settings icon
share icon
سوال

اسلامی مخالفِ مسیح؟ کیا مخالفِ مسیح ایک مسلمان ہوگا؟

جواب


حالیہ سالوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ میں جس طرح کے مسائل بڑھتے چلے جا رہے ہیں، ایسے میں شعیہ مسلمان انتہا پسندوں کی طرف سے بارہویں امام کے بارے میں دئیے جانے والے بیانات لوگوں کے دِلوں میں یہ سوالات پیدا کر رہے ہیں کہ کیا مسلمانوں کی طرف سے پیش کی جانے والی نبوتوں کا بائبل کی نبوتوں کے ساتھ کوئی تعلق ہے۔ خصوصی طور پر بہت سارے لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ کیا آنے والے مخالفِ مسیح کا تعلق اسلام سے ہونے کا کوئی امکان ہے۔ اِس بات کو جاننے کے لیے ہمیں پہلے یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ بارہواں امام کون ہے اور اُس سے اسلام کے لیے کونسے بڑے کاموں کی توقع کی جا رہی ہے۔ دوسرے نمبر پر ہمیں شعیہ مسلمانوں کی طرف سے اُن اُمیدوں سے جڑے ہوئے بیانات کو دیکھنے کی ضرورت ہے، اور تیسرے نمبر پر اِس سارے معاملے پر روشنی ڈالنے کے لیے ہمیں بائبل مُقدس سے رہنمائی لینے کی ضرورت ہے۔

اسلام ک شعیہ فرقے کے اندر بارہ امام ہو گزرے ہیں، اِن اماموں کو ایسے رُوحانی پیشوا مانا جاتا ہے جن کو اللہ کی طرف سے مقرر کیا گیا تھا۔ یہ سلسلہ امام علی کیساتھ شروع ہوا جو پیغمبرِ اسلام کا چچا زاد بھائی تھا اور جس نے پیغمبرِ اسلام کی وفات کے بعد نبوتی جانشین ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔ قریباً 868 عیسوی میں بارہواں امام یعنی ابو القاسم محمد (یا محمد ال مہدی) گیارہویں امام کے ہاں پیدا ہوا۔ کیونکہ اُس کے والد کو بہت زیادہ ایذا رسانی اور مشکل حالات کا سامنا تھا اِس لیے امام مہدی کو چھپا دیا گیا۔ جس وقت اُس کے والد کو قتل کیا گیا توامام مہدی 6 سال کا تھا اور اُس دوران وہ تھوڑے عرصے کے لیے اپنے چھپنے کے مقام سے باہر آیا لیکن اُس کے بعد غائب ہو گیا۔ یہ کہا جاتا ہے کہ اُس وقت سے لیکر آج تک امام مہدی غاروں کے اندر چھپا ہوا ہے اور قیامت کے دن سے پہلے وہ اچانک سے باہر آ جائے گا اور ہر طرح کے جابرانہ تسلط اور ظلم و ستم کا خاتمہ کرتے ہوئے اِس زمین پر امن و سلامتی قائم کرے گا۔ شعیہ کے علمِ الہیات کے مطابق وہ اِس دُنیا کا نجات دہندہ ہے۔ ایک مصنف کے مطابق امام مہدی کی ذات موسیٰ نبی کے وقار ، یسوع مسیح کی مہربانی اور ایوب نبی کے صبر کا مجموعہ ہوگی اور یہ سب چیزیں اُسے ایک مکمل ذات بنائیں گی۔

بارہویں امام کے بارے میں جو نبوتیں پائی جاتی ہیں اُن کی بائبل میں اخیر زمانے کے بارے میں کی جانے والی نبوتوں کے ساتھ حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ اسلامی نبوت کے مطابق امام مہدی کے آنے سے پہلے تین سالوں تک اِس دُنیا کے اندر بہت ہی خوفناک صورتحال اور افراتفری ہوگی، اور وہ تمام عرب اور باقی کی دُنیا پر سات سالوں تک حکمرانی کرے گا۔ امام مہدی کے ظہور کے ساتھ دو شخصیات جی اُٹھیں گی، ایک تو بہت زیادہ گناہگار شخصیت ہوگی اور ایک راستباز شخصیت ہوگی۔ شعیہ مسلمانوں کی تعلیمات کے مطابق یسوع مسیح امام مہدی کی قیادت کو قبول کر لیں گے اور اِس طرح ابرہام کے خاندان کی دو شاخیں ہمیشہ کے لیے ایک ہو جائیں گی۔

ایران کا سابقہ صدر احمد نژادایک پکا اور پابند شعیہ ہے اور اُس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ خود امام مہدی کے آنے کے لیے اِس دُنیا کو تیار کرے گا۔ اِس سے پہلے کہ اِس دُنیا کو بچایا جائے اِس کا بہت بُری حالت، افراتفری اور محکومی میں ہونا ضروری ہے، اور احمد نژاد محسوس کرتا ہے کہ اُسے اللہ کی طرف سے یہ ہدایت ملی ہے کہ وہ اِن سب حالات کے لیے راہ ہموار کرے۔ احمد نژاد نے بارہا اسلام کے دُشمنوں کو نیست و نابود کرنے کے بیانات دئیے ہیں۔ ایرانی صدر اور اُس کی کمیٹی نے امام مہدی کے ساتھ ایک فرضی معاہدہ کیا ہے جس میں اُنہوں نے امام مہدی کے لیے کام کرنے کا عہد باندھا اور خود کو اُس کے لیے پابند کیا ہے۔ جس وقت ABC چینل کی اینکر پرسن این کری نے 2009 میں احمد نژاد سے براہِ راست اُس کے اخیر زمانے کے بارے میں بیانات کے متعلق پوچھا تو احمد نژاد نے کہا کہ "امام۔۔۔منطق، کلچر اور سائنس کے ساتھ آئے گا۔وہ اِس لیے آئے گا تاکہ مزید کوئی جنگ و جدل نہ ہو، کوئی مزید دشمنی اور نفرت نہ ہو۔ کوئی تنازعات نہ ہوں۔ وہ ہر ایک کو برادرانہ محبت میں بندھنے کی دعوت دے گا، اور ہاں یقینی طور پر وہ یسوع مسیح کے ساتھ آئے گا۔ وہ دونوں اکٹھے ساتھ آئیں گے، وہ اکٹھے ملکر کام کریں گے اور وہ اِس دُنیا کو محبت کا گہوارہ بنا دیں گے۔ "

اِس سب کا مخالفِ مسیح اور اُس طاقتور "گناہ کے فرزند" کیساتھ کیا تعلق ہے جو اخیر زمانے میں ظاہر ہونے والا ہے؟مکاشفہ 6باب2آیت اور دانی ایل 9باب27آیت کے مطابق، مخالفِ مسیح ایک امن پسند اور امن کو قائم کرنے والے شخص کے طور پر ظاہر ہوگا جس کا مقصد دُنیا کی درست سمت میں رہنمائی کرنا ہوگا۔ یہ دیکھنا بہت ہی آسان ہے کہ ایک ایسا مخالفِ مسیح جو اِس دُنیا کے اندر ایک جھوٹے امن کو قائم کرنے کی بات کرے گا اُسے امن اور سلامتی اور جنگ بندی کی خواہش رکھنے والی دُنیا کس جوش و خروش سے قبول کرے گی۔ کچھ لوگ تو اُسے امام مہدی سمجھیں گے اور کچھ لوگ اُسے مسیحا سمجھیں گے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ یسوع مسیح نے ہمیں خبردار کیا ہے کہ مخالفِ مسیح اُس کے نام سے آئے گا اور خود کو مسیح ظاہر کرے گا اور وہ لوگ جو یسوع کو رَد کرتے ہیں وہ اُسے قبول کر لیں گے (یوحنا 5باب43آیت)۔

بائبل اور شیعہ مسلمانوں کے علمِ الہیات میں چند ایک باتیں مماثلت رکھتی ہیں جن پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے بائبل بیان کرتی ہے کہ آخری مصیبت کا دور سات سالوں پر محیط ہوگا، اور اسلامی دعویٰ ہے کہ بارہواں امام سات سالوں تک اِس دُنیا پر حکمرانی کرے گا۔ دوسرے نمبر پر مسلمان یہ مانتے ہیں کہ بارہویں امام کے ظاہر ہونے سے تین سال پہلے اِس دُنیا میں بہت زیادہ بد امنی اور افراتفری ہوگی اور بائبل بیان کرتی ہے کہ آخری مصیبت کے پہلے حصے یعنی ساڑھے تین سالوں کےگزرنے کے بعد مخالفِ مسیح یہودیوں کی ہیکل کو ناپاک کرتے ہوئے اپنی اصلیت کو ظاہر کرے گا۔ تیسرے نمبر پر بائبل بیان کرتی ہے کہ مخالفِ مسیح ایک دھوکا باز ہوگا جو دعویٰ تو یہ کرے گا کہ وہ اِس دُنیا کے اندر امن اور سلامتی لانا چاہتا ہے لیکن وہ اصل میں بہت بڑے پیمانے پر جنگ و جدل اور لڑائیوں کا سامان کرے گا اور بارہویں امام سے بھی یہی توقع کی جاتی ہے کہ وہ باقی کی دُنیا کے ساتھ بہت بڑے پیمانے پر جنگ کر کے اِس زمین پر امن قائم کرے گا۔

کیا مخالفِ مسیح ایک مسلمان ہوگا؟صرف خُدا ہی اِس بات کو جانتا ہے۔ کیا اسلامی علمِ الآخر اور مسیحی علمِ الآخر کے درمیان کسی طرح کی مماثلت پائی جاتی ہے؟جی ہاں، دیکھا جائے تو دونوں کے درمیان واضح طور پر خاص مماثلت اور تعلق نظر آتا ہے، اگرچہ دونوں نظریات کا مطالعہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ہی طرف کے نظریات عظیم لڑائیوں اور جنگوں کے بارے میں اپنی اپنی وضاحت پیش کر رہے ہیں، ایک طرف یعنی مسیحیت کے نقطہ نظر سے آخری جنگ کے دوران جنگ لڑنے والا دراصل شکست خوردہ ہے اور وہ جنگ و جدل کے ذریعے سے اپنا منہ چھپانےا ور اپنی ہار کو جیت ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے جبکہ دوسری طرف لڑنے والا دُنیا کو فتح کرنے والے کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اور بلاشک بارہویں امام کے بارے میں جو نبوت کی گئی ہے اُسے کسی بھی طور پر بائبل کی نبوتوں کے برابر نہیں خیال کیا جانا چاہیے۔ صرف بائبل مُقدس ہی خُدا کا حتمی طور پر الہامی کلام ہے؛ یہ ممکن ہے کہ اسلامی علمِ الآخر ت کے ایسے پہلوؤں کی تفسیر کو دیکھا جائے جو دانی ایل اور مکاشفہ کی کتاب کے بیانات کے ساتھ مماثلت رکھتی ہیں، لیکن یہ چیز شعیہ مسلمانوں کی آخرت کے بارے میں تعلیمات کے بالکل درست ہونے کی توثیق نہیں ہے۔

جب تک ہم اِن سب چیزوں کو تکمیل پاتے دیکھ نہ لیں ہمیں 1 یوحنا 4باب1-4آیات کے اِن الفاظ پر غور کرتے رہنا چاہیے، "اَے عزیزو! ہر ایک رُوح کا یقین نہ کرو بلکہ رُوحوں کو آزماؤ کہ وہ خُدا کی طرف سے ہیں یا نہیں کیونکہ بہت سے جھوٹے نبی دُنیا میں نکل کھڑے ہوئے ہیں۔خُدا کے رُوح کو تم اِس طرح پہچان سکتے ہو کہ جو کوئی رُوح اِقرار کرے کہ یسوع مسیح مجسم ہوکر آیا ہے وہ خُدا کی طرف سے ہے۔اور جو کوئی رُوح یسوع کا اِقرار نہ کرے وہ خُدا کی طرف سے نہیں اور یہی مخالفِ مسیح کی رُوح ہے جس کی خبر تم سن چکے ہو کہ وہ آنے والی ہے بلکہ اَب بھی دُنیا میں موجود ہے۔اَے بچّو! تم خُدا سے ہو اور اُن پر غالب آگئے ہو کیونکہ جو تم میں ہے وہ اُس سے بڑا ہے جو دُنیا میں ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اسلامی مخالفِ مسیح؟ کیا مخالفِ مسیح ایک مسلمان ہوگا؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries