settings icon
share icon
سوال

اسلام ازم کیا ہے ؟

جواب


اسلام ازم دینِ اسلام سے مختلف ہے۔ اسلام کئی شاخوں کا حامل ایک مذہب ہے جبکہ اسلام ازم دین ِاسلام کے اندر ایک مذہبی اور سیاسی تحریک ہے جس کی بنیاد قرآن کی بعض لغوی تشریحات پر ہے۔ اسلام ازم معاشرے کو اُس شرعی، اخلاقی اور مذہبی نظام کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے جو قرآن سے ماخوذ ہے۔ اسلامی شریعت معاشرتی اور ذاتی زندگی کے تقریباً ہر پہلو- تجارتی ضوابط سے لے کر شخصی حفظان صحت تک کے لیے ایک سخت اخلاقی ضابطے کو بیان کرتی ہے اور یہ لفظ اسلام (جس کا مطلب "اطاعت " ہے) کی بالکل لفظی طور پر تشریح کرتے ہوئے تقاضا کرتی ہے کہ ہر شخص یا تو شریعت کے تابع ہو جائے یا مر جائے۔

جس طرح ہر مسیحی ویسٹ بورو بپٹسٹ چرچ کا رکن نہیں ہے اُسی طرح ہر مسلمان اسلام ازم کا حامی نہیں ہے ۔ اسلام ازم بڑی حد تک سیاسی نوعیت کی تحریک ہے اور اس کے حامی دنیا پر غلبہ پانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اسلام ازم کےکچھ حامیوں کا خیال ہے کہ دہشت اور ریاستی طاقت کے ذریعے دنیا کو اسلام ازم کے تابع کرتے ہوئے انقلابی تبدیلی یا حملہ کرنا دُنیا پر غلبہ پانے کا بہترین طریقہ ہے ۔ دیگر لوگوں کا خیال ہے معاشرے کی مکمل طور پر اصلاح کرنے کے ذریعے اپنے مقاصد کو حاصل کرنا زیادہ بہتر طریقہ ہے۔

اسلام از م نے جس دہشت گردی کو جنم دیا ہے اس کے باعث عام طور پر مسلمانوں سے بہت زیادہ خوف محسوس کیا جاتا ہے۔ اس میں سے کچھ خوف واجب ہے۔مذہب کو تبدیل کر لیں یا موت کا سامنا کریں، یہ اسلام ازم کا ایک بہت ہی حقیقی اور خوفناک پہلو ہے۔ لیکن مسیحیوں کو یہ یاد رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ جبکہ اسلام ازم کا ہر پیروکار مسلمان ہے مگر ہر مسلمان اسلام از م کا حامی نہیں ہے۔ درحقیقت، بہت سے مسلمان لوگ اسلام ازم کے حامیوں کے ہاتھوں تکلیف اُٹھاتے ہیں کیونکہ وہ شرعی قانون کی پیروی کرنا نہیں چاہتے یا اس وجہ سے کہ یہ حامی اسلام ازم کے مطابق اسلام کے غلط فرقے سے منسلک ہیں یا غلط برادری میں رہتے ہیں۔

اسلام ازم کے لیے بائبلی ردّ عمل کیا ہے؟ یسوع مسیح میں ایمانداروں کو اپنے دشمنوں کے بارے میں ایسے لوگوں کے طور پر سوچنا چاہیے جو کھو چکے ہیں اور مسیح کے بغیر ابدیت کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسلام ازم کے حامی ایک تاریک اور مایوس مذہب کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں اور شیطان کی مرضی اس خیال سے پوری کرتے ہیں کہ وہ خدا کی مرضی پوری کر رہے ہیں۔ خداوند یسوع نے اسلام ازم کے حامیوں جیسے لوگوں کے بارے میں پیشین گوئی کی ہے کہ : "وہ وقت آتا ہے کہ جو کوئی تُم کو قتل کرے گا وہ گمان کرے گا کہ مَیں خُدا کی خِدمت کرتا ہُوں"(یوحنا 16باب 2آیت)۔

مسیحیوں کو اس حقیقت سے تسلی حاصل کرنی چاہیے کہ یہ دنیا ہمارا حتمی گھر نہیں ہے۔ آیا ہم دہشت گردی اور اسلام ازم کے خلاف جنگ میں "جیتے" ہیں یا نہیں یہ مسیحیوں کی حتمی فکر نہیں ہے۔ خداوند یسوع نے فرمایا ہے کہ" میری بادشاہی اِس دُنیا کی نہیں۔ اگر میری بادشاہی دُنیا کی ہوتی تو میرے خادِم لڑتے تاکہ مَیں یہُودِیوں کے حوالہ نہ کِیا جاتا۔ مگر اب میری بادشاہی یہاں کی نہیں"(یوحنا 18باب 36آیات)۔ اپنے دشمنوں کے ہاتھوں موت کا سامنا کرنے کے وقت یسوع نے سب کو یاد دلایا کہ اُس کے لوگ یہاں فاتحین نہیں بلکہ بچانے والے ہیں- ہم مسیح کی محبت اور معافی کے ایلچی ہیں (2 کرنتھیوں 5باب 20آیت)۔

" تُم سُن چکے ہو کہ کہا گیا تھا کہ اپنے پڑوسی سے مُحبّت رکھ اور اپنے دُشمن سے عداوت۔ لیکن مَیں تُم سے یہ کہتا ہُوں کہ اپنے دُشمنوں سے مُحبّت رکھّو اور اپنے ستانے والوں کے لئے دُعا کرو۔ تاکہ تُم اپنے باپ کے جو آسمان پر ہے بیٹے ٹھہرو " (متی 5باب 43-45آیات)۔ اسلام ازم کے حامی قرآن کی لفظی طور پرپیروی کرتے اور اُن لوگوں کے خلاف نفرت اور بے رحمی سے بھرے ہوئے ہیں جو شریعت کے تابع نہیں ہیں؛ وہ خدا کی محبت اور معافی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ہمیں اسلام ازم میں پھنسے ہوئے لوگوں کے لیے دُعا کرنی چاہیے کہ وہ یسوع مسیح کے بارے میں سچائی کو سمجھیں۔ جب پولس رسول "شاگردوں کے دھمکانے اور قتل کرنے کی دُھن میں تھا "( اعمال 9باب 1آیت ) اُسی دوران اُس نے خداوند کا سامنا کیا اور نئے سرے سے پیداہوا۔ خدا کرے کہ اسلام ازم کے قائدین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اسلام ازم کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries