settings icon
share icon
سوال

جین مت کیا ہے ؟

جواب


جین مت کا آغاز چھٹی صدی میں ہندو مذہب میں اصلاحی تحریک کے طور پر ہوا تھا ۔ اِس کی بنیاد اِسکے بانی مہاویرکی تعلیمات پر رکھی گئی ہے۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ خود ی سے انکار کی زندگی "روشن خیالی" کے حصول کا راستہ ہے مہاویر 12 سال تک ہندوستان میں ننگا اور بغیر بولے پھرتارہا اور مشکلات اور زیادتیوں کو برداشت کرتارہا ۔ اس کے بعد اس نے اپنے نئے عقیدے کی منادی کرتے ہوئے شاگرد بنا ئے ۔ مہاویر کسی اعلیٰ ہستی کو تسلیم کرنے یا اس کی پوجا کرنے کے خیال کے سخت مخالف تھا ۔ اگرچہ مہاویر نے کسی بھی ایسے خدا یا معبود کی موجودگی سے انکار کیا تھا جس کی پوجا کی جائے لیکن دوسرے مذہبی رہنماؤں کی طرح اُس کے پیروکاروں نے بھی اُس کے مرنے کے بعد اُسے دیوتا خیال کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کا نام چوبیسواں تیرتھانکر (جین مت کے مطابق سَنت) تھا جو آخری اور سب سے بڑا نجات دہندہ ہے۔ جین مت کی مذہبی تصانیف کے مطابق مہاویر آسمان سے اترا تھا۔ اُس نے بذات خود کوئی گناہ نہیں کیا تھا اور مراقبہ کے ذریعے اپنے آپ کو تمام زمینی خواہشات سے آزاد کیا تھا ۔

کیونکہ اِس تعلیم کے مطابق کوئی شخص بھی اپنی نجات صرف اور صرف رہبانیت (سخت قسم کے ضبط نفس)کے راستے پر چلنے سے حاصل کرتا ہے اِس لیے جین مت انتہائی سخت مذہبی کٹر پن کا دین ہے ۔ اس مذہب میں کوئی آزادی نہیں صرف اصول ہیں بنیادی طور پر پانچ عظیم قسمیں ہیں جو کہ (1) جانداروں کو قتل کرنے ، (2) جھوٹ بولنے ، (3) لالچ ، (4) جنسی تسکین اور (5) دنیاوی وابستگیوں کو ترک کرنے کا حکم دیتی ہیں۔ عورتوں سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کی جاتی ہے کیونکہ عورتیں ہر قسم کی برائی کا سبب خیال کی جاتی ہیں ۔

تمام جھوٹے مذاہب کی طرح جین مت بھی بائبلی مسیحیت سے مطابقت نہیں رکھتا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ بائبل سچے اور زندہ خدا کے علاوہ کسی بھی معبود کی عبادت کرنے کی مذمت کرتی ہے۔"خُداوند تیرا خُدا ۔۔۔۔۔۔ مَیں ہوں۔ میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا" (خروج 20باب 2-3آیات)۔ "مَیں ہی خُداوند ہوں اَور کوئی نہیں۔ میرے سوا کوئی خُدا نہیں " (یسعیاہ 45باب 5آیت)۔ مہاویر ہرگز خدا نہیں بلکہ ایک عام انسان تھا ۔ تمام انسانوں کی طرح وہ بھی پیدا ہوا، گناہ کیا اورمر گیا تھا ۔ وہ بے گناہی کی کمال حالت تک نہیں پہنچا تھا ۔ صرف ایک شخص خداوند یسوع مسیح نے کامل زندگی بسر کی تھی جو "سب باتوں میں ہماری طرح آزمایا گیا تَو بھی بے گُناہ رہا" (عبرانیوں 4باب 15آیت)۔

دوسری بات یہ کہ بائبل یہ واضح کرتی ہے کہ قوانین اور تعلیمات حتی ٰ کہ سچے اور زندہ خدا کی طرف سے ملنے والے قوانین پر عمل کرنا بھی ایسی راستبازی کو پیدا نہیں کرے گا جو نجات کےلیے ضروری ہے ۔ "کیونکہ شرِیعت کے اَعمال سے کوئی بشر راست باز نہ ٹھہرے گا" (گلتیوں 2باب 6 آیت)۔بائبل سکھاتی ہے کہ نجات یسوع مسیح کے بہائے ہوئے خون پر ایمان لانے کے وسیلے فضل ہی سے ہے ( افسیوں 2باب 8-9آیات) جس نے صلیب پر ہما رے گناہ کو برداشت کیا تاکہ ہم اس کی راستبازی میں شامل ہو سکیں۔ "جو گُناہ سے واقِف نہ تھا اُسی کو اُس نے ہمارے واسطے گُناہ ٹھہرایا تاکہ ہم اُس میں ہو کر خُدا کی راست بازی ہو جائیں " (2کرنتھیوں 5باب 21آیت)۔ ) یسوع نے جس ایمان کی تعلیم دی ہے وہ لوگوں کے بوجھ کو کم کرتا ہے جبکہ جین مت صرف اُن کے بوجھ میں اضافہ کرتا ہے ۔

آخر ی بات ، جین مت کی دو "عظیم قسمیں" خدا کے نازل کردہ کلام سے براہ راست متصادم ہیں۔گوکہ لالچ ، جھوٹ اور دنیاوی لگن سے بچنا قابل تعریف بات ہے لیکن اگر انتہا پسندی اختیار کی جائے تو جنسی تسکین سے کنارہ کرنے کے باعث بنی نوع انسان کا خاتمہ ہو جائےگا ۔ زمین پر انسانوں کی نسلوں کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لیے خدا نے ہمیں جنسی خواہشات کا تحفہ دیا۔ پاک نکاح کے اصول و ضوابط کے مطابق زندگی گزارتے ہوئے جنسی خواہش اپنی مکمل تکمیل پاتی ہے اور ہماری نسلوں کا مستقبل بھی یقینی رہتا ہے (پیدایش 1باب 28آیت؛ 2باب 24آیت؛ 9باب 1آیت)۔ اس کے علاوہ جین مت کے عقائد میں سے ایک عقید ہ"آہنسہ" کا ہے یعنی کسی بھی طر ح سے زندگی لینے یا کسی بھی ذی جان کو مارنے کی ممانعت۔ یہ تعلیم پرانے اور نئے دونوں عہد ناموں سے براہ راست متصادم ہے جہاں خدا نے خوراک کے لیے انسانوں کو جانور وں کا گوشت کھانے کی اجازت دی تھی (احبار 11 باب ؛ اعمال 10باب )۔

تمام جھوٹے مذاہب کی طرح جین مت بھی شیطان کا ایک اور جھوٹ ہے جس کی خواہش ہمیں ایک ایسے نظا م میں پھنسانا ہے جو ہماری توجہ خود اپنی ہی ذات کی طرف مرکوز کرتے ہوئے،ہمارے ذہنوں اور رُوحوں کو اندر کی طرف موڑ کر خودی کا انکار کرتے ہوئے مختلف اصولوں اور قوانین کی پیروی کرنے کی بدولت اپنی قدر بڑھانے کا تقاضا کرتا ہے ۔ خدا کے ساتھ زندگی بسر کرنے اور اُس کے وسیلہ سے دوسروں کےلیے جینے کےلیے یسوع نے ہمیں اپنی خودی کا انکار کرنے کا حکم دیا ہے ۔ جین مذہب کی ہندوستان کے بعض علاقوں سے مزید د یگر علاقوں تک ترقی کرنے میں ناکامی اس حقیقت کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ عالمگیر انسانی ضرورت کو پورا نہیں کرتا۔ یہ یسوع مسیح کے بالکل برعکس ہے جس کا اثر عالمگیر ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

جین مت کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries