کیا یسوع 25 دسمبر کو پیدا ہوئے تھے؟ کیا 25 دسمبر ہی یسوع کا جنم دن ہے؟


سوال: کیا یسوع 25 دسمبر کو پیدا ہوئے تھے؟ کیا 25 دسمبر ہی یسوع کا جنم دن ہے؟

جواب:
کرسمس ٹری کی جدید رسم بُت پرستی کی کسی بھی شکل سے نہیں نکلی ۔ کسی بھی بُت پرست مذہب کے اپنے وسطِ سرما کے تہوار کے لئے کسی خاص تعطیل پر درخت کو سجانے کا ثبوت نہیں ملتا ، اگرچہ رومی زراعت کے دیوتا سیٹرنس کی عزت میں وسطِ سرما کو ایک تہوار مناتے تھے جِسے سیٹرنیلیا کہا جاتا تھا ۔ وہ اپنے گھروں کو ہریالی اور روشنیوں کے ساتھ سجاتے اور تحائف کا تبادلہ کرتے تھے۔ قُرونِ وسطیٰ کے آخر میں ، اہل ِجرمن ، اور اسکینڈی نویائیوں نے آنے والے موسمِ بہار کی اُمید کے اظہار میں سدا بہار درختوں کو اپنے گھروں کے اندر ،یا اپنے دروازوں سے باہر رکھنا شروع کر دیا۔ پہلا کرسمس ٹری سولویں صدی میں جرمنی میں پروٹسٹنٹ مسیحیوں کی جانب سے سجایا گیا۔ ہمارا جدید کرسمس ٹری اِ ن ابتدائی جرمن روایات سے مرتب ہوتا ہے، اور غالب امکان ہے کہ یہ رسم امریکی انقلاب کے دوران حیسن فوجوں کے ساتھ متحدہ ریاستوں میں ، یا جرمن مہاجرین کے ساتھ پینسلوینا اور اوہائیو میں آئی۔

بائبل مقدس میں کرسمس ٹری کے بارے میں کوئی حکم ہے نہ کوئی ممانعت موجود ہے۔ بعض لوگوں کی جانب سے جھوٹ پر مبنی دعوئے کئے جاتے ہیں کہ یرمیاہ باب 10 آیات 1 تا 16 درختوں کو اُسی انداز میں کاٹنے اور اُنہیں سجانے سے منع کرتی ہیں جیسے ہم کرسمس پر کرتے ہیں۔ تاہم، یہاں تک کہ متن کا سرسری مطالعہ بھی واضح کر دیتا ہے کہ یہ حوالہ ایسا ہے جس میں یرمیاہ لکڑی کے بنے بُتوں کو سونے اور چاندی سے منڈھنے اور اُن کی پرستش کرنے سے منع کرتا ہے۔ اِس سے ملتا جُلتا ایک خیال یسعیاہ باب 44 میں بھی نظر آتا ہے، جہاں یسعیاہ بُت پرستوں کی حماقت کا ذکر کرتا ہے جو درخت کو کاٹتے ہیں، اور اپنے آپ کو گرم کرنے کے لئے اُس کے حصوں کو آگ میں جلاتے ہیں، اور باقی حصوں کو بُت بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں، تاکہ اُن کے آگے سجدہ کر سکیں۔ لہذہ جب تک ہم کرسمس ٹری کے آگے جھُکتے نہیں، اُنہیں تراش کر بُت نہیں بناتے، اور اُن سے دُعا نہیں کرتے، اِن حوالہ جات کا اطلاق کرسمس درختوں پر نہیں کیا جا سکتا۔

کرسمس ٹری سجانے یا نہ سجانے کے بارے میں کوئی بائبلی اہمیت موجود نہیں ہے۔ ہم جو بھی فیصلہ کریں، اِس کے بارے میں ایک ایماندار کے فیصلہ کے پیچھے مقصد خُداوند کو خوش کرنا ہونا چاہیے، جیسا کہ نیّت کے تمام معاملوں میں ہوتا ہے۔ رومیوں باب 14 آیات 5 تا 6 آزادی کے بارے میں پیراگراف میں ایک اصول متعین کرتی ہیں : "کوئی تو ایک دن کو دُوسرے سے افضل جانتا ہے اور کوئی سب دنوں کو برابر جانتا ہے۔ ہر ایک اپنے دل میں پُورا اعتقاد رکھے۔ جو کسی دن کو مانتا ہے وہ خُداوند کے لئے مانتا ہے اور جو کھاتا ہے وہ خُداوند کے واسطے کھاتا ہے کیونکہ وہ خُدا کا شکر کرتا ہے"۔ خُدا رنجیدہ ہوتا ہے جب مسیحی ایک دوسرے کو کسی خاص طریقہ سے کرسمس منانے یا نہ منانے کی وجہ سے نیچا دکھاتے ہیں۔ یہ رُوحانی تکبر ہے۔ جب ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہم نے کچھ کرنے یا نہ کرنے کے سبب جس کے بارے میں بائبل خاموش ہے کسی طرح روحانیت کی بُلند سطح حاصل کر لی ہے، ہم مسیح کے بدن میں تفرقے پیدا کر کےمسیح میں اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہیں، اور اِس طرح خُدا کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ "پس تم کھاوْ یا پیو جو کچھ کرو خُدا کے جلال کے لئے کرو" (پہلا کرنتھیوں باب 10 آیت 31)۔

English


اردو ہوم پیج میں واپسی
کیا یسوع 25 دسمبر کو پیدا ہوئے تھے؟ کیا 25 دسمبر ہی یسوع کا جنم دن ہے؟