settings icon
share icon
سوال

کیا وہ نسل جس نے اسرائیل قوم کو دوبارہ اکٹھا ہوتے ہوئے دیکھا یسوع کی آمدِ ثانی کے وقت تک زندہ رہے گی ؟

جواب


یہ تصور عام طور پر متی 24باب34 آیت سے اخذ کیا جاتا ہے جہاں پر مرقوم ہے کہ "مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ جب تک یہ سب باتیں نہ ہو لیں یہ نسل ہرگز تمام نہ ہو گی۔ " اِس سے پچھلی آیات متی 24باب1-33 آیات اسرائیل کے تعلق سے اخیر زمانے کے بارے میں بات کرتی ہیں۔ اِس کے نتیجے کے طور پر کچھ مفسرین نے یہ سوچا کہ اخیر زمانہ اُس وقت شروع ہوگیا تھا جب اسرائیل قوم دوبارہ "اکٹھی " ہو گئی تھی ( جو کہ 1948 کا واقعہ ہے)۔ بہرحال جیسے جیسے 1948 کے بعد زیادہ وقت گزرتا گیا "نسل" کے وقت کو زیادہ سے زیادہ لمبا کیا جاتا رہا۔ اب اِ س بات کو ساٹھ سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے – جو کہ ایک نسل کے گزرنے کی معیاری تعریف سے کہیں زیادہ ہے۔

اِس تعلیم کے ساتھ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ یہ مکمل طو ر پر متی 24باب34 آیت کی غلط سمجھ اور تفسیر کی حامل ہے ۔ سیاق و سباق جو کچھ کہتا ہوا محسوس ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ ایک بار جب اخیر زمانے کے واقعات کا آغاز ہو جائے گا ، اُس کے بعد وہ بڑی تیزی سے ہوتے چلے جائیں گے۔ مزید برآں ، متی 24 باب میں یسوع کے نبوتی الفاظ کی "دہری تکمیل" ہوتی ہوئی نظر آتی ہے۔ کچھ واقعات 70 بعد از مسیح میں اُس وقت واقع ہو گئے جب رومیوں نے یروشلیم اور اسرائیل کو تباہ کر دیا تھا۔ دوسرے واقعات (مثال کے طور پر متی 24باب 29-31آیات) بڑے واضح طور پر ابھی وقوع پذیر نہیں ہوئے۔ آپ کے اِس سوال کا اگر براہِ راست جواب دیا جائے تو نہیں، یہ کلام کی تعلیم نہیں ہے کہ جس نسل نے اسرائیلی قوم کو دوبارہ اکٹھے ہوتے ہوئے دیکھا تھا وہ یسوع کی آمدِ ثانی تک زندہ نہیں رہے گی۔ ہو سکتا ہے کہ ایسا ہو، لیکن کلامِ مُقدس ایسا کچھ بھی کہتا ہوا معلوم نہیں ہوتا۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا وہ نسل جس نے اسرائیل قوم کو دوبارہ اکٹھا ہوتے ہوئے دیکھا یسوع کی آمدِ ثانی کے وقت تک زندہ رہے گی ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries