settings icon
share icon
سوال

مَیں ایک ہندو ہوں، مجھے ایک مسیحی بننے پر کیوں غور کرنا چاہیے ؟

جواب


ہندو مذہب اور مسیحیت کا کچھ باتوں میں موازنہ کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ مغرب کے لوگوں کے لیے ہندو مت ایک پھسلنے والے مذہب کی مانند ہے جسےپورے طور پر سمجھ پانااُن کے لیے قدرےمشکل ہے۔اِس مذہب میں غیر مذہبی چیزوں کی بھی بے انتہا بھرمار ہے، اِس مذہب کی تاریخ بہت قدیم اور بھرپور ہے اور اِس کا علم الہیات بہت ہی زیادہ وسیع ہے۔ دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا مذہب ہوگا جو ہندو مت کی طرح بہت سے رنگوں سے مرصّع اور پُر تکلف ہو۔ ہندو مذہب اور مسیحیت کا موازنہ کرتے ہوئےمتقابل ادیان کے نا تجربہ کار افراد جلد ہی بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس لئے یہاں پر پیش کئے جانے والے سوال کو بڑی احتیاط اور حلیمی کے ساتھ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں پردیا گیا جواب اِس موضوع پر انتہائی مفصل جواب یا ہندومت کے کسی ایک خاص نقطے کی گہرائی کے ساتھ سمجھ یا ادراک ہونے کا قطعی طور پر دعویٰ نہیں کرتا بلکہ یہ جواب محض مذاہب کے درمیان کچھ خاص نکات کا موازنہ کرنے کی کاوش ہے تاکہ اِس بات کو ظاہر کیا جا سکے کہ مسیحیت ہماری خاص توجہ کی مستحق ہے۔

سب سے پہلے مسیحیت پراسکے تاریخی طور پر قابلِ عمل ہونے کی وجہ سے غور کیا جانا چاہیے۔ مسیحیت کی کہانی کے اندر ایسے کردار اور واقعات پائے جاتے ہیں جن کی جڑیں تاریخ کے اندر بہت گہرے طور پر پیوست ہیں اور جن کی شناخت فورینسک سائنسی نظاموں جیسے کہ علمِ آثارِ قدیمہ اور متنی تنقید کے ذریعے سے با آسانی کی جا سکتی ہے۔ ہندو مت کی بھی ایک لمبی تاریخ ہے لیکن اِس کی الہیاتی تعلیم، اساطیری و افسانوی کہانیاں اور تاریخ باہمی طور پر یوں ملی ہوئی ہے کہ واضح اور حتمی تصویر دیکھنا مشکل ہو جاتا ہےا ور آپ کے لیے یہ جاننا مشکل ہو جاتا ہے کہ اِن تینوں میں سے کونسی چیز کہاں پر رُک گئی اور دوسری چیز شروع ہو گئی۔ ہندومت میں افسانوی و اساطیری کہانیوں کو کھلم کھلا استعمال کیا جاتا ہے۔ افسانیت کو ہندومت میں دیوتاؤں کی شخصیات اور اُن کی فطرت کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ ہندومت کے اندر جو تاریخی ابہام پایا جاتا ہے اُس کے حوالے سے مذہب کے اندر کافی لچک پائی جاتی ہے اور اُس کے لیے بہت زیادہ قبولیت بھی پائی جاتی ہے۔ لیکن اب اگر کوئی مذہب جس قدرتاریخی نہیں ہے اُسی قدر اُس مذہب کی مناسب جانچ پڑتال اور پرکھ نہیں کی جا سکتی۔ عین ممکن ہے کہ ایسے مذہب کو جھوٹا قرار نہ دیا جا سکے لیکن اِس کے ساتھ ساتھ اِس کی تصدیق بھی نہیں کی جا سکتی۔ یہ یہودیوں اور بعد میں مسیحیوں کی روایات کی حقیقی تاریخ ہے جو مسیحیت کے علمِ الہیات کے لیے مناسب جواز پیش کرتی ہے اور اُسے درست قرار دیتی ہے۔ اگر آدم اور حوا حقیقی انسانوں کے طور پر اپنا وجود نہیں رکھتے تھے۔ بنی اسرائیل مصر سے آزاد ہو کر نہیں نکلے تھے، اگر یوناہ کی کہانی محض ایک افسانہ تھی اور اگر یسوع اِس زمین پر کبھی نہیں ہو گزرا تو پھر صرف اِنہی نکات کی بنیاد پر پورے کا پورا مسیحی مذہب دھڑام سے نیچے آ گرے گا۔ مسیحیت کے لیے ایک جھوٹی تاریخ کا مطلب ہے ایک مسام دار/سوراخ دار علمِ الہیات۔ ایسی تاریخ بنیاد مسیحیت کی کمزوری بھی بن سکتی تھی لیکن مسیحی روایات کے تاریخی طور پر قابلِ جانچ حصوں کی اتنی دفعہ توثیق ہوئی ہے کہ مسیحیت کی یہ کمزوری اُسکی طاقت بن جاتی ہے۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ مسیحیت اور ہندومت کے اندر اہم تاریخی شخصیات کا ذکر موجود ہے لیکن صرف یسوع ہی وہ واحدشخص ہے جو جسمانی طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ تاریخ میں بہت سارے دانا اُستاد ہو گزرے ہیں اور ایسے بھی بہت سارے لوگ ہو گزرے ہیں جنہوں نے مختلف طرح کے مذاہب کا آغاز کیا۔ ہندومت میں بھی بہت سارے دانا اُستاد اور بہت بڑے بڑے زمینی رہنما ہو گزرے ہیں۔ لیکن اِن سارے دانا اُستادوں اور رہنماؤں میں یسوع سب سے زیادہ نمایاں ذات ہے۔ اُس کی رُوحانی تعلیمات کی تصدیق ایسی آزمائش سے ہوتی ہے جس میں سے کامیاب ہونا صرف الٰہی قدرت کی بدولت ہی ممکن تھا: یعنی اُس کا مرنا اور پھر اپنے بدن میں جی اُٹھنا جس کی اُس نے خود پیشن گوئی کی اور پھر خود ہی اُس پیشن گوئی کو پورا کر دیا (متی 16 باب 21 آیت؛ 20باب18- 19آیات؛ مرقس 8 باب 31آیت؛ لوقا 9 باب 22 آیت؛ یوحنا 20 باب 21 آیت؛ 1 کرنتھیوں 15 باب)۔

مزید برآں مسیحیت کی مُردوں میں سے جی اُٹھنے کی جو تعلیم اور عقیدہ ہے وہ ہندومت کے نئے جنم کے عقیدے سے بالکل مختلف ہے۔ یہ دونوں تصورات قطعی طور پر یکساں نہیں ہیں۔ اور اگر تاریخی اور مشاہداتی لحاظ سے مطالعہ کیا جائے تو یہ مسیح کا مُردوں میں سے جی اُٹھنا ہی ہے جسکی سچائی کو ہم تمام ثبوتوں کی روشنی میں مناسب طور پر اخذ کر سکتے ہیں۔ لادین اور مذہبی علماء کی کھوج کی صورت میں یسوع مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کا ہی مناسب اور معقول جواز خصوصی طور پر قابلِ اعتبار ٹھہرتا ہے۔ اِس کی تصدیق کسی طور پر بھی ہندو مت کے نئے جنم کے عقیدے کی توثیق نہیں کرتی۔ ذیل میں اِن دونوں میں پائے جانے والے فرق کا جائزہ لیں:

مُردوں میں سے جی اُٹھنے (قیامت) کے مرحلے میں ایک زندگی، ایک فانی بدن، اور ایک نیا غیر فانی جلانی بدن شامل ہوتا ہے۔ مُردوں میں سے جی اُٹھنا الٰہی مداخلت کی بدولت ہی ممکن ہے، یہ توحید پرستانہ نظریہ ہے، مُردوں میں سے جی اُٹھنے کا مطلب گناہ سے مکمل آزادی یا خلاصی ہے اور ایمانداروں کے لیے یہ چیز اخیر زمانہ میں ہی ہوگی۔ دوسری طرف نئے جنم میں کئی اموات اور کئی ایک زندگیاں شامل ہوتی ہیں، کئی ایک فانی اجسام شامل ہوتے ہیں لیکن اِس میں ایک بھی غیر فانی جلالی بدن شامل نہیں ہوتا۔ مزید برآں نیا جنم یا از سرِ نو تجسم فطری اصولوں کے موافق ہوتا ہے، اِس تصور کا عام طور پر تعلق عقیدہِ وحدت الوجود (ہر ایک چیز ہی خُدا کی ذات کا حصہ ہے) کیساتھ ہوتا ہے، اِس کا دارومدار کرما پر ہوتا ہے اور یہ مسلسل طور پر جاری و ساری رہتا ہے۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ اِن دونوں نظریات میں پائے جانے والے فرق کو بیان کرنے کی بدولت اِن میں سے کسی ایک کو بھی سچا ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ بہر حال اگر مُردوں میں سے جی اُٹھنے جیسا عمل تاریخی لحاظ سے قابلِ مشاہدہ ہے تو پھر ایک زندگی کے بعد کے اِن دونوں تجربات کو اِس بناء پر علیحدہ علیحدہ کیا جا سکتا ہے کہ اِن میں سے کونسا درست ہے اور کونسا درست نہیں ہے۔ مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے اور مُردوں کی قیامت کے بارے میں مسیحیوں کے بڑے ترین عقائد اِس حوالے سےغور کرنے کے قابل ہیں۔

تیسرے نمبر پر مسیحی کلام تاریخی لحاظ سے اپنی بہت ہی نمایاں حیثیت رکھتا ہے اور یہ اِس قابل ہے کہ اِس پر بڑی سنجیدگی کے ساتھ غور کیا جائے۔ کئی ایک طرح کی جانچ پڑتال اور پرکھ میں بائبل نہ صرف ہندوؤں کے ویدوں سے بلکہ دیگر تمام تاریخی کتب سے سبھی معاملات میں سبقت لے جاتی ہے۔ یہاں پر یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ بائبل مُقدس کی تاریخ اِس قدر سچائی پر مبنی ہے کہ بائبل مُقدس کی باتوں پر شک کرنا دراصل تاریخ کے اوپر شک کرنے کے مترادف ہوگا کیونکہ بائبل تاریخی کتب کے درمیان تاریخ کے لحاظ سے ایسی کتاب ہے جس کی باتوں کی سب سے زیادہ تصدیق ہوئی ہے۔ پرانے عہد نامے سے بھی زیادہ نئے عہد نامے کے واقعات کی تاریخی لحاظ سے تصدیق کی جا سکتی ہے۔ اِس حوالے سے مندرجہ ذیل چیزوں پر غور کیجیے:

أ. نئے عہد نامے کے متن کی قدیم دور کی کسی بھی کتاب سے زیادہ نقول موجود ہیں – 5000 نقول تو محض یونانی متن کی ہیں، 24000 سے زیادہ نقول دیگرتمام زبانوں کو ملا کر بنتی ہیں۔

ب. نئے عہد نامے کے متن کی جو نقول ہیں وہ اصل تحریروں سے بہت کم عرصہ بعد وجو دمیں آئیں اور اِن کا درمیانی وقت بہت کم ہے جبکہ کوئی بھی اور کتاب ہمیں ایسی نہیں ملتی۔ نئے عہد نامے کی اصل تحریریں جس وقت لکھی گئیں اُس وقت چشمِ دید گواہ موجود تھے، یہ سبھی حصے پہلی صدی بعد ازمسیح میں لکھی گئے اور ہمیں مکمل نیا عہد نامہ 250 بعد از مسیح میں ملتا ہے۔اب چونکہ نئے عہد نامے کے تمام حصے چشمِ دید گواہوں کی زندگیوں میں ہی لکھے گئے اِس لیے یہاں پر اِس بات کا قطعی امکان نہیں ہے کہ اُن کے اندر اُس دور کی کچھ افسانوی باتیں یا چیزیں ، کچھ لوک کہانیاں وغیرہ شامل ہو سکیں۔ اِس کے ساتھ ساتھ اُن کے سچائی کے دعوے اُس دور کے کلیسیا ئی ارکان کے سامنے جوابدہ تھے کیونکہ وہ اِن سبھی حقائق اور واقعات کے چشمِ دید گواہ تھے اور وہ حقائق کی کھوج لگا سکتے تھے۔

ج. نئے عہد نامے کی نقول کی دستاویزات قدیم دور کی کسی بھی طرح کی دستاویزات سے زیادہ درست ہیں۔ جان آر۔ روبنس اپنی تصنیف Honest to God میں بیان کرتا ہے کہ نئے عہد نامے کی دستاویزات 99.9 فیصد درست ہیں (یعنی قدیم دور کی کسی بھی مکمل کتاب سے زیادہ درست)۔ یونانی نئے عہد نامے کے ماہر بروس میٹزگرکا کہنا ہے کہ یہاں پر 99.5 فیصد درست اور اپنی اصل حالت میں کہنا قدرے بہتر ہوگا ۔

چوتھے نمبر پرمسیحیت کا خُدا کی واحدانیت پر ایمان اصنام پرستی اور وحدت الوجود عقیدے پر فوقیت رکھتا ہے۔ یہ کہنا انصاف پر مبنی نہیں ہوگا کہ ہندومت کو صرف عقیدہِ وحدت الوجود (ہر ایک چیز میں خُدا ہے/ہر ایک چیز ہی خُدا ہے) اور اصنام پرستی (بے شمار خُدا ہیں)کے زمرے میں ہی شامل کیا جائے۔ ہندو مت کے اندر بہت سارے تصورات کے لوگ پائے جاتے ہیں اور ابھی مختلف گروہوں کے اپنے اپنے تصورات کی بنیاد پر ہی اِس بات کا تعین کیا جا سکتا ہے کہ کون کس عقیدے کا حامی ہے۔ اُن میں سے کچھ لوگ وحدت الوجود عقیدے کے حامی ہو سکتے ہیں تو کچھ اصنام پرستی کے، کچھ وحدت پرستی کے حامی ہیں تو کچھ ایک خُدا کی وحدانیت کے، لیکن بہت سارے تصورات اِس کے علاوہ بھی موجود رہتے ہیں۔ بہرحال ہندومت کے اندر دو سب سے بڑے گروہ ہیں جو اصنام پرستی اور عقیدہ وحدت الوجود کے حامی ہیں۔ مسیحیت کے ایک خُدا پر ایمان کے عقیدے کو اِن دونوں نظریات پر خاطر خواہ فوقیت حاصل ہے۔ یہاں پر چونکہ بہت لمبی بات نہیں کی جا سکتی اِس لیے اِس بات کو مدِ نظر رکھتے ہوئےہم یہاں پر اِن تینوں نظریات کا موازنہ ایک ہی اخلاقی نقطے کے حوالے سے کریں گے۔

اخلاقیات کی بنیاد کے حوالے سے اصنام پرستی اور عقیدہِ وحدت الوجود دونوں ہی کا موقف مشکوک ہے۔ اگر اصنام پرستی کی بات کی جائے تو چونکہ یہ عقیدہ بے شمار خُداؤں، دیوتاؤں کے وجود کی بات کرتا ہے، اب اگر بہت سارے خُدا ہیں تو کونسے خُدا کے پاس اخلاقیات کا بلند ترین مقام ہے جسے انسانوں کو مدِ نظر رکھنے کی ضرورت ہے؟اب اگر بہت سارے خُدا موجود ہوں تو کیا اُن کا اخلاقی نظام باہمی طور پر متصادم نہیں ہوگا، متصادم ہوگا یا پھر اخلاقی نظام سرے سے موجود ہی نہیں ہوگا۔ اگر بہت سارے خُدا موجود ہی نہیں ہیں تو پھر اُن کے اخلاقی نظام خود ساختہ اور بے بنیاد ہیں۔ اِس صورتحال کی کمزوری بالکل واضح اور اپنے آپ میں ایک ثبوت ہے۔ اگر اُن کے اخلاقی نظام آپس میں متصادم نہیں ہیں تو پھر کونسی ایسی ایک بات ہے جس کی وجہ سے وہ باہمی طور پر ایک دوسرے کے ساتھ اتفاق کرتے ہیں۔ ابھی اگر کوئی ایسا اصول ہو جو اِن تمام اخلاقی نظاموں میں ہم آہنگی رکھتا ہے تو وہ واحد اصول اُن کے سبھی دیوتاؤں سے برتر ہوگا۔ دیوتا ؤں میں سے کوئی بھی حتمی نہیں ہے کیونکہ وہ ایک دوسرے کے اختیار کے سامنے جوابدہ ہیں۔ اِس لیے اِن سب سے بڑی حقیقت موجود ہے جس کی کسی بھی شخص کو پیروی کرنی چاہیے۔ یہ حقیقت اگر اصنام پرستی کو بالکل کھوکھلی نہیں تو بہت ہی کم گہرا بنا دیتی ہے۔ تیسرے نکتے کی بات کریں تو اگر دیوتا درست اور غلط کے معیاروں پر ایک دوسرے کے ساتھ متصادم ہیں تو ایسی صورت میں ایک دیوتا کی پیروی کرنا دوسرے دیوتاؤں کی نافرمانی کرنے کے مترادف ہوگا جو اصنام پرستی کے پیروکاروں کی سزا کا باعث بنے گا۔ ایسی صورت میں اخلاقی نظام نسبتیت کا شکار ہوگا۔ ضروری نہیں کہ جو بات ایک دیوتا کے لیے اچھی ہو وہ سبھی دیوتاؤں کے لیے بھی اچھی اور عالمگیر نوعیت کی سچائی ہو۔ مثال کے طور پر اگر ہندومت کے کسی ایک گروہ کی طرف سے کسی شخص کو کالی ماتا (کالی دیوی) کے سامنے اپنے بچّوں کی قربانی چڑھانے کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے تو اُس کے ساتھ ہی ہندومت کے اندر ہی کئی ایک ایسے گروہ ہیں جو اِس بات کو غلط قرار دیتے ہوئے اِس سے منع کریں گے۔ لیکن بلا شک و شبہ بچّوں کی ایسی قربانی ہر لحاظ سے قابلِ اعتراض چیز ہے۔ کچھ چیزیں ایسی موجود ہیں جو ہر لحاظ اور اپنے ظاہری پن سے غلط اور درست ہوتی ہیں۔

عقیدہِ وحدت الوجود اصنام پرستی سے بہتر حالت میں نہیں ہے کیونکہ یہ عقیدہ بیان کرتا ہے کہ حتمی طور پر ایک ہی چیز- ایک ہی الٰہی سچائی- موجود ہے اور یوں یہ عقیدہ اچھے اور بُرے کے درمیان فرق کرنے کی قطعی اجازت نہیں دیتا۔ اگر "اچھائی" اور "بُرائی" حقیقت میں مختلف ہیں تو پھر اِس دُنیا میں صرف ایک ہی ناقابلِ تقسیم حقیقت نہیں ہو سکتی۔ عقیدہِ وحدت الوجود بھی حتمی طور پر اِس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ اخلاقی طور پر اچھائی اور بُرائی میں فرق کیا جا سکے۔ اچھائی اور بُرائی بالآخر ایک ہی اندیکھی حقیقت میں غائب ہو جاتی ہیں۔ اور اگر اچھائی یا بُرائی کے اِس فرق کو دیکھا اور ظاہر کیا بھی جا سکے تو کرما کا سیاق و سباق اُس اخلاقی فرق کو باطل قرار دے دیتا ہے

کرما فطری اصول کی طرح ایک لا شخصی اصول ہے۔ جیسا کہ زمینی کشش یا جمود۔جب کسی شخصی کی زندگی میں کرما آتا ہے تو یہ کسی ایسی قوت کی مانند نہیں ہوتا جو الٰہی پولیس جیسی ہو اور لوگوں کے کاموں کے حساب سے اُن کا انصاف کرے۔ اِس کی بجائے یہ فطرت کا ایک لاشخصی ردِعمل ہے۔ لیکن اخلاقیات ایک شخصیت کے وجود کا تقاضا کرتی ہے۔ ایک ایسی شخصیت جو کرما قطعی طور پر نہیں دے سکتا۔ مثال کے طور پر ہم پٹائی میں استعمال ہونے والی ایک چھڑی کومجرم نہیں مانتے کیونکہ چھڑی کی اپنی کوئی اخلاقیات نہیں ہے اور نہ ہی اُس کا کوئی فرض ہے۔ چھڑی کی بجائے ہم اُس شخص کو الزام دیتے ہیں جس نے اُس چھڑی کا غلط استعمال کیا ہو۔اُس شخص کی ایک اپنی اخلاقیات ہے اور اُس کا اپنا اخلاقی فرض ہے۔ اِسی طرح اگر کرما محض ایک غیر شخصی قوت ہی ہے تو یہ اخلاقیات سے لاتعلق ایک چیز ہے جس کی کسی بھی طرح کی اخلاقیات کے لیے مناسب بنیاد نہیں ہے۔

مسیحیت کے وحدانیت پر مبنی عقیدے کی اخلاقیات کی جڑیں بہرحال خود خُدا کی ذات میں پیوست ہیں۔ خُدا کی ذات راست ہے اور اِس لیے ہر ایک وہ چیز جو اُسکی ذات اور مرضی کے ساتھ ہم آہنگ ہے وہ اچھی ہی ہے۔ اور ہر ایک وہ چیز جو خُدا کی ذات اور مرضی سے علیحدہ ہو جاتی ہے وہ بُری ہے۔ اِس لیے ایک خُدا اخلاقیات کی حتمی بنیاد بنتا ہے۔ کیونکہ اُس کی ایک اپنی شخصیت بھی ہے اور اُس کا اچھائی اور بُرائی کے بارے میں علم اُس کی طرف سے انصاف کے کئے جانے کی بنیاد بھی فراہم کرتا ہے۔

پانچواں سوال جو باقی رہ جاتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ اپنے گناہ کے ساتھ کیا کریں گے؟ اس مسئلے کا مسیحیت کے پاس ایک بہت مدلل اور مضبوط جواب ہے۔ ہندومت میں بھی بدھ مت کی طرح گناہ کے بارے میں دو تصورات پائے جاتے ہیں۔ کبھی کبھی تو گناہ کو لا علمی کے طور پر سمجھا جاتا ہے۔ جس طرح سے ہندومت حقیقت کو بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے اگر کوئی اُسے اُسی طرح سے نہ سمجھے تو یہ گناہ ہے۔ اور اِس کے بعد "اخلاقی غلطی" کی اصطلاح کے ساتھ بیان کئے جانے والے گناہ کا تصور پیچھے رہ جاتا ہے۔ جان بوجھ کر کوئی بُرائی کرنا، کوئی رُوحانی یا زمینی اصول یا قانون توڑنا یا کسی غلط چیز کی خواہش کرنا گناہ ہوگا۔ اب گناہ کی یہ اخلاقی تشریح یا تعریف جو کہ ایک اخلاقی غلطی کی مانند ہے وہ ایک حقیقی کفارے کا تقاضا کرتی ہے۔ اب وہ کفارہ کہاں سے آ سکتا ہے؟ کیا کرما کے اصولوں کی پیروی کرنے سے وہ کفارہ ادا ہو جائے گا؟کرما تو لا شخصی اور اخلاقیات سے لا تعلق چیز ہے۔ کوئی شخص اپنے گناہوں اور اچھے کاموں میں توازن پیدا کرنے کے لیے اور زیادہ اچھے کام تو کر سکتا ہے لیکن وہ اپنے گناہوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا اور اُنہیں کہیں پھینک نہیں سکتا۔ کرما توہمیں کوئی ایسا سیاق و سباق بھی مہیا نہیں کرتا جس کی روشنی میں کہا جا سکے کہ اخلاقی غلطی اخلاقیات سے تعلق رکھتی ہے۔ اگر ہم نے شخصی طور پر خفیہ حالت میں کوئی گناہ کیا ہے تو پھر ہم نے کس کے خلاف کچھ کیا ہے؟کرما اِس کی کوئی پرواہ نہیں کرتا کیونکہ کرما کوئی شخصیت نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے بیٹے کو قتل کر دیتا ہے تو وہ اُس نقصان کی تلافی کرنے کے لیے اپنا مال و دولت، اپنی ملکیت یا دوسرے فریق کو اپنا بیٹا تو پیش کر سکتا ہے لیکن جس نوجوان کو اُس نے قتل کیا وہ اُس کے تعلق سے قتل کے عمل کو واپس نہیں پھیر سکتا۔ جو گناہ ہو جاتا ہے اُس کے لیے کوئی بھی چیز ادا کرنے سے اُس کی بھرپائی نہیں ہوتی۔ کیا نجات یا خلاصی شِوا یا وشنو دیوتا سے دُعا کرنے یا اُن کے ساتھ عقیدت رکھنے سے مل سکتی ہے؟ حتیٰ کہ اگر وہ کردار معافی مہیا بھی کرتے ہیں پھر بھی گناہ ایک بہت بڑے واجب الادا قرض کی طرح ہوگا۔ وہ گناہوں کو ایسے معاف کریں گے جیسے کہ وہ چھوٹی چھوٹی عارضی سی غلطیاں ہوں اور کوئی بڑی بات نہ ہو ۔ پھر وہ رُوحانی راحت کے پھاٹکوں میں سے لوگوں کی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلا دیں گے اور بس۔

مسیحیت بہرحال گناہ کو ایک واحد، حتمی اور شخصی خُدا کے خلاف خطا کے طور پر دیکھتی ہے۔ آدم سے لیکر تمام انسان گناہگار مخلوق ہی ہوئے ہیں۔ گناہ حقیقی چیز ہے، اور یہ انسان اور رُوحانی راحت کے درمیان ایک لامحدود خلیج پیدا کر دیتا ہے۔ گناہ انصاف کا تقاضا کرتا ہے۔ اور ہم اپنے گناہ کے مقابلے میں اُتنی ہی یا اُس سے بھی زیادہ اچھائیاں کر کے بھی اپنی رُوحانی زندگی میں توازن نہیں لا سکتے۔ اگر کسی شخص کے اپنی بُرائیوں سے دس گنا زیادہ اچھے کام ہوں تو پھر بھی اُس شخص کے شعور میں بدی موجود ہے۔ وہ جو بُرے کام باقی رہ گئے ہیں اُن کے ساتھ پھر کیا ہوتا ہے؟ کیا وہ خود بخود ہی معاف ہو جاتے ہیں جیسے کہ وہ بنیادی طور پر ہی کوئی بہت بڑی چیز نہ ہوں؟کیا رُوحانی راحت میں اُن کی بھی گنجائش ہے؟کیا وہ محض فریب نظری ہیں اور اُن سے کوئی بھی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا؟ اِن میں سے کوئی بھی چیز یہاں پر موزوں نہیں ہے۔ اگر فریب نظری کی بات کریں تو ہمیں یہ جان لینے کی ضرورت ہے کہ گناہ اِس قدر حقیقی چیز ہے کہ اِس کو فریب نظری کے طور پر بیان نہیں کیا جا سکتا۔ گناہ آلودگی کے بارے میں بات کی جائے تو جب ہم سب اپنی ذات کے ساتھ ایمانداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے جائزہ لیتے ہیں تو ہم سب یہ جانتے ہیں کہ ہم نے گناہ کیا ہے۔ اگر معافی کی بات کی جائے تو گناہ کو بغیر کسی قیمت کے معاف کر دینا ایسے ہی ہے جیسے گناہ کے نتائج ہمارے لیے کسی طرح کی اہمیت کے حامل نہیں تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ چیز جھوٹ ہے۔ رُوحانی راحت کی حالت کے بارے میں بات کی جائے تو اگر اُس کے اندر مسلسل طور پر گناہ کو آنے کی اجازت دی جاتی ہے تو پھر وہ رُوحانی راحت حقیقت میں رُوحانی راحت نہیں ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کرما کے ترازو ہمیں ہمارے دِلوں میں گناہ کے ساتھ اور چوری چوری جھانکنے والے شعور کے ساتھ چھوڑ دیتا ہے جو ہمیں کہہ رہا ہوتا ہے کہ ہم نے اچھائی اور بُرائی کے کچھ شخصی اور حتمی معیاروں کی خلاف ورزی کی ہے۔ او ر رُوحانی راحت کا مقام بھی اِس بات کو قطعی طور پر برداشت نہیں کر سکتا یا پھر یہ ہو سکتا ہے کہ اگر ہم اپنے گناہوں کے ساتھ ہی اُس رُوحانی راحت کے مقام میں داخل ہو نے کی کوشش کریں تو وہ مقام اپنا وجود کھو دیتا ہے۔

مسیحیت کے نزدیک تمام طرح کے گناہ کی سزا مقرر ہے۔ بہرحال اُس سز ا کو مسیح کی شخصی قربانی کے تحت پہلے ہی سے صلیب پر سے ادا کر دیا گیا ہے۔ خُدا انسان بنا اور اُس نے اِس زمین پر ایک کامل زندگی گزاری۔ وہ ایسی موت مرا جس کے اصل میں ہم حقدار تھے۔ وہ ہماری جگہ پر مصلوب ہوا اور ہمارے بدلے میں مارا گیا۔ مطلب یہ کہ وہ ہمارے گناہوں کا کفارہ بنا۔ وہ اپنی موت کے تیسرے دن یہ ثابت کرنے کے لیے کہ اُس نے موت پر فتح حاصل کر لی ہے مُردوں میں سے جی اُٹھا۔ اِس کے علاوہ وہ ہمیں ہمیشہ کی زندگی کے لیے موت سے دوبارہ زندگی میں لانے کا وعدہ کرتا ہے۔ بشرطیکہ ہم اس کو اپنا شخصی خداوند اور نجات دہندہ تسلیم کرکے اس پر ایمان لے آئیں۔ (رومیوں3 باب 10، 30آیات؛ 6 باب 23آیت؛ 8 باب 12 آیت؛ 10 باب 9- 10 آیات؛ افسیوں 2 باب 8- 9 آیات؛ فلپیوں 3 باب 21آیت)۔

آخر میں مسیحیت میں ہم جان سکتے ہیں کہ ہم بچائے گئےہیں۔ ہمیں کسی عام قسم کے تجربات پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اور نہ ہی ہمیں اپنے اچھے کاموں؛ جانفشانی کے ساتھی کی گئی عقیدت پر انحصار کرنے کی ضرورت ہے۔ نہ ہی ہمیں کسی جھوٹے دیوتا پر ایمان رکھنے کی ضرورت ہے جن کے وجود میں ہونے پر ایمان رکھنے کی ہم کوشش کرتے ہیں۔ ہم اپنے سچے اور زندہ خُدا ، تاریخی طور پر بڑے اختیار کے ساتھ لنگر انداز ایمان، ایک قائم و دائم اور قابلِ جانچ خُدا کے مکاشفے (کلام)، علمِ الہیات کی روشنی میں اطمینان بخش اخلاقی زندگی اور آسمان پر اپنے خُدا کے ساتھ اپنے ابدی گھر کی ضمانت پر ایمان رکھتے ہیں

پس اِس سب کا آپ کے نزدیک کیا مطلب ہے؟ یسوع ایک حتمی حقیقت ہے! ہمارے گناہوں کے لئے یسوع ایک کامل قربانی تھا۔اگر ہم خُدا کا اپنے لیے دیا گیا تحفہ قبول کر لیں (یوحنا 1 باب 12 آیت)؛ یسوع مسیح پر اپنے ایسے نجات دہندہ کے طور پر ایمان رکھتے ہوئے جس نے ہم سب کے لیے جنہیں وہ اپنا دوست کہتا ہے جان دی تو خُدا ہم سب کو معافی اور نجات کی پیشکش کرتا ہے ۔ اگر آپ خُداوند یسوع مسیح پر اپنے واحد نجات دہندہ کے طور پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ آسمان پر ابدی رُوحانی راحت کی ضمانت پائیں گے۔ خُدا آپ کے گناہ معاف فرما دے گا، آپ کی رُوح کو دھو دے گا، آپ کی رُوح کو نیا بنا دے گا اور اِس دُنیا میں ایک بھرپور زندگی اور آئندہ دُنیا میں ابدی راحت عطا کرے گا۔ ہم ایسے بیش بہا تحفے کو کیسے ٹھکرا سکتے ہیں؟ ہم اپنے ایسے خُدا سے اپنا منہ کیسے موڑ سکتے ہیں جو ہم سے اِس قدر پیار کرتا ہے کہ اُس نے اپنے آپ کو ہماری خاطر قربان کر دیا؟

اگر آپ اِس وقت پُریقین نہیں ہیں کہ آپ کو کیا ماننا چاہیے اور کیا نہیں تو ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ خُدا کے حضور اِن الفاظ میں دُعا کیجئے؛ "خُداوند خُدا ، جو کچھ سچ ہے اُسے جاننے میں میری مدد فرما ۔ جو کچھ غلط ہے اُس کا سچائی سے فرق معلوم کرنے میں میری مدد فرما۔ میری یہ بات جاننے میں بھی مدد کر کہ نجات کا صحیح راستہ کونسا ہے۔" خُدا ہمیشہ ہی ایسی دُعا کو قبول کرے گا۔

اگر آپ یسوع کو اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر قبول کرنا چاہتے ہیں تو سادگی کے ساتھ خُدا سے بات کریں، اپنے منہ کے الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے یا پھر خاموشی کے ساتھ، اور اُسے بتائیں کہ آپ نے یسوع مسیح کے وسیلے سے نجات کے تحفے کو قبول کر لیا ہے۔ اگر آپ دُعا کرنا چاہتے ہیں تو یہاں پر ہم آپ کو ایک مثال پیش کرتے ہیں: "خُداوند خُدا ، میرے لیے تیری محبت کا شکر ہو۔ میرے لیے اپنی ذات کی قربانی دینے کے لیے تیرا شکر ہو۔ میرے لیے معافی اور نجات مہیا کرنے کے لیے تیرا شکر ہو۔ مَیں یسوع مسیح کے وسیلے سے نجات کے اِس تحفے کو قبول کرتا/کرتی ہوں۔ مَیں یسوع مسیح کو اپنے شخصی نجات دہندہ کے طور پر قبول کرتا/کرتی ہوں۔ آمین!"

جو کچھ آپ نے یہاں پر پڑھا ہے کیا اُس کی روشنی میں آپ نے خُداوند یسوع کی پیروی میں چلنے کا فیصلہ کیا ہے؟اگر ایسا ہے تو براہِ مہربانی نیچے دئیے ہوئے اُس بٹن پر کلک کیجئےجس پر لکھا ہوا ہے کہ "آج مَیں نے مسیح کو قبول کرلیا ہے۔"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں ایک ہندو ہوں، مجھے ایک مسیحی بننے پر کیوں غور کرنا چاہیے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries