settings icon
share icon
سوال

جے۔ای۔ڈی۔پی نظریہ کیا ہے؟

جواب


مختصر اً جے ۔ای۔ڈی۔پی نظریہ بیان کرتا ہے کہ بائبل کی پہلی پانچ کتابیں پیدائش، خروج، احبار، گنتی اور استثنامکمل طور پر بندہِ خُدا موسیٰ کی طرح سے نہیں لکھی گئی تھیں جو 1400 قبل از مسیح میں ہو گزرا ہے، بلکہ موسیٰ کے بعد آنے والے مختلف مصنفین /مُولفین نے بھی اِس عمل میں اپنا حصہ ڈالا تھا ۔ اِس نظریے کی بنیاد اِس حقیقت پر رکھی گئی ہے کہ پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں کے مختلف حصوں میں خُدا کے لئے مختلف نام استعمال کئے گئے ہیں اور اِس کے ساتھ ساتھ لسانی طرزِ تحریر میں بھی واضح اختلافات موجود ہیں۔جے۔ای۔ڈی۔پی نظریے کے حروف چار فرضی مصنفین کی طرف اشارہ کرتے ہیں : (1) حرف "جے" اُن مصنفین کی طرف اشارہ کرتا ہے جو خُدا کے لئے یہوواہ (Jehovah) نام استعمال کرتے ہیں۔ (2) حرف "ای" اُن مصنفین کی طرف اشارہ کرتا ہے جو خُدا کے لیے ایلوہیم(Elohim)نام استعمال کرتے ہیں۔ (3) حرف "ڈی" استثنا (Deuteronomy)کی کتاب کے مصنفین کی طرف اشارہ کرتا ہے اور (4)حرف "پی "اُن کاہنانہ (Priestly)مصنفین کی طرف اشارہ کرتا ہے جنہوں نے احبار کی کتاب کو تحریر کیا۔ جے۔ ای۔ ڈی۔ پی۔ مفروضہ مزید بیان کرتا ہے کہ پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں کے مختلف حصوں کو ممکنہ طور پر چوتھی صدی قبل از مسیح میں غالباً عزرا نے ترتیب دیا تھا۔

پس جیسا کہ عام طور پر خیا ل کیا جاتا ہے کہ اِن کتابو ں کا واحد مصنف موسیٰ ہے تو اُس کی طرف سے تحریر کردہ ان کتابوں میں خُدا کے لئے مختلف نام کیوں استعمال کئے گئے ہیں؟ مثال کے طور پر پیدایش1باب میں ایلوہیم نام استعمال ہوتا ہے جبکہ 2باب میں خدا کےلیےیہوواہ نام استعمال کیا جاتا ہے۔ پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں میں ایسا نمونہ اکثر رونما ہوتا ہے۔ اس سوال کا جواب بہت سادہ ہے۔ موسیٰ نے ایک خاص مقصد کے تحت خدا کےلیے مختلف نام استعمال کیا ہیں ۔ پیدایش1باب میں خُدا ایلوہیم یعنی قادرِ مطلق خُدا ہے۔جبکہ پیدایش 2باب میں خُدا یہوواہ یعنی شخصی خُدا ہے جو انسان کو تخلیق کرتا اور اُس کے ساتھ تعلق قائم کرتا ہے ۔ یہ بات مختلف مصنفین کی بجائے ایک ہی مصنف کی طرف اشارہ کرتی ہے جس نے خدا کی ذات کے مختلف پہلوؤں کو بیان کرنے اور ایک خاص نقطے پر زور دینے کی غرض سے خدا کےلیے مختلف نام استعمال کئے ہیں ۔

طرزِ تحریر کے مختلف انداز کے تعلق سے کیا ہمیں ایک مصنف سے اُس وقت مختلف طرزِ تحریر کی توقع نہیں کرنی چاہیے جب وہ تاریخ (پیدایش) لکھ رہا ہو، شرعی قوانین (خروج، استثناء) لکھ رہا ہو یا پھر قربانیوں کے نظام کی پیچید ہ تفصیلات قلمبند کر رہا ہو؟جے۔ای۔ڈی۔ پی مفروضہ پرانے عہد نامے کی پہلی پانچ کتابوں میں قابلِ وضاحت اختلافات کو لیتا اور پھر اُن سے ایک ایسا مفصل مفروضہ مرتب کرتا ہے جس کی حقیقت یا تاریخ میں کوئی بنیاد نہیں ہے۔ جے۔ ای۔ ڈی۔ پی نظریے سے متعلق کبھی کوئی دستاویز دریافت نہیں ہوئی ۔ اور نہ ہی کسی قدیم یہودی یا مسیحی عالم نے کبھی کوئی اشارہ دیا ہے کہ ایسی دستاویزات موجود تھیں ۔

جے۔ ای۔ ڈی ۔پی مفروضے کے خلاف سب سے بڑی دلیل خود بائبل مُقدس ہے۔ مرقس 12باب 26آیت میں یسوع نے فرمایا ہے "مگر اِس بارے میں کہ مردے جی اُٹھتے ہیں کیا تم نے موسیٰ کی کتاب میں جھاڑی کے ذکر میں نہیں پڑھا کہ خُدا نے اُس سے کہا کہ مَیں ابر ہام کا خُدا اور اضحاق کا خُدا اور یعقوب کا خُدا ہوں؟"۔ لہذا یسوع واضح طور پر بتاتا ہے کہ خروج 3 باب 1-3آیات میں جھاڑی کے جلنے کی تفصیل موسیٰ نے لکھی تھی ۔ اعمال 3باب 22آیت میں لوقا اِستثنا 18باب 15آیت کی تشریح کرتااور اِسے موسیٰ سے منسوب کرتا ہے۔ پولُس رومیوں 10 باب 5 آیت میں اُس راستبازی کے بارے میں بات کرتا ہےجس کا موسیٰ نے احبار 18 باب 5 آیت میں ذکر کیا تھا۔ پس پولُس تصدیق کرتا ہے کہ احبار کی کتاب کا مصنف موسیٰ ہے۔ لہذا ہمارے پاس گواہ ہیں: یسوع واضح کرتا ہے کہ خروج کی کتاب کا مصنف موسیٰ ہے، اعمال کی کتاب میں لوقا واضح کرتا ہے کہ استثناکی کتاب موسیٰ نے لکھی ہے اور پولُس بیان کرتا ہے کہ احبارکی کتاب کا مصنف موسیٰ ہے۔جے ۔ای۔ پی۔ڈی مفروضے کو اگر سچا مانا جائے تو اُس صورت میں یا تو اِس بات کو ماننا ہوگا کہ اِن کتابوں کے حوالے سے یسوع، لوقااور پولُس کے دعوے جھوٹے ہیں یا پھر یہ کہ یسوع ، لوقا اور پولس کو پرانے عہد نامے کو سمجھنے میں غلطی ہوئی تھی۔ آیئے ہم اِس مضحکہ خیر اور بے بنیاد جے۔ ای۔ ڈی۔ پی مفروضے پر بھروسہ کرنے کی بجائے یسوع مسیح اور کتابِ مقدس کے انسانی مصنفین کا یقین کریں (2تیمتھیس3باب 16-17آیات)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

جے۔ای۔ڈی۔پی نظریہ کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries