جے۔ای۔ڈی۔پی نظریہ کیا ہے؟



سوال: جے۔ای۔ڈی۔پی نظریہ کیا ہے؟

جواب:
مختصر طور پر، جے۔ای۔ڈی۔پی نظریہ بیان کرتا ہے کہ بائبل کی پہلی پانچ کتابیں پیدائش، خروج، احبار، گنتی ، استثناء مکمل طور پر موسیٰ نے نہیں لکھی، جو 1400 قبل مسیح میں مر گیا تھا، بلکہ موسیٰ کے بعد مختلف مصنفوں/تدوین کرنے والوں نے لکھی تھی۔ اِس نظریہ کی بنیاد اِ س حقیقت پر ہے کہ عہد عتیق کی پہلی پانچ کتابوں کے مختلف حصوں میں خُدا کے لئے مختلف نام استعمال کئے گئے ہیں، اور لسانی طرزِ تحریر میں قابلِ دریافت اختلافات موجود ہیں۔ جے۔ای۔ڈی۔پی نظریہ کے حروف چار فرضی مصنفین کو پیش کرتے ہیں، مصنف جو خُدا کے لئے نام یہوواہ (انگلش میں جیہوواہ) استعمال کرتا ہے (جے)، ایک مصنف جو خُدا کا نام الوہیم استعمال کرتا ہے (ای)، استثناء (ڈی ٹرونو می) کا مصنف (ڈی)، اور احبار کی کتاب کا کاہن مصنف (پریسٹلی آرتھر)،(پی)۔ جے۔ای۔ڈی۔پی نظریہ مزید بیان کرتا ہے کہ عہد عتیق کی پہلی پانچ کتابوں کے مختلف حصوں کو ممکنہ طور پر چوتھی صدی قبل مسیح میں غالباً عزرا نے ترتیب دیا۔

لہذہ، واحد مصنف(جیسا سمجھا جاتا ہے) کی طرف سے تحریری کتابوں میں خُدا کے لئے مختلف نام کیوں ہیں؟مثال کے طور پر، پیدائش پہلا باب الوہیم نام استعمال کرتا ہے جبکہ دوسرا باب یہوواہ نام استعمال کرتا ہے۔ اِس طرح کا نمونہ عہدِ عتیق کی پہلی پانچ کتابوں میں بار بار پایا جاتا ہے۔ جواب بہت سادہ ہے۔ موسیٰ ایک نقطہ پیش کرنے کے لئے مختلف نام استعمال کرتا ہے۔ پیدائش پہلے باب میں، خُدا الوہیم، قدرت والا خالق خُدا ہے۔ پیدائش دوسرے باب میں، خُدا یہوواہ، ذاتی خُدا ہے جس نے انسان کو خلق کیا اور اُس کے ساتھ رابطہ قائم کیا۔ یہ بات مختلف مصنفوں کی طرف اشارہ نہیں کرتی بلکہ ایک نقطہ پر زور دینے اور خُدا کے کردار کے مختلف پہلوؤں کی وضاحت کرنے کے لئے خُدا کے مختلف ناموں کا استعمال کرتے ہوئے ایک ہی مصنف کی طرف اشارہ کرتی ہے۔

مختلف طرزِ تحریروں کے متعلق ، کیا ہمیں ایک ہی مصنف سے مختلف طرزِ تحریوں کی توقع نہیں کرنی چاہیے جب وہ آئینی قوانین (خروج، اِستثناء) لکھتے ہوئے، اور قربانیوں کے نظام کی پچیدہ تفصیلات لکھتے ہوئے، تاریخ (پیدائش کی کتاب ) لکھ رہا ہو؟ جے۔ای۔ڈی۔پی تھیوری عہد عتیق کی پہلی پانچ کتابوں میں قابلِ وضاحت اختلافات کو لیتی ہیں، اور ایک مفصل نظریہ ایجاد کرتی ہے جِس کی حقیقت یا تاریخ میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ اور نہ ہی جے، ای، ڈی، یا ، پی دستاویزات کبھی ملی ہیں۔ کسی قدیم یہودی یا مسیحی عالم نے کبھی کوئی اشارہ نہیں دیا کہ ایسی دستاویزات موجود تھی۔

جے۔ای۔ڈی۔پی نظریہ کے خلاف سب سے زیادہ طاقتور دلیل خود بائبل مقدس ہے۔ مرقس باب 12آیت 26 میں یسوع نے فرمایا، "مگر اِس بارے میں کہ مردے جی اُٹھتے ہیں کیا تم نے موسیٰ کی کتاب میں جھاڑی کے ذکر میں نہیں پڑھا کہ خُدا نے اُس سے کہا کہ میں ابرہام کا خُدا اور اضحاق کا خُدا اور یعقوب کا خُدا ہوں؟"۔ لہذہ، یسوع واضح طور پر کہتا ہے کہ خروج باب 3 کی پہلی تین آیات میں جھاڑی کے جلنے کی تفصیل موسیٰ نے لکھی۔ اعمال باب 3 آیت 22 میں لوقا اِستثناء باب 18آیت 15 کے حوالے کی تشریح کرتا ہے اور موسیٰ کو اِس حوالے کا مصنف تسلیم کرتا ہے۔ پولُس رومیوں باب 10 آیت 5 میں راستبازی کے بارے میں بات کرتا ہے جِس کا ذکر موسیٰ نے احبار باب 18 آیت 5 میں کیا ہے۔ لہذہ، پولُس گواہی دیتا ہے کہ احبار کی کتاب کا مصنف موسیٰ ہے۔ لہذہ، ہمارے پاس گواہ ہیں، یسوع دکھاتا ہے کہ خروج کی کتاب کا مصنف موسیٰ ہے، اعمال کی کتاب میں لوقا واضح کرتا ہے کہ استثناء کی کتاب موسیٰ نے لکھی، اور پولُس بیان کرتا ہے کہ احبارکی کتاب کا مصنف موسیٰ ہے۔ جے۔ای۔ڈی۔پی نظریہ کے سچ ہونے کے لئے، یسوع، لوقا،اور پولُس یا تو تمام جھوٹے ہیں، یا اُن سب نے پرانے عہد نامہ کو سمجھنے میں غلطی کی۔ آیئے ہم مضحکہ خیر اور بے بنیاد جے۔ای۔ڈی۔پی نظری پر بھروسہ کرنے کی بجائے یسوع مسیح اور کتابِ مقدس کے جسمانی مصنفین کا یقین کریں (دوسرا تھِمُتھیس باب3آیات 16 تا 17)۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



جے۔ای۔ڈی۔پی نظریہ کیا ہے؟