settings icon
share icon
سوال

رُوح القدس آگ کی مانند کیسے ہے؟

جواب


بائبل خدا کو " بھسم کرنے والی آگ" (عبرانیوں 12باب 29آیت)کے طور پر بیان کرتی ہے لہذا یہ حیرت کی بات نہیں ہے کہ آگ اکثر خدا کی موجودگی کی علامت کے طور پر پیش کی جاتی ہے ۔ اِ ن مثالوں میں جلتی جھاڑی( خروج 3باب 2آیت)،بادل کے ستون ( خروج 14باب 19 آیت) ، خیمہ شہادت پر ابر ( گنتی 9باب 15-16آیات) اور حزقی ایل کی رویہ ( حزقی ایل 1باب 4آیت) کے واقعات شامل ہیں ۔ بیشتر اوقات آگ خدا کی عدالت کا آلہ کار (گنتی 11باب 1 اور 3آیات ؛ 2سلاطین 1باب 10اور 12آیت) اور اُس کی قدرت کا نشان رہی ہے (قضاۃ 13باب 20 آیت؛ 1سلاطین 18باب 38آیت)۔

اِن واضح وجوہات کی بناء پر آگ پرانے عہد نامے کی قربانیوں کے لیے بہت اہم تھی ۔ سوختنی قربانی کے مذبح پر آگ ایک الٰہی تحفہ تھی جسے بنیادی طور پر خود خدا کی طرف سے روشن کیا گیا تھا (احبار 9باب 24آیت)۔ خدا نے کاہنوں کو حکم دیا کہ وہ اِس آگ کو جسے خُدا نے جلایا تھا ہمیشہ جلتا ہوا رکھیں (احبار 6باب 13 آیت) اور اُن پر واضح کیا تھا کہ کسی بھی اور وسیلہ سے لی گئی آگ ناقابل قبول ہوگی ( احبار 10باب 1-2آیات)۔

مذبح نئے عہد نامے میں خداوند یسوع سے ہماری وابستگی کی منظر کشی کر سکتا ہے ۔ یسوع مسیح کے پیروکاروں کی حیثیت سے ہم سے اپنے بدنوں کو " زندہ اور پاک " ( رومیوں 12باب 1آیت) قربانی کے طور پر پیش کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جو مکمل طور پر الٰہی تحفے یعنی رُوح القدس کی نا بجھنے والی آگ کےلیے وقف ہے ۔ نئے عہد نامے کے بالکل شروع میں ہی رُوح القدس کو آگ سے جوڑا کیا گیا ہے ۔ یوحنا بپتسمہ دینے والا پیشن گوئی کرتا ہے کہ یسوع ہی " تُم کورُوح القُدس اور آگ سے بپتِسمہ دے گا" (متی 3باب 11آیت)۔ رُوح القدس نے جب ابتدائی کلیسیا کے اندر بسنے کی اپنی خدمت کا آغاز کیا تو اُس نے ہر ایماندار پر " آگ کے شُعلہ کی سی پھٹتی ہُوئی " زبانوں کی صورت میں ٹھہرنے کا انتخاب کیا ۔ اور اس موقع پر " وہ سب رُوح القُدس سے بھر گئے اور غیر زُبانیں بولنے لگے جس طرح رُوح نے اُنہیں بولنے کی طاقت بخشی" (اعمال 2باب 3-4آیات)۔

آگ رُوح القدس کے کام کی ایک حیرت انگیز تصویر ہے ۔ رُوح القدس کم از کم تین طرح سے آگ کی مانند ہے ؛ وہ خدا کی موجودگی ، خُدا کا جوش وجذبہ اور خدا کی پاکیزگی لاتی ہے ۔ رُوح القدس خدا کی موجودگی کا اظہار ہے کیونکہ یہ ایماندار کے دل میں رہتا ہے ( رومیوں 8باب 9آیت)۔ پرانے عہدنامے میں خدا نے خیمہ اجتماع پر ابر کے ظہور کے ذریعے بنی اسرائیل کے سامنے اپنی موجودگی کا اظہار کیا تھا۔ آگ کی موجودگی روشنی اور رہنمائی فراہم کرتی تھی (گنتی 9باب 17-23آیت) ۔ نئے عہد نامے میں خدا اپنے لوگوں کی رُوح القدس کے وسیلہ سے رہنمائی کرتا اور انہیں تسلی دیتا ہے جو ہمارے بدنوں –یعنی " خیمہ کے گھر" اور " زندہ خدا کے مَقدس" میں بسا ہوا ہے ( 2کرنتھیوں 5باب 1آیت؛ 6باب 16آیت)۔

رُوح القدس ہمارے دلوں میں خدا کاجوش و جذبہ پیدا کرتا ہے ۔ یسوع کے زندہ ہونے کے بعد اماوس کی راہ پر سفر کرنے والے دو شاگرد یسوع کے ساتھ بات کرتے ہیں اور بعد میں بیان کرتے ہیں کہ " جب وہ راہ میں ہم سے باتیں کرتا اور ہم پر نوِشتوں کا بھید کھولتا تھا تو کیا ہمارے دِل جوش سے نہ بھر گئے تھے؟" ( لوقا 24باب 32آیت)۔ عید پنتیکست کے دن رُوح القدس حاصل کرنے کے بعد رسولوں میں ا یک ایسا جوش پیدا ہوا جو زندگی بھر اُن میں قائم رہا اور اُنہیں دیدہ دلیری سے خدا کا کلام بیان کرنے کی قوت بخشی ( اعمال 4باب 31آیت)۔

رُوح القدس ہماری زندگیوں میں خدا کی پاکیزگی پیدا کرتا ہے ۔ ہمیں پاک کرنا خدا کا اصل مقصد ہے ( طِطُس 2باب 14آیت) اور اس سلسلے میں رُوح القدس ہماری تقدیس کا کام سر انجام دیتا ہے ( 1کرنتھیوں6باب 11آیت؛ 2تھسلنیکیوں 2باب 13آیت؛ 1پطرس 1باب 2آیت)۔جیسے سُنار قیمتی دھات میں سے آلائشوں کو صاف کرنے کےلیے آگ کا استعمال کرتا ہے بالکل ویسے ہی ہمارا خُدا ہمارے گناہوں کو ہم سے دُور کرنے کےلیے رُوح القدس کو استعمال کرتا ہے (66زبور 10آیت؛ امثال 17باب 3آیت)۔ اُس کی آگ ہمیں پاک اور صاف کرتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

رُوح القدس آگ کی مانند کیسے ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries