settings icon
share icon
سوال

یوحنا 1 باب 1، 14 آیات جب بیان کرتی ہے کہ یسوع خُدا کا کلام ہے تو اِس سے کیا مُراد ہے؟

جواب


اِس سوال کا جواب اِس بات کو سمجھنے میں مل سکتا ہے کہ یوحنا نے اپنی یہ انجیل کس وجہ سے لکھی تھی۔ ہم یوحنا کے مقصد کو بڑے واضح طور پر یوحنا 20 باب 30-31آیات میں لکھا ہوا دیکھتے ہیں۔ "اوریسو ع نے اَور بہت سے معجزے شاگردوں کے سامنے دِکھائے جو اِس کتاب میں لکھے نہیں گئے۔لیکن یہ اِس لئے لکھے گئے کہ تم اِیمان لاؤ کہ یسو ع ہی خُدا کا بیٹا مسیح ہے اور اِیمان لا کر اُس کے نام سے زِندگی پاؤ۔" ایک بار جب ہم اِس بات کو سمجھ لیں کہ یوحنا کا مقصد یہ تھا کہ وہ اِس سچائی کو ثابت کرتے ہوئے کہ یسوع کون ہےاور اُس نے کیا کچھ کیا ہے، اپنی انجیل کے قارئین کو یسوع مسیح سے متعارف کروائے، اور اِس سب میں اُس کا واحد حتمی مقصد یہ تھا کہ وہ لوگوں کی اِس بات میں رہنمائی کرے کہ وہ یسوع کے نجات بخش کام پر ایمان لاتے ہوئےاُسے قبول کریں ، تو اُس صورت میں ہم بہتر طور پر اِس بات کو سمجھ پائیں گے کہ یوحنا اپنی انجیل کے 1 باب 1 آیت میں یسوع کو بطورِ کلام کیوں متعارف کرواتا ہے۔

جب یوحنا اپنی انجیل کا آغاز اِس بیان کے ساتھ کرتا ہے کہ "اِبتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا"تو ایسے میں وہ یسوع کو ایک خاص اصطلاح کے ساتھ متعارف کروا رہا تھا جس سے اُس کے دور کے یہودی بھی اچھی طرح واقف تھے اور غیر اقوام کے لوگ بھی۔ اِس حوالے میں جس یونانی لفظ کا ترجمہ "کلام" ہوا ہے وہ لفظ دراصل "لوگوس" ہے اور یہ اُس دور کے یونانی فلسفے اور عام یہودیوں کی بات چیت میں بہت زیادہ استعمال ہوا کرتا تھا۔ مثال کے طور پر پرانے عہد نامے میں خُدا کے "کلام" کو اکثر ایک ایسی خاص طاقت یا شخصیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے جو خُدا کی مرضی کو پورا کرتی ہے (33 زبور 6آیت؛ 107 زبور 20آیت؛ 147زبور 15-18آیات)۔ پس جس وقت یوحنا یہودیوں کے سامنے یسوع کو خُدا کے "کلام" کے طور پر پیش کرتا ہے تو اُن کے لیے یوحنا یسوع کو کلام قرار دے کر پرانے عہد نامے کی طرف اشارہ کر رہا ہےجہاں پر خُدا کے کلام یعنی" لوگوس" کو خُدا کی مرضی یا مکاشفے کو ظاہر کرنے والی ایک ذات ، شخصیت یا قوت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اور یونانی فلسفے کے اندر "لوگوس" در اصل وہ درمیانی کارگزار ہے جس کے ذریعے سے خُدا نے ساری مادی چیزوں کو تخلیق کیا اور اُن کے ساتھ رابطہ کیا۔ یونانی نظریہ ِ حیات کے اندر "لوگوس" دراصل اعلیٰ و ارفع خُدا اور اُس کی مادی تخلیق کے درمیان میں ایک پُل کی حیثیت رکھتا تھا۔ اِس لیے یوحنا کے یونانی قارئین کے لیے اِس اصطلاح "لوگوس" کا استعمال خُدا اور اِس دُنیا کے درمیان ایک درمیانی کا تصور پیش کرتا ہے۔

پس جب یوحنا رسول یسوع کو خُدا کے کلام " لوگوس" کے طور پر متعارف کرواتا ہے تو وہ دراصل ایک ایسے تصور کو استعمال کر رہا ہے جو یہودیوں اور غیر اقوام کے لیے جانا پہچانا تھا اور اپنی انجیل کے بالکل آغاز میں ہی اُس کا استعمال کر کے وہ سب لوگوں کو یسوع کے ساتھ متعارف کرواتا ہے۔ لیکن یوحنا یسوع کی ذات کے حوالے سے صرف یہیں پر نہیں ٹھہرتا بلکہ یہودیوں اور یونانیوں کے لیے موجود اِس معروف تصور سے آگے بڑھتے ہوئے یسوع کو ایک درمیانی کے ساتھ ساتھ ایک ایسی حقیقی ذات کے طور پر بھی پیش کرتا ہے جو ایک ہی وقت میں کامل انسان بھی ہے اور کامل خُدا بھی۔ اِس کے ساتھ ساتھ یہودیوں کے نقطہ نظر سے یسوع مسیح خُدا کے کلام کی محض شبیہ ہی نہیں تھا بلکہ وہ مجسم حالت میں خُداکی ذات کا کامل مکاشفہ تھااور اِس حوالے سے تو یوحنا یسوع کے اپنے الفاظ کا ذکر کرتا ہے "یسوع نے اُس سے کہا اَے فلپس ! مَیں اِتنی مدت سے تمہارے ساتھ ہوں کیا تُو مجھے نہیں جانتا؟ جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا ۔ تُو کیوں کر کہتا ہے کہ باپ کو ہمیں دِکھا؟" (یوحنا 14 باب 9آیت)۔ پس یوحنا 1 باب 1 آیت میں "کلام" یا "لوگوس" کی اصطلاح کا استعمال کرتے ہوئے یسوع کو ایک ہی وقت میں یہودیوں اور غیر اقوام کے لوگوں سے ایک بامعنی طریقے متعارف کرواتا اور اُن کے سامنے حقیقی کلام کا تصور پیش کرتا ہے جو کہ زندہ خُدا کا کلام مسیح یسوع ، کامل خُدا اور کامل انسان ہے۔ جو اِس زمین پر خُدا کی ذات کوظاہر کرنے اور اُن سب کو نجات دینے آیا جو اُس پر اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر ایمان لاتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یوحنا 1 باب 1، 14 آیات جب بیان کرتی ہے کہ یسوع خُدا کا کلام ہے تو اِس سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries