settings icon
share icon
سوال

یسوع کے خُدا کا بیٹا ہونے سے کیا مُراد ہے؟

جواب


جس طرح انسانی لحاظ سے دو لوگ باپ اور بیٹا ہوتے ہیں یسوع قطعی طور پر اِس طرح سے خُدا کا بیٹا نہیں ہے۔ خُدا نے کبھی شادی نہیں کی اور نہ ہی اِس طرح سے اُس کا کوئی بیٹا پیدا ہوا تھا۔ مریم خُدا کی مخلوق اور بندی تھی، اُس کے وسیلے یسوع کی پیدایش کو بھی قطعی انسانی پیدایش کے طریقہ کار سے کسی طورپر تشبیہ نہیں دیا جا سکتا۔ یسوع خُدا کا بیٹا اِس لحاظ سے ہے کہ اُس کے وسیلے سے خُدا نے اپنی ذات کو انسانی صورت میں ظاہر کیا تھا (یوحنا 1باب1، 14آیات)۔ یسوع اِس لحاظ سے خُدا کا بیٹا ہے کہ وہ رُوح القدس کی قدرت سے مریم کے پیٹ میں پڑا تھا۔ لوقا 1باب 35آیت بیان کرتی ہے کہ "اور فرِشتہ نے جواب میں اُس سے کہا کہ رُوح القدس تجھ پر نازِل ہو گا اور خُدا تعالےٰ کی قدرت تجھ پر سایہ ڈالے گی اور اِس سبب سے وہ مولودِ مُقدّس خُدا کا بیٹاکہلائے گا۔"

جب یسوع پر مقدمہ چلایا گیا تو یہودی مجلس میں سردار کاہن نے یسوع کو قسم دی اور کچھ یوں اصرار کیا" مَیں تجھے زِندہ خُدا کی قَسم دیتا ہوں کہ اگر تُو خُدا کا بیٹا مسیح ہے تو ہم سے کہہ دے"(متی 26باب 63آیت)۔ "یسو ع نے اُس سے کہا تُو نے خُود کہہ دِیا بلکہ مَیں تم سے کہتا ہوں کہ اِس کے بعد تم اِبنِ آدم کو قادرِ مُطلق کی دہنی طرف بیٹھے اور آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھو گے"(متی 26باب64آیت)۔ اِس پر یہودی رہنماؤں نے یسوع پر کفر بولنے کا فتویٰ لگایا(متی 26باب 65- 66آیات)۔ اُس کے بعد پنطس پیلاطس کے سامنے "یہودیوں نے اُسے جواب دِیا کہ ہم اہلِ شرِیعت ہیں اور شرِیعت کے موافق وہ قتل کے لائق ہے کیونکہ اُس نے اپنے آپ کو خُدا کا بیٹا بنایا" (یوحنا 19باب 7آیت)۔ یسوع مسیح کے خُدا کا بیٹا ہونے کا دعویٰ یہودیوں کے نزدیک کفر کے مترادف کیوں تھا اور اِس دعوےکی جسے وہ کفر کہتے تھے سزا موت کیوں تھی؟یہودی مذہبی رہنما اچھی طرح جانتے تھے کہ جب یسوع یہ اصطلاح "خُدا کا بیٹا" استعمال کرتا ہے تو اُس کا کیا مطلب ہے۔ خُدا کا بیٹا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بھی خُدائی صفات و اوصاف کا حامل ہے – یعنی حقیقت میں وہ بھی خُدا ہے – اور یہ بات یہودیوں کے لیے کفر کے برابر تھی اِسی لیے وہ احبار 24باب15آیت کی تعلیمات کی روشنی میں یسوع کی موت کا مطالبہ کر رہے تھے۔ عبرانیوں 1باب 3 آیت اِس بات کا بہت واضح طور پر اظہار کرتی ہے "وہ اُس کے جلال کا پرتَو اور اُس کی ذات کا نقش ہو کر سب چیزوں کو اپنی قُدرت کے کلام سے سنبھالتا ہے ۔ وہ گناہوں کو دھو کر عالَم ِبالا پر کِبریا کی د ہنی طرف جا بیٹھا۔"

اِسے سمجھنے کے لیے ایک اور مثال یوحنا 17باب12آیت میں ہمیں ملتی ہے جہاں پر یہودہ اسکریوتی کو "ہلاکت کے فرزند" کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ یوحنا 6باب71آیت ہمیں بتاتی ہے کہ یہوداہ شمعون کا بیٹا تھا۔ تو پھر یوحنا کی انجیل کے 17باب 12آیت کے اندر یہوداہ کو "ہلاکت کا فرزند" کہہ کر بلانے سے کیا مُراد ہے؟ لفظ "ہلاکت" کے معنی ہیں"تباہی، بربادی، ضیاع، موت"۔ یہوداہ حقیقی طور پر تباہی، بربادی، ضیاع یا موت کا فرزند تو نہیں تھا، لیکن در حقیقت یہ وہ چیزیں تھیں جو یہوداہ کی زندگی کی شناخت تھیں۔ یہوداہ کی شخصیت در اصل ہلاکت کو ظاہر کرتی تھی۔ بالکل اِسی انداز سے ہمیں یسوع کو خُدا کے بیٹے کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ خُدا کا بیٹا خُدائی صفات کا حامل –خُدا–ہے۔ یسوع مجسم خُدا ہے (یوحنا 1باب1، 14آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یسوع کے خُدا کا بیٹا ہونے سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries