میں ایک ہندو ہوں۔ مجھےکیوں مسیحی بننے کے لئے سوچنا چاہئے؟



سوال: میں ایک ہندو ہوں۔ مجھےکیوں مسیحی بننے کے لئے سوچنا چاہئے؟

جواب:
ہندو مذہب اور مسیحیت کا کچھ باتوں میں موازنہ کرنا مشکل ہے۔ کیونکہ مغربیوں کے لئے ہندو مذہب کو پکڑ پانا یا سمجھنا مشکل ہے۔ اس لئے کہ وہ ایک پھسلنے والا مذہب ہے۔ کیونکہ یہ بے حد فضیلت کی گہرائی، دلچسپ تاریخ اور تفصیلات کو اتمام تک پہنچانے والا علم دینیات ہے۔ دنیا میں شاید ہی ایساکوئی مذہب نہیں ہے جو کچھ زیادہ ہی مختلف النزع یا پر تکلف ہو۔ ہندو مذہب اور مسیحیت کا موازنہ کرتے ہوئے بالمقابل مذہبوں کے امیدوار پر آسانی سے حاوی ہو سکتے ہیں۔ اس لئے پیش کئے گئے سوال پر ہوشیاری سے اور حلیمی سے سوچناچاہئے۔ یہاں پردیا گیا جواب مضمون کو وسیع کرنے کا بہانہ نہیں کیا گیا ہے یایہاں تک کہ ایک "تفصیلاً " ہندو مذہب کی سمجھ کو کسی حد تک اختیار کیا گیا ہے۔ یہ جواب محض دو مذہبوں کے درمیان کچھ خاص باتوں کا موازنہ کرتاہےاس بات کی کوشش ظاہر کرنے کے لئے کہ کس طرح مسیحیت ایک التفات کا مستحق ہے۔

سب سے پہلے مسیحیت کو اسکے تاریخی ترقی کی صلاحیت پر سوچنا چاہئے۔ مسیحیت تاریخی اعتبار سے چنندہ لوگوں اور واقعات پر اس کی تجویز کے اندر جڑ پکڑے ہوئے ہے جو اس کےعدالتی سائنس کے ذریعہ پہچان کے لائق ہے جیسے آثار قدیمہ اور درسی کتاب کی نکتہ چینی وغیرہ۔ ہندو مذہب کے پاس یقیناً ایک تاریخ ہے مگر اس کی مذہبی باتیں، علم الاصنام (بتوں کا علم) اور تاریخ بہت اکثر سب ملا کر ایک دھندلی تصویر ہے جس سے یہ پہچاننا مشکل ہے کہ ایک کہاں پر ختم ہوتااور دوسراکہاں سے شرع ہو تاہے۔ ہندو مذہب کے اندر علم الاصنام کو کھلے عام مانا گیا اور اس کو قبول کیا گیا ہے جو خیالی قصوں اور کہانیوں کو اتمام تک پہچانے قابو میں لاتا، شخصیتوں کو سمجھاتا اور دیوتاؤں کے فطرت کو ظاہر کرتاہے۔ ہندو مذہب کے پاس اس کی تاریخی ابہام (گول-گول بات) کے ذریعہ کسی قدر ایک لچک اور مطابقت پذیری پائی جاتی ہے مگر ایک مذہب جہاں تاریخی نہیں ہے وہ بہت کم جانچ کے قابل ہے۔ اس صورت میں اس کو دروغ ثابت نہیں کیا جا سکتا نہ ہی اس کو صحیح ثابت کیا جاسکتاہے۔ ایسا ہی ہو بہو یہودیون کی تاریخ اور آخر کار مسیحیوں کی روایات یعنی کہ احکام و عقائد کی وہ باتیں جو ضبط تحریر میں نہ آئے ہوں جنہیں مسیحیت کی دینیات صحیح اور بجا ثابت کرتی ہیں۔ اگر آدم او رحوا کا وجود نہ ہوتا، اگر بنی اسرائیل قوم کا مصر سے باہر خروج نہ ہوتا، اگر یونس نبی صرف ایک مثال بطور ہوتایااگر یسوع مسیح زمین پر نہ چلا پھرا ہوتاتو پھر سارا مسیحی مذہب ان نشانوں پر آکر احتمالی طور سے یا امکانی طور سےکچل دیا جاتا۔ مسیحیت کے لئے فریب کاری تاریخ کا مطلب ایک مسام دار مذہبی باتیں (دینیات) ہے۔ اس طرح کی تاریخی بنیاد مسیحیت کی کمزوری بن سکتی تھی۔ مگر یہ کہ تاریخی طور سے جانچ کے قابل مسیحی روایات کے حصے بہت اکثر جائز قرار دیئے گئے ہیں کہ کمزوری ایک طاقت بن جاتی ہے۔

دوسری بات یہ ہےکہ جب مسیحیت اور ہندو مذہب دونوں کے پاس ایک تاریخی ہندسے ہیں، تو صرف یسوع کو ہی جسمانی طور سےمرے ہوؤں میں سے جی اٹھا ہوا دکھایا گیا ہے۔ تاریخ میں بہت سے لوگ عقلمند استاد جانے گئے ہیں یا وہ لوگ جنہوں نے مذہبی تحریک شروع کیا ہے۔ ہندو مذہب میں انکے اپنے عقلمند استاد اور زمینی رہنما رہے ہیں مگر یسوع ان سب میں سے فرق استاد ہے۔ اس کی روحانی تعلیم ایک امتحان کے ساتھ تصدیق ہوئی ہے کہ صرف الہی قوت ہی مر کر جسمانی طور سے زندہ ہو سکتی ہے جس کی اس نے نبوت کی تھی اور اس کو اس نے خود اپنے میں پورا بھی کیا (متی 16:21؛ 19-18 :20؛ مرقس 8:31؛ لوقا 9:22؛ یوحنا 21-20 :20؛ 1 کرنتھیوں 15 باب)۔

اس کے علاوہ جی اٹھنے کا مسیحی اصول ہندوؤں کے از سر نو تجسم (اوتار) سے بالکل الگ ثابت کرتاہے۔ یہ دونوں خیالات بالکل ایک جیسے نہیں ہیں۔ اور یہ صرف قیامت ہے جو یقین دلائے جانے کےساتھ اور تاریخی اعتبار سے اور شہادت سے متلعق تحقیق کا نتیجہ نکالا جا سکتا ہے۔ یسوع مسیح کی قیامت کو خاص طور سے دیکھا جائے تو غیر مذہبی اور مذہبی وظیفہ کی طرح قابل لحاظ حق بجانب ہے۔ اس کی جانچ از سر نو تجسم (اوتار) کے ہندو اصول سے تصدیق نہیں کیا جانا ہے۔ مندرجہ ذیل افراق کی طرف غور کریں۔

قیامت میں ایک موت، ایک زندگی، ایک فانی جسم اور ایک غیر فانی جلالی جسم ہے۔ قیامت ایک الہی دخل اندازی کے ذریعہ جو واقع ہوتاہے وہ توحید پرستانہ ہے، گناہ سےایک چھٹکارا ہے اور آخر کار آخری زمانہ میں وقوع میں آتاہے۔ مگر از سر نو تجسم اوتار مخالف طور پر کئی ساری موتیں، کئی ساری زندگیاں، کئی ساری فنا پذریری (فانی) اجسام اور کوئی غیر فانی جسم شامل نہیں ہے۔ اس کے از سر نو تجسم قدرتی اصول (قانون) کے ذریعہ واقع ہو تاہے جو کہ عام طور پروجودیت کے خیال سے (خدا سب کچھ ہے) کرما کی بنیاد پر چلایا جاتاہے۔اور وہ ہمیشہ کے لئے زیر عمل ہے۔ جی ہاں۔ افراق کی فہرست بناتے ہوئے ان میں سے کسی کی بھی سچائی کو ثابت نہیں کرتے۔ کسی طرح کسی اگر قیامت تاریخی طور بطور مشاہدہ پذیر ہے تو پھر یہ دو زندگی کے بعد کے واقعات صحیح اور مناسب بات کو غیر مناسب بات سے علیحدہ کرتے ہیں۔ یسوع مسیح کی قیامت اور قیامت کے مسیحی اصول کا ایک بڑا حصہ دونوں ہی غور کرنے کے قابل ہیں۔

تیسرا مسیحی نوشتے تاریخی اعتبار سے نمایاں ہیں، سنجیدہ تامل کےمستحق ہیں۔ کئی ایک جانچ میں بائبل ہندو ویدوں اور تمام دیگر قدیم زمانہ کی کتابوں سے سبقت لے جاتا ہے۔ اس لئے یہ زیادہ معنی رکھنے والی کتاب ہے۔ کوئی یہاں تک کہہ سکتاہے کہ بائبل کی ترایخ اتنا زیادہ مجبور کر دیتا ہے کہ اگر بائبل پر شک کرنا بھی پڑے تو خود تاریخ پر شک کرے۔اور تاریخ پر شک نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے کہ یہ تمام دیگر قدیم کتابوں سے سب سے زیادہ تاریخی اعتبار سے صحیح ثابت کرنے کے قابل ہے۔پرانے عہد نامے (عبرانی بائبل ) سے جو زیادہ سچ ثابت ہوا ہے وہ نیا عہد نامہ ہے۔ مندرجہ ذیل پر غور کریں:

1) کسی اور قدیم زمانہ کی کتابو ں سے زیادہ نئے عہدنامہ کے لئے دستاویز پائے جاتے ہیں۔ — 5000 قدیم یونانی دستاویزیں اور دیگر تمام زبانوں میں لکھی کتابوں کو شامل کرتے ہوئے 24000 دستاویزیں پائی جاتی ہیں۔ دستاویزوں کی یہ کثرت ایک ہولناک تحقیق و تفتیش کے لئے اجازت دیتی ہے اس بنیاد پر کہ جو ہم دوسری کتابوں کے خلاف کتاب کے اصل عبارت کی جانچ کرتے اور پہچان کرتے ہیں کہ اصلی کتابیں کیا کہتی ہیں۔

2) نئے عہدنامہ کی دستاویزیں فی زمانہ زیادہ قریب ہیں ان دیگر اصلی دستاویزوں کی تحریروں سے جو قدیم زمانہ کی ہیں۔ وہ تمام اصلی دستاویزیں زمانہ کی ہم عصر (آنکھوں دیکھی) کے اندر ہی پہلی صدی عیسوی میں لکھی گئی تھیں۔ اور اب موجودہ زمانہ میں ہمارے پاس 125 عیسوی کے پرانے دستاویزوں کے حصے موجود ہیں۔پوری کتاب کے نسخوں کو 200 عیسوی میں ظاہرا میں لایا گیا تھا اور پورا نیا عہد نامہ پیچھے 250 عیسوی میں دیکھا جاسکتا تھا۔ نئےعہد نامے کی تمام کتابوں کو سب سے پہلے لکھا گیا تھا جب آنکھوں دیکھی کے ذرائع موجود تھے۔اور ان کے پاس خرافات، روایات وعقائد جو عام لوگوں میں راسخ ہوں اس بطور سونپنے کے لئے وقت نہیں تھا۔ اس کے علاوہ ان کی سچائی کے دعوے کلیسیا کے ارکان کے ذریعہ جوابدہی اور ضامن تھے جو شخصی گواہ بطور واقعہ کے لئے سچائی کی جانچ کر سکتے تھے۔

3) نئے عہدنامے کے دستاویز دیگر کسی بھی قدیم دستاویزوں سے زیادہ ٹھیک اور درست تھے۔ جان آر رابن سن خدا کو حاضر و ناظر جان کررپورٹ پیش کرتے ہیں کہ نئے عہدنامے کے دستاویز 99.9% فیصد صحیح اور درست ہیں۔ (جس کا مطلب ہے کہ کسی بھی مکمل قدیم کتابوں سے کہیں زیادہ ٹھیک اور درست ہونا)۔بروس میڈزگر جو یونانی نئے عہدنامے کے عالم ہیں وہ اور زیادہ 99.5% فیصد ٹھیک اور درست ہونے کا دعوی کرتے ہیں۔

چوتھا ہے مسیحی وحدانیت۔ وحدت وجود کا عقدیدہ اور بہت سے دیوتاؤں کی پرستش پر فوقیت حاصل کرتاہے۔ یہ انصاف نہیں کہ ہندو مذہب کو صرف وحدت وجود کے عقیدہ کو ماننے والے بطور یا اصنام پرستی کرنے والے بطور ان کی سیرت یا خصلت بیان کریں۔ ہندو مذہب کی دھارا پر منحصر ہوتے ہوئے جس کے لئے منسوب کرتا ہے کہ وحدت وجود کا عقیدہ، اصنام پرستی اور وحدت پرستی ("سب ایک ہے")، وحدت پرستانہ یا دیگر انتخابوں کا ایک نمبر۔ کسی طرح ہندو مذہب کے اندر دو مضبوط دھارائیں بہت سے دیوتاؤں کی پرستش اور وحدت وجود کے عقیدے، مسیحی وحدانیت ان دونوں پر سب سے زیادہ فوقیت حاصل ہے۔ جگہ کا لحاظ کرتے ہوئے ان تین دنیا کے نظریوں کا یہاں پر موازنہ نہ کرتے ہوئے ہم صرف ایک کے بارے میں چرچا کریں گے وہ ہے اصول اخلاق۔

بہت سے دیوتاؤں کی پرستش (اصنام پرستی) اور وحدت وجود کا عقیدہ یہ دونوں ان کے اصول اخلاق کے لئے ایک سوالیہ نشان چھوڑتاےہ۔اصنام پرستی کے مطابق جبکہ ان میں کئی ایک دیوتا شامل ہیں تو پھر کونسا دیوتا آخر کار نسل انسانی کا خیال رکھنے کے زیادہ قابل ہے؟ جب ایک سے زیادہ دیوتا پائے جاتے ہیں تو کیا اصول اخلاقی کے نظام میں آویزش نہیں ہوتے؟ میں سوچتاہوں کہ ضرور ہوتے ہیں۔ اگر نہیں ہوتے تو اصول اخلاق گڑھی ہوئی ہے اور بے بنیاد ہے۔ سو اس حالت کی کمزوری ہی اپنے آپ میں ایک ثبوت ہے۔ اگر اصول اخلاق کے نظام میں کوئی آویزش نہیں ہے تو پھر کس اصول پر وہ خطار بندی کرتے ہیں۔ ان کے خطار بندی کا اصول چاہے جو بھی کچھ ہو ان کے دیوتاؤں سےزیادہ بنیادی ہوگا۔ دیوتا کبھی بھی بنیادی نہیں ہیں۔ اس لئےکہ وہ کچھ دوسرے اختیار کاجواب دیتے ہیں۔اس وجہ سے ایک اس سے اونچی سچائی ہے جس کے لئے ایک شخص کوپابند رہنا ہے۔ اسی حقیقت کی وجہ سے کثرت پسندی یااصنام پرستی کھوکھلی نظر آتی ہے یا پھر خالی دکھائی دیتی ہے۔ تیسرے انتخاب پر اگر دیوتا لوگ اپنی اچھائی اور برائی کے معیارپر جھگڑتے یا آویزش کرتے ہیں تو ایک دیوتا کی اتباع کرنا اور دوسرے کی اتباع نہ کرنا یہ جوکھم والی بات ہے۔ اپنے آپکو خطرے میں ڈال کر سزاوار ہونے کی بات ہے۔ اصول اخلاق ہمیشہ اعتباری ہوگا۔ ایک دیوتا کے لئے اچھا ہونا کوئی ضروری نہیں کہ ایک منزل مقصود اور عالمگیر احساس میں "اچھا" ہو۔ مثال کے طور پر ایک بچہ کو "کالی دیوی" کے لئے قربانی دینا ہندو مذہب کی ایک دھارا کے لئے مجرم قرار دیتاہو مگر دوسرے لوگوں کے لئے قابل ملامت ہے ۔ مگر یقینی طور سے بچہ کی قربانی ویسے ہی اعتراض کے قابل بلا لحاظ ہے۔ تمام وجوہات سے کچھ چیزیں اظہار بلا لحاظ سہی یا غلط ہوتے ہیں۔

اصنام پرستی وحدت وجود کے عقیدہ سے کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ اس لئے کہ یہ آخر کار دعوی کرتا ہے کہ صرف ایک ہی چیز ہے۔ ایک الہی سچائی ہے — اس طرح کسی آخری "اچھے" اور "برے" کے فرق کو نا منظور کرتا ہے۔ اور "اچھے" اور "برے" کو سچ مچ فرق کیا جاتا ہے تو پھر ایک واحد نا قابل تقسیم حقیقت نہیں ہوگا۔ وحدت وجود کا عقیدہ آخر کار "اچھے" اور "برے" کے لئے دینی افراق اجازت نہیں دیتے ہیں۔اچھا اور برا اسی نا قابل تقسیم حقیقت میں تحلیل نہیں ہو جاتا۔ اور یہاں تک کہ اگر اس طرح کے افراق جیسے کہ "اچھا" اور "برا" بنائے جا سکتے ہیں۔ کرما کا سیاق عبارت کے اس فرق کو باطل کرتا ہے۔ کرما قدرتی اصول قانون کی طرح ایک لا شخصی اصول ہے۔ جیسا کہ زمینی کشش یا بے حرکتی۔ جب کرما کچھ روحوں کو بلاتاہے تو یہ کوئی الہی اصول نہیں ہے جو انصاف کو لاتا ہے، بلکہ یہ قدرت کی لا شخصی جوابی عمل ہے مگر اخلاقیات کی ضرورت ہے شخصیت۔ وہ شخصیت جو کرما نہیں دے سکتے مثال کے طور پر ہم ایک پٹائی میں استعمال ہونے والی چھڑی کومجرم نہیں مانتے کیونکہ چھڑی ایک اخلاقی گنجائش یا ماں باپ کے فر‌ض کو نبھانے کے لئے استعمال کی گئی ایک شئے ہے۔ اس کے بجائے ہم اس شخص کو مجرم ٹھہراتے ہیں جس نے بیہودہ طور سے چھڑی کااستعمال کیا۔ اس شخص کی اخلاقی گنجائش اور اخلاقی فرض ہے کہ وہ اسے انجام دے۔ اسی طرح کرما صرف ایک لا شخصی قدرت ہے۔ تو یہ بے اخلاقی (بنااخلاق کے) اور اصول اخلاق کے لئے موزوں بنیاد نہیں ہے۔

مسیحی وحدانیت، کسی طرح، اس کے اصول اخلاق خداکی شخصیت میں جڑ پکڑی ہوئی ہے۔ خدا کی سیرت اچھی ہے، اور اس لئے جو باتیں اس کے مطابق یا موافق ہیں اور جو اس کی پاک مرضی ہے وہ بھی اچھے ہیں۔ مگر جو باتیں اس سے اور اس کی مرضی سےالگ کرتی ہیں وہ برائی ہے۔ اس لئے ایک واحد خدا اصول اخلاق کے لئے پوری بنیاد بطور کام کرتا ہے، اخلاقی اصول کے لئے ایک شخصی بنیاد کی اجازت دیتا ہے اور "اچھے" اور "برے" کے بارے میں مقصد کے علم کو انصاف عطا کرتا ہے۔

پانچواں سوال باقی رہ جاتا ہے کہ آپ اپنے گناہ کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں؟ اس مسئلہ کے لئے میسحیت میں ایک قاقتور اور مضبوط جواب پیش ہے، ہندو مذہب بدھ مذہب کی طرح گناہ کے لئے کم از کم دو خیالات ہیں۔ گناہ کو کبھی کبھی جہالت سمجھ لیا جاتاہے، ہندو مذہب اس بات کو سمجھاتاہے کہ اگر کوئی شخص حقیقت کو جانتے ہوئے بھی نہ دیکھے اور نہ سمجھے تو یہ اس کے لئے گناہ ہے۔ مگر گناہ نام کی اخلاقی کمی کا ایک خیال یونہی بنا رہتا ہے۔ جان بوجھ کر آزادی سے برائی کرنا، ایک روحانی یا دنیاوی قانون کو توڑنا یا غلط چیزوں کی خواہش رکھنا یہ سب گناہ ےہ۔ مگر گناہ کی اخلاقی تعریف ایک طرح سے حسن اخلاق کی غلطی کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے لئے حقیقی کفارہ کی ضرورت پڑتی ہے جہاں سےکفارہ کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ کیا کرما کے اصولوں کی پابندی سے کفارہ کی حما یت ہو سکتی ہے؟ کرما ایک لا شخصی اور اخلاق سے بے تعلق ہے۔ اچھائی اور برائی کا توازن قائم رکھنے کے لئے کوئی شخص بھلے کام کرتاہے۔ مگر کوئی شخص کبھی بھی گناہ کو اپنے سے بالکل سے ترک نہیں کر سکتا۔ کرمایہاں تک کہ ایک سیاق عبارت نہیں دیتا کہ اخلاقی کمی بھی اخلاقی ہے۔ جب ہم شخصی طور سے گناہ کرتے ہیں تو ہم کس کو ٹھوکر کھلاتے ہیں؟ مثال کے طور پر کرما ایک طرح سے یا دوسرے کی پرواہ نہیں کرتا ہے کیونکہ کرما ایک شخص نہیں ہے۔ مثال کے طور پر مان لیجئے کہ ایک شخص دوسرے شخص کے بیٹے کو قتل کرتا ہے تو تو مدعی کو پیسے، جائیداد یا اپنے بیٹے کی پیش کش کر سکتا ہے۔ مدعی اس شخص کو قتل کے لئے حوالہ نہیں کرسکتا۔ معاوضے کی کوئی بھی رقم اس گناہ کی قیمت نہیں ادا کر سکتی۔ اس حالت میں کیا شو یا وشنو سے دعا کرنے سےاس کا کفارہ ہو سکتا ہے؟یہاں تک کہ اگر یہ بھگوان ان لوگ سے اسے معافی بخش بھی دیں تو بھی اس کے گناہ کی قیمت ایک قرضہ بطور ثابت ہوگا۔ وہ گناہ کو معاف کر یں گے اگر وہ معافی کے لائق ہو۔ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ اور پھر روحانی مسرت کے پھاٹک پر لوگوں کا جذبہ عارضی طور سے بہہ جاتا ہے۔

کسی طرح میسحیت کسی شخص کے خلاف گناہ کو آخر کار شخصی خدا کے خلاف خطاوار ثابت کرتا ہے۔ جب سے کہ آدم اور اس کے ذریعہ سے بنی انسان ایک گنہ گار مخلوق بطور ثابت ہوئے گناہ ایک حقیقت بن گیا۔ اس روحانی مسرت اور انسان کے بیچ ایک لا محدود دراڑ پڑ گیا۔ گناہ انصاف کا تقاضا کرتا ہے۔ اس کے باوجود بھی ہمواری یا ان گنت بھلائیوں کے ساتھ "ایک توازن" کو قائم نہیں کرسکتا۔ اگر کسی شخص کے اندر ایک برائی کے مقابلہ میں دس گنا بھلائی بھی موجود ہو تو بھی اس کا ضمیر اس کو ایک برا شخص بطور ہی محسوب کرے گا۔ انسان کے ان برے کاموںکا صلہ کیا رہ جاتا ہے؟ یہ کوئی بڑی بات نہیں سمجھ کر پہلے ہی دور میں کیا انہیں معاف کر دیا جاتا ہے؟ کیا انہیں روحانی مسرت میں شامل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے؟ چلو جو کچھ ہوا سو ہوا۔ کوئی پریشانی نہیں ایسا سمجھ کر کیا اسے چھوڑ دینا چاہئے؟ کیا یہ فریب نظر نہیں ہے؟ ان میں سے کوئی بھی انتخاب جائز اور مناسب نہیں ہے۔ فریب نظر سے متعلق ہمارے لئے گناہ بالکل حقیقت ہے اور فریب نظر بطور سمجھنے سمجھانے سے باہرہے۔ گنہ گاری سے متعلق بات کرینگے تو ایسا ہے کہ جب خود سے ایماندار ہیں تو ہم سب جانتے ہیں کہ ہم نے گناہ کیا ہے۔ معافی سے متعلق بات کرینگے تو گناہ کی قیمت ادا کئے بغیر ایسے ہی گناہ معاف کردینے کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کا کوئی نتیجہ یا انجام نہیں ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے۔ روحانی مسرت کی بابت پوچھا جائے تو اگر گناہ کو اپنے اندر چھپا دیاجائے تو روحانی مسرت اتنی اچھی نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ کرما کے پرت پر ہم کو ہمارے دلوں کے اوپر گناہ کے ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور چپکے سے شک دلاتے ہیں کہ ہم نے سہی اور غلط کے شخصی معیار کے عہد کو آخر کار توڑا ہے۔ سوا اس روحانی مسرت کو یا تو ہم برداشت نہیں کرسکتے یا اسے کامل کرنے کے لئے ہم کو کشمکش کرنا چاہئے تاکہ ہمارے اندر آسکے۔

مسیحیت کے ساتھ کسی طرح تمام گناہوں کی سزا مقرر ہے۔ حالانکہ اس سزا کو مسیح کی شخص قربانی کے تحت پہلے سے ہی صلیب پر ادا کردیاگیا ہے۔ خدا انسان بنا اور وہ کامل زندگی جیا۔ وہ ایسی موت مرا جس کے ہم حقدار تھے۔ وہ ہماری جگہ پر مصلوب ہؤا۔وہ ہمارے بدلے میں مارا گیا۔ مطلب یہ کہ ہمارے گناہوں کا کفارہ بنا۔ وہ اپنی موت کے تیسرے دن مردوں میں سے زندہ ہؤا۔ یہ بات ثابت کرنے کے لئے کہ اس نے موت پر فتح حاصل کرلی ہے۔ اس کے علاوہ وہ ہم کو ہمیشہ کی زندگی کے لئے موت سے جلانے کا وعدہ کرتا ہے۔ بشرطیکہ ہم اس کو اپنا شخصی خداوند اور نجات دہندہ تسلیم کرکے اس پر ایمان لے آئیں۔ (رومیوں 3:23؛ 6:23؛8:12؛10- 10:9؛ افسیوں9- 2:8؛ فلپیوں 3:21)۔

آخر میں مسیحیت میں ہم جان سکتے ہیں کہ ہم بچائے گئےہیں۔ ہم کو کچھ اتھلے پانی کے تجربہ پر منحصر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ہی ہم کو اپنے خود کے بھلے کاموں پر منحصر ہونے کی ضرورت ہے۔ یا پر شوق دھیان منن پر منحصر ہونے کی ضرورت ہے۔ ہم جھوٹے دیوتا پر ایمان نہیں رکھتے "جن کے موجود ہونےپر " اعتقاد کرنے کی کوشش کرتے ہوں۔ ہمارے پاس زندہ اور سچا خدا ہے ایک تاریخی اعتبار سے لنگر انداز ایمان، ایک قائم شدہ اور جانچ کے لائق خدا کا مکاشفہ (کلام) ایک علم دین سے متعلق مطمئن کرنے والے کی بنا پر اخلاقی زندگی کے لئے آسمان میں خدا کے ساتھ رہنے کے لئے ایک گھر کی ضمانت کے ساتھ ہے۔

سو یہ آپ کے لئے کیا معنی رکھتا ہے؟ یسوع ایک بنیادی حقیقت ہے! ہمارے گناہوں کے لئے یسوع ایک کامل قربانی تھا۔ خدا ہمارے لئےہم سب کے لئے معافی اور نجات کی پیش کش کرتا ہے اور ہم سیدھے سادے طریقہ سے اس کے انعام کو حاصل کریں گے جو ہمارے لئے رکھا گیا ہے۔ (یوحنا 1:12)۔

نجات دہندہ بطوریسوع پر ایمان لاتے ہوئے کہ اس نے ہمارے لئے اپنی جان دی۔ اگر آپ یسوع پر بھروسہ کرکے ایمان لاتے ہیں کہ وہ آپ کے نجات دہندہ ہے تو آپ کو آسمان میں ابدی مسرت حاصل ہوگی اور کامل یقین حاصل ہوگا۔ خدا آپکے گناہوں کی معافی عطا کرے گا۔ آپ کی جان بخشی کرکے اس کو صاف کرے گا۔ آپ کے روح کو پھر سے نیا کردے گا۔ اور آپ کو اس دنیا میں کثرت کی زندگی اور آنے والی دنیا میں ابدی مسرت عطا کرے گا۔ ہم کس طرح اس بیش قیمت انعام کو ٹھکرا سکتے یا اس کا انکار کر سکتے ہیں؟ ہم کس طرح خدا کو اپنا پیٹھ دکھا سکتے ہیں جس نے ہم سے اتنی محبت کی کہ ہمارے لئے خود کی قربانی دے دی؟

جو آپ اعتقاد رکھتے ہیں اگر آپ کو اس پر یقین نہیں ہے تو ہم آپ کو یہ کہنے کے لئے دعوت دیتے ہیں کہ ہمارے ساتھ اس دعا کو دھرائیں جو ہم خدا سے کرنے جار ہے ہیں۔ "خدا یا " مجھے یہ جاننے میں میری مدد کر کہ کیا سچ ہے۔ مجھے یہ شناخت کرنے میں میری مدد کر کہ کیا غلط ہے۔ میری مدد کر کہ میں جانوں کہ نجات کے لئے کونسا راستہ صحیح ہے"۔ خداہمیشہ اس طرح کی دعا کی عزت کرے گا۔

اگر آپ یسوع کو اپنا نجات دہندہ قبول کرناچاہتے ہیں تو سادگی سےخدا سے بات کریں۔ زبانی یا خاموشی میں ۔ اور اس سے کہیں کہ آپ یسوع کے وسیلہ سے نجات کے انعام کو حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اگر آپ اس سے دعا کرنا چآہتے ہیں تو یہاں پر دعاکی ایک مثال پیش کی گئی ہے۔ "اے خدا ! مجھ سے تیری محبت کے لئے تیرا شکریہ۔ تیرا شکریہ کہ تو نے میرے لئے خود کو قربان کر دیا۔ تیرا شکریہ میری معافی اور نجات کے انتظام کے لئے۔ میں یسوع کے ذریعہ نجات کے انعام کو قبول کرتا ہوں۔ میں یسوع کو اپنا نجات دہندہ قبول کرتاہوں۔ آمین!"۔

جو بھی کچھ آپ نے یہاں پڑھا ہے اس کی بنیاد پر کیا آپ نے مسیح کے لئے فیصلہ لیا ہے؟ اگر آپکا جواب ہاں میں ہے تو برائے مہربانی اس جگہ پر کلک کریں جہاں لکھا ہے کہ آج میں نے مسیح کو قبول کر لیا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



میں ایک ہندو ہوں۔ مجھےکیوں مسیحی بننے کے لئے سوچنا چاہئے؟