settings icon
share icon
سوال

کیا یسوع کے بہن بھائی تھے؟

جواب


بائبل کی کئی آیات یسوع کے بھائیوں کا ذکر کرتی ہیں ۔ متی 12باب 46آیت، لوقا 8باب 19آیت اور مرقس 3باب 31آیت بتاتی ہے کہ یسوع کی ماں اور بھائی اُس سے ملنے آتے ہیں ۔ بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ " یعقوب، یوسف، شمعون اور یہوداہ یسوع کے چار بھائی تھے (متی 13باب 55آیت)۔ بائبل ہمیں یسوع کی بہنوں کے بارے میں بھی بتاتی ہے مگر اُن کی تعداد اور ناموں کا ذکر نہیں کرتی (متی 13باب 56آیت)۔ یوحنا 7باب 1- 10آیات میں یسوع کے بھائی عید پر چلے جاتے ہیں جبکہ یسوع اُن کے ساتھ نہیں جاتا۔ اعمال 1باب 14آیت میں بیان کیا جاتا ہے کہ یسوع کے بھائی اور اُس کی ماں دوسرے شاگردوں کے ساتھ دُعا میں مشغول تھے ۔ گلتیوں 1باب 19آیت بیان کرتی ہے کہ یعقوب یسوع کا بھائی تھا۔ اِن حوالہ جات کا خلاصہ یہ وضاحت کرتا ہے کہ یسوع کے یوسف اور مریم سے حقیقی بہن بھائی تھے ۔

کچھ رومن کیتھولک لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ یسوع کے یہ " بھائی " اصل میں اُس کے کزن تھے۔ تاہم ہر حوالے میں " بھائی" کےلیے ایک مخصوص یونانی لفظ کا استعمال کیا گیا ہے ۔ گوکہ یہ لفظ دوسرے رشتہ داروں کی نشاندہی بھی کر سکتا ہے مگر اِس کا روایتی اور لفظی مطلب حقیقی بھائی ہے ۔ "کزن" کےلیے ایک اور مخصوص یونانی لفظ ہے تاہم وہ لفظ یہاں استعمال نہیں کیا گیا۔ مزید یہ کہ اگر وہ یسوع کے کزن تھے تواکثر اُن کا ذکر مریم یعنی یسوع کی ماں کے ساتھ کیوں کیا گیا ہے ؟جب یسوع کی ماں اور اُس کے بھائی اُس سے ملنے آتے ہیں تو اِس بیان کے سیاق و سباق میں ایسی کوئی چیز نہیں ملتی جو اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہو کہ یہ لوگ یسوع کے حقیقی بھائیوں کے علاوہ کوئی اور تھے ۔

رومن کیتھولک کلیسیا کی طرف سے دوسری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ یسوع کے بھائی اور بہنیں اصل میں یوسف کی پہلی بیوی کی اولاد تھے ۔یہ تمام مفروضہ کہ "یوسف مریم سے عمر میں کافی بڑا تھا، وہ پہلے سے شادی شدہ تھا ، اُس کے کئی بچے تھے اور مریم کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے اُس کی پہلی بیوی مرچکی تھی "مکمل طور پر من گھڑت کہانی ہے اور اِس کو بائبل کی کوئی حمایت حاصل نہیں ۔ اِس بیان میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بائبل اِس بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیتی کہ مریم کیساتھ شادی کرنے سے پہلے یوسف شادی شدہ تھا اور اُس کے بچے بھی تھے ۔ اگر یوسف کے مریم کے ساتھ شادی کرنے سے پہلے ہی کم از کم چھ بچے تھے تو پھر یوسف اور مریم کے بیت لحم کے سفر ( لوقا 2باب 4-7آیات) یا اُن کے مصر کے سفر ( متی 2باب 13-15آیات) یا ناصرت کی طرف واپسی کے سفر (متی 2باب 20-23) کے بیان میں اُن کا ذکر کیوں نہیں کیا گیا ؟

اِس بات کی تصدیق و توثیق کےلیے بائبل کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے کہ یسوع کے یہ بہن بھائی یوسف اور مریم کی حقیقی اولاد کے علاوہ کوئی اور لوگ تھے ۔ ایسے لوگ جو اِس خیال کی مخالفت کرتے ہیں کہ یسوع کے اور بہن بھائی نہیں تھے بائبل کی تعلیم کے مطابق درست نہیں ہے کیونکہ وہ مریم کے"ابدی طور پر کنوارے" رہنے کے تصور کی وجہ سے اِس حقیقت کی مخالفت کرتے ہیں اور اُن کا مریم کے "ابدی کنوارے پن" کا نظریہ بھی بائبل مُقدس کی تعلیمات کی روشنی میں درست نہیں ہے: " اور اُس کو نہ جانا جب تک اُس کے بیٹا نہ ہؤا اور اُس کا نام یسوع رکھا"( متی 1باب 25آیت)۔ یسوع کے اور رشتے دار یعنی اُسکے بہن بھائی تھے جو یوسف اور مریم کی اولاد تھے ۔ کلامِ خد اکی واضح اور غیر مبہم تعلیم یہی ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا یسوع کے بہن بھائی تھے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries