settings icon
share icon
سوال

کیا یسوع کی پیدایش کے بیانات ایک دوسرے کی تردید کرتے ہیں ؟

جواب


چار میں سے صرف دو اناجیل ہی یسوع کی پیدایش سے منسلک واقعات کا بیان پیش کرتی ہیں۔ متی 1-2 ابواب پورب سے آنے والے مجوسیوں کی کہانی سمیت یوسف کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں ۔ لوقا 1-2ابواب مجوسیوں کا ذکر نہیں کرتے لیکن مریم اور دیگر مختلف لوگوں (الیشبع، زکریاہ ، چرواہوں ، شمعون اورحناہ)پر توجہ مرکوز کرتے ہیں جنہوں نے خُدا کے بیٹے کے مجسم ہونے کے لیے خدا کی حمد کی تھی۔

مختلف لوگوں کا دعویٰ ہے کہ متی کی انجیل اور لوقا کی انجیل ایک دوسرے سے متصادم ہیں اور اِن میں موجود یسوع کی پیدایش سے متعلقہ بیانات ایک دوسرے کی تردید کرتے ہیں۔ یہ دعویٰ جھوٹا ہے اور متی اور لوقا کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کو بڑی آسانی سے ہم آہنگ مجموعے کی شکل دی جا سکتی ہے ۔

سب سے پہلے یہاں وہ تفصیلات پیش کی جاتی ہیں جن پر متی اور لوقا بلاشبہ متفق ہیں:

یسوع ایک کنواری سے پیدا ہوا تھا (متی 1باب 18، 23، 25آیات ؛ لوقا1باب 27آیت)۔

مریم اور یوسف گلیل کے ایک شہر ناصرۃ میں رہتے تھے (متی 2باب 23آیت؛ لوقا 1باب 26آیت ؛ 2باب 4آیت)۔

یسوع بیت لحم میں پیدا ہوا تھا (متی2باب 1آیت؛ لوقا 2باب 4-7آیات)۔

یسوع کی پیدایش کے بعد مریم اور یوسف ناصرۃ شہر واپس آگئے تھے(متی 2باب 23آیت؛ لوقا 2باب 39آیت)۔

دوسرے نمبر پر یہاں وہ تفصیلات پیش کی جاتی ہیں جو اِن اناجیل کے ہرمصنف کے لحاظ سے منفرد ہیں:

مجوسی یسوع سے ملتے ہیں (متی 2باب 1-12آیات)۔

ہیرودیس کے ظلم و ستم سے بچنے کے لیے یوسف اور مریم مصر کو بھاگ جاتے ہیں(متی 2:13-18)۔

چرواہوں کا ایک گروہ چرنی میں لیٹے ہوئے یسوع کو دیکھتا ہے (لوقا 2باب 8-20آیات)۔

شریعت کی پیروی میں یوسف اور مریم بچّے یسوع کو یروشلیم کے اندر ہیکل میں لیکر جاتے ہیں (لوقا 2باب 22-39آیات)۔

جو لوگ مسیح کی پیدایش کے بیانات میں تضاد کے پائے جانے کا دعویٰ کرتے ہیں وہ عام طور پر لوقا 2باب 39آیت جس میں درج ہے کہ " جب وہ خُداوند کی شرِیعت کے مطابق سب کچھ کر چکے تو گلیل میں اپنے شہر ناصرۃ کو پھر گئے" اور متی 2باب 21-23 آیات جس میں درج ہے کہ " پس وہ اُٹھا اور بچّے اور اُس کی ماں کو ساتھ لے کر اِسرائیل کے مُلک میں آ گیا۔ مگر جب سُنا کہ اَرخلاؔؤس اپنے باپ ہیرودیس کی جگہ یہُودیہ میں بادشاہی کرتا ہے تو وہاں جانے سے ڈرا اور خواب میں ہدایت پا کر گلیل کے علاقہ کو روانہ ہو گیا۔ اور ناصرۃ نام ایک شہر میں جا بسا " کی طرف اشارہ کرتے ہیں ۔ ناقدین کے مطابق لوقا جو مصر کی جانب سفر کے بارے میں کچھ نہیں بتاتا اِس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یسوع کو ہیکل سے براہ راست ناصرۃ لے جایا گیا تھا؛ اور متی جو ہیکل کی رسومات کا ذکر نہیں کرتا اُسکا کہنا ہے کہ یسوع کو مصر سے براہ راست ناصرۃ لے جایا گیا تھا۔

اس بات کو تسلیم کرنا ضروری ہے کہ خاموشی تردید کے مترادف نہیں ہے۔ لوقا کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات میں مصر کے سفر کی غیر موجودگی اس بات کا ثبوت خیال نہیں کی جا سکتی کہ ایسا کبھی رونما نہیں ہوا تھا۔ لوقا نے کبھی یہ نہیں کہا کہ یوسف اور مریم مصر نہیں گئے تھے؛ وہ محض اس واقعے پر اپنی رائے نہیں دیتا۔ متی نے پیدایش کے وقت آنے والے چرواہوں کا کبھی ذکر نہیں کیا –پس چونکہ متی اِس بات کا ذکر نہیں کرتا تو کیا ہم اِس کی وجہ سے یہ فرض کر لیں کہ کوئی چرواہے نہیں آئےتھے ؟ یہ حقیقت بھی اہمیت کی حامل ہے کہ نہ تو متی اور نہ ہی لوقا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ مسیح کی پیدایش کے بارے میں ہر طرح کی تفصیلات کا ایک مکمل بیان درج کر رہا ہے ۔

پس سوال یہ ہے کہ کیا لوقا کا بیان مصر کے سفر کے لیے معقول وقت فراہم کرتا ہے؟ یسوع کے ختنہ اورپھر اُسے ہیکل لے کر جائے جانے کے درمیان 32 دن - تقریباً ایک مہینہ تھا ۔ اُس وقت کے اندر اندرمصر کی جانب سفر اور واپسی کو ترتیب دینے کی کوشش کرنا مشکل ہے۔ ہیکل میں یسوع کو لے کر جانے کے بعد مصر کی جانب سفر کے واقعے کو رکھنا متی اور لوقا کی تفصیلات کو ہم آہنگ کرنے کا ایک بہتر طریقہ ہے ۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے یوسف اور مریم یسوع کی پیدایش کے بعد بیت لحم میں ہی رہے تھے اور اُن کے پاس رہنے کی جگہ–متی 2باب 11آیت میں درج "گھر" تھی ۔

لوقا 2باب 39آیت بیان کرتی ہے کہ " جب وہ خُداوند کی شرِیعت کے مطابق سب کچھ کر چکے تو گلیل میں اپنے شہر ناصرۃ کو پھر گئے"۔غور کریں کہ لوقا یہ نہیں کہتا کہ وہ فوراً گلیل واپس آئے اور آیت میں اس لفظ کو شامل کرنے کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے۔ (بالآخر ایسا لفظ ہے جسے کوئی بھی شخص بڑی آسانی سے شامل کر سکتا ہے)۔ حقیقت یہ ہے کہ لوقا اس بات کی وضاحت نہیں کرتا کہ اس سب کے دوران کتنا وقت گزراتھا ۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ ہیکل میں یسوع بچّے کو لیکر جانے کے بعد یوسف اور مریم ناصرۃ میں آباد ہو گئے تھے ۔یہ کئی دنوں بعد ہو سکتا تھا۔ اِس میں مہینے لگ سکتے تھے۔ اگر ہم مصر کی جانب سفر کو لوقا 2 باب 39آیت کے وسط میں رکھتے ہیں تو ہمیں ایک قابل عمل تاریخی تسلسل حاصل ہو جاتا ہے:

1. بچّے یسوع کے ساتھ ہیکل میں جانے کے بعد یوسف اور مریم بیت لحم واپس آتے ہیں۔ (یسوع کی پیدایش کے مہینے میں یوسف نے شاید وہاں عارضی کام کی تلاش کی تھی اور یہ کام ممکنہ طور پر زیادہ دیر تک چلتا رہا تھا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ یوسف اپنے نئے خاندان کو دوبارہ بیت لحم میں آباد کرنے کا سوچ رہا تھا اس خیال سے کہ داؤد کے بیٹے کے لیے اچھا ہو گا کہ وہ داؤد کے شہر میں پلے بڑھے)۔

2. شمعون اور حناہ اس خبر کو پھیلانا شروع کر دیتے ہیں کہ یروشلیم میں انہوں نے مسیحاکو دیکھا ہے (لوقا 2باب 25-38آیات)۔

3. کچھ وقت بعد مجوسی یروشلیم میں پہنچتے ہیں اور راستے میں اس خبر کی تصدیق کرتے ہیں کہ مسیحا پیدا ہو چکا ہے (متی 2باب 1-2آیات)۔ ہیرودیس مجوسیوں کو بیت لحم بھیجتا ہے جہاں وہ نو عمر یسوع کو پاتے ہیں (متی 2باب 3-11آیات)

4. مجوسی کسی اور راستے سے واپس لوٹ جاتے ہیں اور یوسف کو خواب میں خبردار کیا جاتا ہے کہ وہ مصر بھاگ جائے (متی 2باب 12-13آیات)۔

5. کچھ دیر کے بعد ہیرودیس کو معلوم ہو جاتا ہے کہ مجوسیوں نے اس کی تمناؤں اور ہدایات کی پرواہ نہیں کی اور وہ بیت لحم کے گردونواح میں موجود دو سال اور اس سے کم عمر کے تمام لڑکوں کو قتل کرنے کا حکم دیتا ہے (متی 2باب 16آیت)۔ "دو سال" کے شما ر سے پتہ چلتا ہے کہ یسوع پہلے ہی اتنا بڑھا ہو چکا تھا۔

6. ہیرودیس 4قبل از مسیح میں مر جاتا ہے ۔

7. یوسف اپنے خاندان کو مصر سے واپس لے آتا ہے (متی 2باب 19-21آیات)۔ ہیرودیس کے بیٹے کے خوف سےیوسف بیت لحم میں آباد ہونے کا اپنا منصوبہ بدل دیتا ہے اور اِس کے بجائے واپس گلیل چلا جاتا ہے (متی 2باب 22-23آیات)۔

مندرجہ بالا تاریخی تسلسل میں ایسی کوئی بات نہیں ہے جو متی یا لوقا کی تفصیلات سے متصادم ہو۔ متی 2باب 21-23آیات اور لوقا 2باب 39آیت کے درمیان تضاد تلاش کرنے کا واحد طریقہ کلامِ مقدس کی سچائی کے خلاف پہلے سے قائم کردہ تعصبات کی بنیاد پر مفروضے تشکیل دینا ہے ۔

کچھ ناقدین یسوع کی پیدایش کی تفصیلات سے وابستہ نسب ناموں میں ایک اور متوقع تضاد ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ متی 1باب 16 آیت کہتی ہے کہ یوسف کا باپ یعقوب تھا؛ لوقا 3باب 23آیت کا کہنا ہے کہ یوسف کا باپ عیلی تھا۔ اس حوالے سے بہت سے نظریات پائے جاتے ہیں لیکن اس بظاہر تضاد کا بہترین جواب یہ ہے کہ لوقا مریم کاجبکہ متی یوسف کا نسب نامہ درج کر رہا ہے ۔مشترکہ یونانی زبان میں ایسا کوئی لفظ نہیں تھا جو خصوصی طور "داماد" کا معنی رکھتا تھااور اس لیے یوسف عیلی کی بیٹی مریم سے شادی کرنے کے سبب "عیلی کا بیٹا" کہلاتا ہے۔ یوسف شادی کے وسیلہ سے عیلی کا "بیٹا"بنا تھا۔

اناجیل چار مختلف اشخاص کی طرف سے چار منفرد سامعین کے لیے لکھی گئی تھیں لہذا یہ فطری بات ہے کہ اُن میں مسیح کی زندگی سے متعلق مختلف تفصیلات شامل ہوں۔ لیکن اُن تصانیف کی نگرانی رُوح القدس کی طرف سے کی گئی تھی جس نے اس بات کو یقینی بنا یا کہ ہر مصنف مکمل سچائی کو قلمبند کرے۔اُن میں اختلافات پائے جاتے ہیں مگر اُن سب کو ہم آہنگ کیا جا سکتا ہے۔ متی اور لوقا کی انجیل میں یسوع کی پیدایش کی تفصیلات ایک دوسرے کی متضاد نہیں بلکہ ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔



English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا یسوع کی پیدایش کے بیانات ایک دوسرے کی تردید کرتے ہیں ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries