settings icon
share icon
سوال

یسوع کے خُدا کا برّہ ہونے سے کیا مُراد ہے؟

جواب


جب یسوع کو یوحنا 1باب 29 اور 36آیات میں خدا کا برّ ہ کہا گیا ہے تو اصل میں اِن آیات کے اندر اُس کو گناہ کےلیے کامل اور حتمی قربانی کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ مسیح کون تھا اور اُس نے کیا کِیا تھا اِس حقیقت کو سمجھنے کےلیے ہمیں پرانے عہد نامے سے شروع کرنا پڑے گاجس میں مسیح کے " گناہ کی قربانی "کے برّے (یسعیاہ 53باب 10 آیت) کی حیثیت سے دنیا میں آنے کے متعلق نبوتیں پائی جاتی ہیں ۔ اصل میں پرانے عہد نامے میں خدا کی طرف سے قائم کردہ قربانیوں کا نظام مسیح یسوع کی آمد کےلیے بنیاد مہیا کرتا ہے جو کامل قربانی ہے اور جسے خدا اپنے لوگوں کے گناہوں کے کفارے کے طور پرمہیا کرنے کو تھا ( رومیوں 8باب 3آیت؛ عبرانیوں 10باب)۔

برّوں کی قربانی یہودی مذہبی زندگی اور قربانی کے نظام میں بہت اہم کردار ادا کرتی تھی ۔ جب یوحنا بپتسمہ دینے والے نے یسوع کے بارے میں کہا" یہ خدا کا برّہ ہے جو دُنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے "( یوحنا 1باب 29آیت) تو جن یہودیوں نے یوحنا کی یہ بات سُنی تھی اُن کے ذہن میں فوراً کچھ اہم ترین قربانیوں کاخیال ضرور آیا ہو گا۔ عید ِ فسح کے بہت قریب ہونے کے باعث ممکنہ طور پر پہلا خیال عیدِ فسح پر قربان کئے جانے والے برّے کا ہوگا ۔ عیدِ فسح یہودی عید وں میں سے ایک اہم ترین عید تھی جو خدا کی طرف سے اسرائیلیوں کی مصر کی غلامی سے آزادی کی یاد میں منائی جاتی تھی ۔ حقیقت میں فسح کے برّے کا قربان کیا جانا اور اُس کے خون کا دروازوں کی چوکھٹوں پر لگایا جانا ( خروج 12باب 11- 13 آیات) صلیب پر مسیح کے کفارے کی ایک خوبصورت تصویر کشی ہے ۔ یسوع نے ہمارےکفارے کے لیے اپنی جان دی ہے اور اُس کے خون نے ہمیں ڈھانپ لیا ہے اور اب ہم ( رُوحانی ) موت کے فرشتہ سے محفوظ ہیں ۔

یروشلیم کی ہیکل میں ہر زور برّوں کی قر بانیاں چڑھائی جاتی تھیں اور یہ ایک اہم قربانی تھی ۔ ہیکل میں لوگوں کے گناہوں کےلیے ایک برّہ صبح اور ایک برّہ شام کو قربان کیا جاتا تھا ( خروج 29باب 38-42آیات)۔ روزمرہ کی قربانیوں اور اِن جیسی دیگر قربانیوں کا مقصد صرف صلیب پر مسیح کی کامل قربانی کی طرف متوجہ کرنا تھا ۔ حقیقت میں صلیب پر مسیح کی موت کے وقت اور ہیکل میں شام کی قربانی کے وقت میں کافی مطابقت پائی جاتی ہے ۔ اُس وقت کے یہودی پرانے عہد نامے کے نبی یرمیاہ اور یسعیاہ سے بھی واقف ہوں گے جنہوں نے ایک ایسے انسان کی پیشن گوئی کی تھی جسے" برہ کی مانند ذبح کرنے کو لے جاتے ہیں "( یرمیاہ 11باب 19آیت؛ یسعیاہ 53باب 7آیت) اور جس کی اذیت اور قربانی اسرائیل کےلیے نجات مہیا کرے گی ۔ یقیناً وہ یسوع مسیح " خدا کے برّے " کے علاوہ کوئی اور شخص نہیں تھا۔

ہو سکتا ہے کہ آج کے دور میں قربانی کے نظام کا تصور ہمیں کچھ عجیب معلوم ہو، بہر حال ہرجانے /معاوضے یا تلافی کا تصور ان باتوں کو سمجھنے میں ہمارا مددگارثابت ہو سکتا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ گناہ کی مزدوری موت ہے ( رومیوں 6باب 23آیت) اور یہ بھی کہ ہمارا گناہ ہمیں خدا سے جُدا کر تاہے ۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ بائبل سکھاتی ہے کہ ہم سب گنہگار ہیں اور خدا کے حضور ہم میں سے کوئی بھی راستباز نہیں( رومیوں 3باب 23آیت)۔ اپنے گناہ کے باعث ہم خدا سے جدا ہو گئے ہیں اور اُس کے سامنے قصور وار ہیں۔ لہذا ہم ایک ہی اُمید کر سکتے ہیں کہ خدا خود ہمیں ایک ایسی راہ مہیا کرے جس کے ذریعے ہماری اُس سے صلح ہو جائے اور یہ راہ اُس نے اپنے بیٹے یسوع مسیح کو صلیب پر قربان کرنے کے ذریعے مہیا کی ہے ۔ مسیح گناہ کا کفارہ ادا کرنے اور اُن زندگیوں کے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کےلیے مُوا ء جو اُس پر ایمان لاتی ہیں ۔

گناہ کےلیے مسیح کی صلیب پر کامل قربانی اور تین دن کے بعد مُردوں میں سےاُسکے جی اُٹھنے ہی کےباعث یہ ممکن ہوا کہ ہم اُس پر ایمان لا کر ہمیشہ کی زندگی کو حاصل کر سکیں۔ یہ حقیقت انجیل کی شاندار خوشخبری کا ایک اہم حصہ ہے کہ خدا نے خود ہمارے گناہوں کےلیے کفارہ مہیا کیا ہے اور یہ بات 1پطرس 1باب 18-21آیات میں بڑے واضح طور پر بیان کی گئی ہے: " کیونکہ تم جانتے ہو کہ تمہارا نکما چال چلن جو باپ دادا سے چلاتا آتا تھا اُس سے تمہاری خلاصی فانی چیزوں یعنی سونے چاندی کے ذریعہ سے نہیں ہوئی ۔ بلکہ ایک بے عیب اور بے داغ برّے یعنی مسیح کے بیش قیمت خون سے ۔ اُس کا علم تو بنایِ عالم سے پیشتر سے تھا مگر ظہور اخیر زمانہ میں تماری خاطر ہؤا کہ اُس کے وسیلہ سے خدا پر ایمان لائے ہو جس نے اُس کو مُردوں میں سے جلایا اور جلال بخشا تاکہ تمہارا ایمان اور اُمید خدا پر ہو"۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یسوع کے خُدا کا برّہ ہونے سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries