیات رکھنے کے لیے جانے جاتے تھے۔

مارا بارسراپین تصدیق کرتا ہے کہ یسوع ایک دانا اور نیک آدمی خیال کیا جاتا تھا جسے بہت سے لوگ اسرائیل کا بادشاہ سمجھتے تھے، اُسے یہودیوں نے موت کے گھاٹ اُتار دیا تھا اوروہ اپنی تعلیمات کے ذریعے اب بھی اپنے شاگردوں کی زندگیوں میں میں زندہ ہے ۔

اِس کے بعد ہمارے پاس تمام غناسطی تصانیف(جیسے کہ سچائی کی انجیل، یوحنا کا اپاکرفا، توما کی انجیل، جی اُٹھنے کا صحیفہ وغیرہ) بھی ہیں جو کلام کا حصہ قطعی نہیں لیکن چونکہ یہ تاریخی تحریریں ہیں اِس لیے اُن میں بھی یسوع کی ذات کے ذکر کواور پہلی صدی میں اُس کے وجود کو دیکھا جا سکتا ہے۔یہ ساری کی ساری تصانیف یسوع کا ذکر کرتی ہیں

دراصل ہم قریباً ابتدائی غیر مسیحی ذرائع سے بھی ایک انجیلی عقیدے کو تشکیل دے سکتے ہیں : یسوع کو مسیح کہا جاتا ہے ( یو سیفس)، یسوع "جادو"(در حقیقت معجزات) کرتاتھا ، اُس نے اسرائیل کو نئی تعلیمات کی طرف راغب کیا، اور اِس وجہ سے اُسے فسح کی شام کو مار دیا گیا (بابلی تالمود) اُس کی وفات کا علاقہ یہودیہ تھا (ٹیسی ٹس)، وہ خُدا ہونے کا دعویدار تھا اور اُس نے کہا کہ وہ دوبارہ آئے گا (الیعزر)، اُس کی پیروی کرنے والے اُس کے اِس وعدے پر ایمان رکھتے ہیں اور خُدا کے طور پر اُس کی پرستش کرتے ہیں(پلائنی ینگر)۔

بائبلی اور غیر بائبلی تاریخ کے اندر یسوع کی ذات کے وجود کے بارے میں ہمارے پاس بہت زیادہ ثبوت موجود ہیں ۔ غیر مذہبی تاریخ اور بائبل کی تاریخ دونوں ہی میں یسوع مسیح کی موجودگی کےبہت سے زبردست شواہد موجود ہیں ۔یسوع کے حقیقی طور پر موجود ہونے کی سب سے بڑی گواہی تو غالباً یہ ہے کہ پہلی صدی عیسوی میں ہی بارہ رُسولوں کے ساتھ ساتھ ہزاروں مسیحی ایسے تھے جو اپنے ایمان کی خاطر اپنی جانوں کو قربان کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار تھےلوگ صرف اُن باتوں کے لیے جان دے سکتے ہیں جو اُن کے ایمان کے مطابق سچی ہوتی ہیں۔ لوگ کبھی بھی اُن چیزوں یا باتوں کے لیے اپنی جان نہیں دیتے جو اُن کے علم کے مطابق جھوٹی ہوتی ہیں۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
کیا یسوع کا حقیقت میں وجود تھا ؟ کیا یسوع مسیح کےوجود کا کوئی تاریخی ثبوت موجود ہے ؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں