settings icon
share icon
سوال

کیا رُوح القدس شخصیت کی حامل ایک ذات ہے؟

جواب


بہت سے لوگ رُوح القدس کے عقیدے کو پریشان کُن پاتے ہیں۔ کیا رُوح القدس ایک قوت ہے؟شخصیت ہے یا پھر کچھ اور؟بائبل اِس کے بارے میں کیا سکھاتی ہے؟

اس بات کو سمجھنے میں مدد کرنے کے لیے بائبل ہمیں بہت سے طریقے فراہم کرتی ہے کہ رُوح القدس واقعی ایک شخصیت ہے - یعنی وہ شخصیت کی حامل ایک ذات ہے بجائے اس کے کہ وہ ایک غیر شخصی چیز/قوت ہے۔ سب سے پہلی بات، رُوح کے حوالے سے استعمال ہونے والا ہر اسم ضمیر کسی بے جان چیز کے لیے استعمال نہیں ہوتا بلکہ "مذکر" ہے۔ نئے عہد نامے کی اصل یونانی زبان رُوح القدس کی شخصیت کی تصدیق کرنے میں واضح ہے۔ "رُوح" کے لیے استعمال ہونے والا یونانی لفظ "نُوما" ایک بے جنس ذات کی طرف اشارہ کرتا ہےیعنی یہ مذکر یا مونث کی نشاندہی نہیں کرتا ۔ اس کے باوجود بہت سے معاملات میں رُوح کے لیے اسم ضمیر مذکر استعمال ہوتا ہوا نظر آتا ہے (مثال کے طور پر یوحنا 15باب 26آیت؛ 16باب 13-14 آیات)۔ قاعدہ ِ زبان کے لحاظ سے رُوح القدس سے متعلق نئے عہد نامے کے اسم ضمیروں کو سمجھنے کا کوئی اور طریقہ نہیں ہے – بحیثیت شخصیت اس کے لیے "اسمِ ضمیرمذکر" کا استعمال کیا جاتا ہے۔

متی 28باب 19آیت ہمیں باپ، بیٹے اور رُوح القدس کے نام پر بپتسمہ دینے کی تعلیم دیتی ہے۔ یہ واحد ثالوث خدا کے بارے میں ایک مشترکہ حوالہ ہے ۔ مزید براں ہمیں رُوح القدس کو رنجیدہ نہیں کرنا ہے (افسیوں 4باب 30آیت)۔ رُوح کے خلاف گناہ کرنا (یسعیاہ 63باب 10آیت) اور جھوٹ بولنا ممکن ہے (اعمال 5باب 3آیت)۔ ہمیں اُس کی فرمانبرداری (اعمال 10باب 19-21آیات) اورعزت کرنی ہے (51زبور 11آیت)۔

رُوح القدس کی شخصیت کی تصدیق اُس کے بہت سے کاموں سے بھی ہوتی ہے۔ وہ تخلیق کے عمل میں ذاتی طور پر شامل تھا (پیدایش 1باب 2آیت)، وہ خدا کے لوگوں کو زور دیتا (زکریاہ 4باب 6آیت)، ہدایت کرتا ہے (رومیوں 8باب 14آیت)، اطمینان بخشتا( یوحنا 14باب 26آیت)، مجرم ٹھہراتا ( یوحنا 16باب 8آیت)، سکھاتا (یوحنا 16باب 13آیت)، گناہ سے باز رکھتا(یسعیاہ 59باب 19آیت) اور حکم دیتا ہے (اعمال 8باب 29 آیت)۔ اِن میں سے ہر ایک کام محض کسی قوت، چیز یا خیال کی بجائے کسی شخصیت کی شمولیت کا تقاضا کرتا ہے۔

رُوح القدس کی صفات بھی اُس کی شخصیت کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔ رُوح القدس کےپاس زندگی ہے (رومیوں 8باب 2آیت )، اُس کی اپنی مرضی ہے (1 کرنتھیوں 12باب 11آیت)، وہ علیم کُل (1 کرنتھیوں2باب 10-11آیات)، ابدی (عبرانیوں 9باب 14آیت) اور ہر جگہ حاضرو ناظر ہے ( 139زبور 7آیت)۔ محض ایک قوت ان تمام صفات کی مالک نہیں ہو سکتی لیکن رُوح القدس اِن صفات کا حامل ہے۔

اور رُوح القدس کی شخصیت کی تصدیق ثالوث خدا کی ذات کے تیسرے اقنوم کے طور پر اُس کے کردار سے ہوتی ہے۔ صرف ایک ایسی ہستی کوہی خدا کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے جو خدا کے برابر ہے (متی 28باب 19آیت) اور جو علیم کُل ، ہر جگہ حاضر و ناظر اور ابدی ہونے کی صفات رکھتی ہے ۔

اعمال 5باب 3-4آیات میں پطرس نے یہ بیان کرتے ہوئے رُوح القدس کا حوالہ دیا کہ "اَے حننیاؔہ! کیوں شَیطان نے تیرے دِل میں یہ بات ڈال دی کہ تُو رُوح القُدس سے جُھوٹ بولے اور زمین کی قیمت میں سے کُچھ رکھ چھوڑے؟ کیا جب تک وہ تیرے پاس تھی تیری نہ تھی؟ اور جب بیچی گئی تو تیرے اِختیار میں نہ رہی؟ تُو نے کیوں اپنے دِل میں اِس بات کا خیال باندھا؟ تُونے آدمیوں سے نہیں بلکہ خُدا سے جھوٹ بولا"۔ " اسی طرح پولس نے بھی 2کرنتھیوں 3باب 17-18آیات میں اس بیان کے ساتھ رُوح القدس کو خدا کے طور پر پیش کیا "خُداوند رُوح ہے اور جہاں کہِیں خُداوند کا رُوح ہے وہاں آزادی ہے۔ مگر جب ہم سب کے بے نقاب چہروں سے خُداوند کا جلال اِس طرح منعکِس ہوتا ہے جس طرح آئینہ میں تو اُس خُداوند کے وسیلہ سے جو رُوح ہے ہم اُسی جلالی صُورت میں دَرجہ بَدرجہ بدلتے جاتے ہیں۔"

جیسا کہ کلام واضح کرتا ہے کہ رُوح القدس ایک شخصیت ہے۔ اسی لیے وہ خدا کے طور پر قابل احترام ہے اور باپ اور بیٹے کے ساتھ کامل اتحاد میں ہماری رُوحانی زندگیوں میں رہنمائی کرتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا رُوح القدس شخصیت کی حامل ایک ذات ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries