settings icon
share icon
سوال

کیا اسرائیل اور کلیسیا دونوں ایک ہی ہیں؟کیا خُدا کا اسرائیل کے لیے اب بھی کوئی منصوبہ ہے؟

جواب


کلیسیا میں آج کل یہ موضوع کافی زیادہ متنازعہ ہے اور اخیر ایام کے تعلق سے ہم کلام مقدس کی جس انداز میں تشریح کرتے ہیں خصوصاً اس لحاظ سے بھی اس کے اہم اثرات ہیں ۔اور اِس سے بھی بڑھکراِس کی بہت زیادہ اہمیت اِس لحاظ سے بھی ہے کہ یہ ہماری طرف سے خُدا کی ذات اور اُسکے کردار کو سمجھنے پر بھی بہت زیادہ اثر انداز ہوتا ہے۔

رومیوں 11باب 16-36آیات زیتون کے درخت کی مثال پیش کرتی ہیں ۔ یہ حوالہ اسرائیل ( "حقیقی" شاخوں )کے زیتون کے درخت سے ٹوٹنے اور کلیسیا ( "جنگلی" شاخوں یا ٹہنیوں ) کی اصل زیتون کے درخت میں پیوند کاری کے بارے میں بیان کرتا ہے ۔ چونکہ کلیسیا کے ساتھ ساتھ اسرائیل کو بھی شاخوں کے طور پر پیش کیا جا تا ہے اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی بھی " مکمل درخت" نہیں ہے ۔ بلکہ مکمل درخت بنی نو ع انسان کے ساتھ مجموعی طورپر خدا کے کاموں کی علامت ہے ۔ لہذا اسرائیل کے ساتھ خدا کا منصوبہ اور کلیسیا کے ساتھ خدا کا منصوبہ عام لوگوں میں اُس کے مقصد کی تکمیل کا حصہ ہیں ۔ یقیناً اس سے یہ مطلب نہیں لیا جا سکتا ہے کہ اس میں سے کوئی ایک منصوبہ کم اہمیت کا حامل ہے ۔ جیسا کہ بہت سے مفسرین نے غور کیا ہے کہ بائبل میں اسرائیل اور کلیسیا کےتعلق سے خدا کے منصوبوں کو اس کے کسی بھی اور معاملے سے زیادہ اہمیت دی گئی ہے !

پیدایش 12باب میں خدا نے ابرہام سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک عظیم قوم ( یہودیوں ) کا باپ ہو گا ، یہودی ایک سر زمین کے مالک ہوں گے ، یہ کہ اس قوم کو دیگر اقوام سے بڑھ کر برکت دی جائے گا اور تمام دوسری قومیں اسرائیل کے وسیلہ سے برکت پائیں گی ۔ پس خدا نے شروع سے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ اسرائیلی زمین پر اُس کے چنیدہ لوگ ہوں گے لیکن یہ بھی کہ اُس کی طرف سے عطا کردہ برکات خصوصاً اُن تک ہی محدود نہیں رہیں گی۔ گلتیوں 3باب 14آیت دیگر تمام قوموں تک پہنچنے والی برکت کی نوعیت کی نشاندہی کرتی ہے "تاکہ مسیح یسوع میں ابرہامؔ کی برکت غیر قوموں تک بھی پہنچے اور ہم اِیمان کے وسیلہ سے اُس رُوح کو حاصل کریں جس کا وعدہ ہوا ہے۔" اسرائیل کے وسیلے سے دنیا کی تمام اقوام نے برکت پائی ہے کیونکہ اس کے وسیلہ سے نجات دہندہ دنیا میں آیا ہے ۔

خدا کے نجات کے منصوبے کی تعمیر داؤد اور ابرہام کی نسل یعنی یسوع کے مکمل کردہ کام پر کی گئی ہے ۔ لیکن یسوع کی صلیبی موت صرف یہودیوں کےلیےنہیں بلکہ دنیا کے تمام لوگوں کے گناہوں کے کفارے کےلیے کافی ہے ! گلتیوں 3باب 6-8آیات بیان کرتی ہیں "چنانچہ ابرہام خُدا پر اِیمان لایا اور یہ اُس کےلئے راست بازی گنا گیا۔ پس جان لو کہ جو اِیمان والے ہیں وُہی ابرہام کے فرزند ہیں۔ اور کتابِ مُقدس نے پیشتر سے یہ جان کر کہ خُدا غیر قوموں کو اِیمان سے راست باز ٹھہرائے گا پہلے ہی سے ابرہام کو یہ خوشخبری سنادی کہ تیرے باعث سب قَومیں برکت پائیں گی۔" آخرمیں گلتیوں 3 باب 29 آیت بیان کرتی ہے کہ " اگر تم مسیح کے ہو تو ابرہام کی نسل اور وعدہ کے مطابق وارِث ہو۔"دوسرے الفاظ میں مسیح میں ایمانداروں کو ایمان کے وسیلہ سے بالکل اُسی طرح راستباز ٹھہرایا جا تا ہے جیسے ابرہام کو راستباز ٹھہرایا گیا تھا ( گلتیوں 3باب 6-8آیات)۔ اگر ہم مسیح میں ہیں تو ہم مسیح کے کفارہ بخش کام میں اسرائیل اور تمام قوموں کی برکت کے حصہ دار ہیں ۔ اور اس طرح ایماندار ابرہام کی رُوحانی اولاد بن جاتے ہیں ۔ ایماندارجسمانی طور پر یہودی نہیں بنتے لیکن وہ یہودیوں کی مانند نعمتوں اوراختیارات سےلطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔

یہ بات پرانے عہد نامے میں دئیے گئے الہام کی تردید یا مخالفت نہیں کرتی ۔ پرانےعہد نامے میں درج خدا کے وعدے اب بھی درست ہیں اور خدا کے چُنے ہوئے لوگوں کے طور پر اسرائیل کے ساتھ خدا کا تعلق مسیح یسوع کے اس کام کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اُس نے تمام دنیا کے نجات دہندہ کے طور پر سر انجام دیا ہے ۔ موسوی شریعت اُن تمام یہودیوں کےلیے لازمی ہے جنہوں نے ابھی تک مسیح یسوع کو اپنے مسیحا کے طور پر قبول نہیں کیا ۔ یسوع نے اصل میں اُس کام کو پوراکیا تھا جو وہ خود نہیں کر سکتے تھے یعنی شریعت کی مکمل تکمیل ( متی 5باب 17آیت)۔ نئے عہد نامے کے ایمانداروں کی حیثیت سے اب ہم شریعت کی لعنت کے ماتحت نہیں ہیں ( گلتیوں 3باب 13آیت)کیونکہ یسوع مسیح نے صلیب پر اس لعنت کو اپنے اوپر لے لیا ہے ۔ شریعت دو مقاصد کو پورا کرتی تھی :(1) گناہ اور بنی نو ع انسان کی نا اہلی کو واضح کرنا اور بتانا کہ وہ اس کے بارے میں کچھ نہیں کر سکتے (2) اور مسیح یسوع کی جانب ہماری رہنما ئی کرنا جو شریعت کی تکمیل کرتا ہے ۔ اُس کی صلیبی موت کامل بننے کے لیے خدا کے پاک تقاضے کو کُلی طور پر پورا کرتی ہے ۔

خدا کے غیر مشروط وعدے انسان کی بے وفائی سے باطل نہیں ہوتے ۔ ہم کچھ بھی ایسا نہیں کر سکتے جو خدا کےلیے کبھی حیرت کی بات ہو اور اُسے ہمارے طرزِ عمل کے مطابق اپنے منصوبوں کو ترتیب دینے کی ضرورت نہیں ہے ۔ کبھی نہیں –کیونکہ خدا ماضی ، حال اور مستقبل کی تمام باتوں پر خودمختار ہے اور اُس نے اسرائیل اور کلیسیا دونوں کےلیے جو کچھ مقرر کر رکھا ہے وہ حالات سے قطعِ نظر پورا ہو گا ۔ رومیوں 3باب 3-4آیات اس بات کی وضاحت پیش کرتی ہیں کہ اسرائیل کی بے اعتقادی اُس کےلیے خدا کے وعدوں کو منسوخ نہیں کرتی : "اگر بعض بے وفا نکلے تو کیا ہوا؟ کیا اُن کی بے وفائی خُدا کی وفاداری کو باطل کر سکتی ہے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ خُدا سچا ٹھہرے اور ہر ایک آدمی جھوٹا۔ چنانچہ لکھا ہے کہ تُو اپنی باتوں میں راست باز ٹھہرے اور اپنے مُقدمہ میں فتح پائے۔"

اسرائیل کے ساتھ کئے گئے وعدے ابھی مستقبل میں پورے ہونے والے ہیں ۔ ہم اس بات کا یقین کر سکتے ہیں کہ خدا نے جو کچھ فرمایا ہے وہ سچ ہے اور اُس کے کردار اور مستقل مزاجی کی بِناء پر رونما بھی ہوگا ۔ کلیسیا اسرائیل کی جگہ نہیں لے سکتی اور نہ ہی اسے پرانے عہد نامے کے وعدوں کی علامتی تکمیل کی توقع کرنی چاہیے ۔ جب کوئی شخص بائبل کا مطالعہ کرتا ہے تو اُسے اسرائیل اور کلیسیا کو الگ الگ رکھنا ضروری ہے ۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا اسرائیل اور کلیسیا دونوں ایک ہی ہیں؟کیا خُدا کا اسرائیل کے لیے اب بھی کوئی منصوبہ ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries