settings icon
share icon
سوال

ہیبرو رُوٹس تحریک کیا ہے؟

جواب


ہیبرو روٹس تحریک کا تصور اس عقیدے پر مبنی ہے کہ کلیسیا بائبل کی حقیقی تعلیمات اور عبرانی تصورات سے بہت دور نکل گئی ہے۔ تحریک اس بات پر قائم ہے کہ مسیحیت میں یونانی ثقافت اور عقائد اور رومن فلسفے کو شامل کر دیا گیا ہے اور اصل بائبلی مسیحیت کو جس کی آج کل گرجا گھروں میں تعلیم دی جاتی ہے نئے عہد نامے کی اناجیل کی بُت پرستانہ نقالی کے ساتھ بگاڑ دیا گیا ہے۔

ہیبرو روٹس کے عقیدے کے ماننے والے اس بات پر قائم ہیں کہ مسیح کی صلیبی موت نے موسیٰ کے عہد کو ختم نہیں کیابلکہ اِس نے اُس عہد کی تجدید کی، اُس کے پیغام کو پھیلایا اور اُسے مسیح کے سچے پیروکاروں کے دلوں پر لکھا تھا ۔ وہ سکھاتے ہیں کہ نئے عہد نامے کی تفہیم صرف عبرانی نقطہ نظر سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور یہ کہ پولس رسول کی تعلیمات کو آج کل کے مسیحی پاسبانوں کی طرف سے نہ تو واضح طور پر سمجھا جاتا ہے اور نہ ہی درست طور پر سکھایا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ اصل عبرانی زبان میں نئے عہد نامے کے وجود کی تصدیق کرتے ہیں اور کچھ معاملات میں یونانی زبان میں لکھے گئے نئے عہد نامے کے موجودہ متن کی بے قدری کرتے ہیں۔ یہ ہماری بائبل کے متن کی سقاحت پر ایک پوشیدہ حملہ بن جاتا ہے۔ اگر یونانی متن ناقابل اعتبار اور خراب ہو گیا ہے جیسا کہ کچھ لوگوں نے الزام لگایا ہےتو کلیسیا کے پاس اب سچائی کا کوئی معیار نہیں ہے۔

اگرچہ ہیبرو روٹس کے الگ الگ تعلیمات کے حامل مختلف اور متنوع گروہ ہیں لیکن وہ سبھی مسیحیت کی "حقیقی" یہودی بنیادوں کو تقویت دینے کے ایک مشترکہ اصرار پر قائم ہیں۔ اُن کا مفروضہ یہ ہے کہ کلیسیا اپنی یہودی جڑوں کو کھو چکی اور اس بات سے بے خبر ہے کہ خداوند یسوع اور اُس کے شاگرد توریت کی فرمانبرداری کرنے والے یہودی تھے۔ اِس میں شامل زیادہ تر لوگ ہر ایماندار کی توریت کے مطابق زندگی گزارنے کی ضرورت کی وکالت کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ موسوی عہد کے احکام کو موجود ہ ایمانداروں کے طرز زندگی میں اُس طرح سے مرکزی توجہ کا حامل ہونا چاہیے جیسے وہ پرانے عہد نامے کے بنی اسرائیلیوں کی زندگی میں ہوتے تھے ۔ توریت کی پیروی کرنے میں ہفتے کے ساتویں روز (ہفتے کے دن ) سبت کے دن کی پابندی کرنا، یہودی عیدوں اور تہواروں کو منانا، غذا سے متعلقہ قوانین کی پیروی کرنا، مسیحیت کی بُت پرستانہ عیدوں (کرسمس، ایسٹر وغیرہ) سے گریز کرنا اور عبرانی ذہنیت سے کلامِ مقدس کو سمجھ کر سیکھنا شامل ہے۔ وہ سکھاتے ہیں کہ غیر قوموں سے آنے والے مسیحیوں کو اسرائیل میں شامل کر دیا گیا ہے اور یہی ایک وجہ ہے کہ مسیحا یسوع میں نئے سرے سے پیدا ہونے والے ہر ایماندار کو اِن تقریبات میں شرکت کرنی چاہیے ۔ پھر بیان کیا جاتا ہے کہ ایسا کرنا ضابطہ پرستی کی پابندی کے تقاضے کے باعث نہیں بلکہ محبت اور فرمانبرداری کے جذبے کی وجہ سے ہے۔ بہرحال وہ سکھاتے ہیں کہ توریت کی پیروی میں گزاری جانے والی زندگی اُس زندگی کا لازمی حصہ ہونا چاہیے جو خدا کی خوشنوی کے لیے گزاری جاتی ہے ۔

ہیبرو روٹس کے مختلف گروہ اکثر غیر یہودی ربیوں سمیت اُن لوگوں کی بڑی تعداد پر مشتمل ہوتے ہیں جو غیر قوموں سے آئے ہوتے ہیں ۔ وہ عام طور پر " Messianic Christians/ میسیانک کرسچنز" کے طور پر پہچانے جانے کو ترجیح دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ خدا نے انہیں یہودی ہونے کے لیے "بلایا" ہے اور اُنہوں نے اس عقائدی نقطہ نظر کو قبول کیا ہے کہ توریت (پرانے عہد نامے کی شریعت ) کا غیر قوموں اور یہودیوں پر یکساں طور پر اطلاق ہوتا ہے۔ وہ اکثر روایتی یہودی لباس پہنتے ہیں، داؤدی رقص کی مشق کرتے اور اپنی تحریر اور گفتگو میں عبرانی ناموں اور جملوں کو شامل کرتے ہیں۔ زیادہ ترلوگ یہ دعویٰ کرتے ہوئے کہ یہ وہ "حقیقی" نام ہیں جو خدا اپنے لیے چاہتا ہے "یشوع" یا "یاہوئے" کی حمایت میں "یسوع" نام کے استعمال کو مسترد کر دیتے ہیں ۔ زیادہ تر معاملات میں وہ توریت کو کلیسیا کے لیے بنیادی تعلیم کے طور پر سراہتے ہیں اور یہ عمل نئے عہد نامے کو ثانوی درجہ دینے اورصرف پرانے عہد نامے کی روشنی میں اِسے قابلِ فہم ٹھہرانے کے باعث اس کی اہمیت کو کم کرتا ہے ۔ یہ خیال کہ نیا عہد نامہ ناقص اور صرف پرانے عہد نامے کی روشنی میں بامقصد ہے ہیبرو روٹس کے عقائد کے بہت سے حامیوں کی طرف سے تثلیث کے عقیدے پر حملے کا باعث بنا ہے۔

ہیبرو روٹس تحریک کے دعوؤں کے برعکس نئے عہد نامے میں پولس رسول کی تعلیمات بالکل واضح اور خود وضاحتی ہیں۔ کلسیوں 2باب 16-17 آیات فرماتی ہیں " پس کھانے پینے یا عِید یا نئے چاند یا سَبت کی بابت کوئی تُم پر اِلزام نہ لگائے۔ کیونکہ یہ آنے والی چیزوں کا سایہ ہیں مگر اصل چیزیں مسیح کی ہیں"۔ رومیوں 14باب 5آیت بیان کرتی ہے کہ "کوئی تو ایک دِن کو دُوسرے سے افضل جانتا ہے اور کوئی سب دِنوں کو برابر جانتا ہے۔ ہر ایک اپنے دِل میں پُورا اِعتقاد رکھّے"۔ کلام مقدس واضح طور پر اشارہ دیتا ہے کہ یہ مسائل ذاتی انتخاب کا معاملہ ہیں۔ یہ آیات اور دیگر بہت سی آیات واضح ثبوت دیتی ہیں کہ موسوی عہد کے قوانین اور احکامات ختم ہو چکے ہیں۔ نیا عہد نامہ جو کچھ سکھاتا ہے اس کے باوجود مسلسل یہ تعلیم دینا کہ پرانا عہد نامہ ابھی تک نافذ العمل ہے یا ہیبرو روٹس کے عقائد سے اتفاق کرنے کے لیے نئے عہد نامے کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا، غلط تعلیم ہے۔

ہبرو روٹس کی تعلیمات کے ایسے پہلو ہیں جو یقیناً فائدہ مند ہو سکتے ہیں۔ اُس یہودی ثقافت اور نقطہ نظر کو دریافت کرنے کی کوشش کرنا جس کے اندر زیادہ تر بائبل لکھی گئی تھی صحائف کے بارے میں ہماری سمجھ کو وسعت اور ترقی دیتا اور بہت سے حوالہ جات، تمثیلوں اور محاوروں کے بارے میں فہم اوربصیرت میں اضافہ کرتاہے۔ غیر قوموں اور یہودیوں کے باہمی طور پر عیدوں کو منانے اور مسیحا نہ طرز کی عبادت سے لطف اندوز ہونے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اِن تقریبات میں حصہ لینا اور اُس انداز کو سیکھنا جس میں یہودیوں نے ہمارے خداوند کی تعلیمات کو سمجھا تھا ایک ایسا آلہ ثابت ہو سکتا ہے جو ہمیں انجیل کی خوشخبری کے ساتھ غیر ایماندار یہودی تک پہنچانے میں زیادہ پُر اثر ہو سکتا ہے۔ یہ غیر قوموں کے لئے اچھا ہے کہ وہ مسیحا کے بدن میں اسرائیل کے ساتھ ہماری رفاقت کے مشابہ ہو سکیں ۔ تاہم اسرائیل کے مشابہ ہونا "اسرائیل کے طور پر" شناخت اختیار کرنے سے مختلف ہے۔

غیر قوموں کے ایمانداروں کو موسوی عہد کی یہودیت میں شامل نہیں کیا جاتا بلکہ انہیں ابرہام کی اُس نسل اور ایمان میں شامل کیا جاتا ہے جو شریعت اور یہودی رسم و رواج سے پہلے موجود تھے ۔ وہ مقدسین کے ہم وطن ہیں (افسیوں 2باب 19آیت ) لیکن وہ یہودی نہیں ہیں۔ پولس اس بات کی واضح طور پر وضاحت کرتا ہے جب وہ ختنہ کروانے والوں (یہودیوں) کو "نا مختون نہ " ہونے اور نا مختونوں (غیر قوموں) کو "مختون نہ " بننے لیے کہتا ہے (1 کرنتھیوں 7باب 18آیت )۔ اِن میں سے کسی بھی گروہ کو یہ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ اُنہیں ایسا بننا چاہیے جو وہ نہیں ہیں۔ اس کی بجائےخدا نے یہودیوں اور غیر قوموں کو مسیح یسوع میں "ایک نیا انسان" بنایا ہے (افسیوں 2باب 15آیت )۔ یہ "نیا انسان " کلیسیا یعنی مسیح کے بدن کی طرف نشاندہی کررہا ہے جو نہ یہودیوں سے اور نہ ہی غیر قوموں سے بنا ہے (گلتیوں 3باب 27-29آیات )۔ یہودیوں اور غیر قوم ایمانداروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی شناخت پر قائم رہیں۔ اِ س طرح مسیح کے بدن کے اتحاد کی ایک واضح تصویر دیکھی جا سکتی ہے کیونکہ یہودی اور غیر قومیں ایک خداوند ، ایک ایمان، ایک بپتسمہ کے ذریعے متحد ہیں۔ اگر غیر قوموں کو اسرائیل میں شامل کرتے ہوئے یہودی بنا دیا جاتا ہے تو یہودیوں اور غیر قوموں دونوں کے ایک نئے انسان کے طور پر متحد ہونے کا مقصد اور تصویر اپنی اہمیت کھو دیتے ہے۔ خُدا نے کبھی بھی غیر قوموں کو اسرائیل کے ساتھ ایک کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا بلکہ وہ مسیح میں اُنہیں ایک کرنا چاہتا تھا ۔

اس تحریک کا اثر ہمارے گرجا گھروں اور سمینریوں میں سیرایت کرتا جا رہا ہے۔ یہ اپنے اس مضمر کی وجہ سے خطرناک ہے کہ پرانے عہد کی شریعت کی پیروی کرنا ایک "اعلیٰ راستے" پر چلنا ہے اور یہ خدا کی خوشنودی اور اُس کی برکات حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے۔ بائبل میں ہمیں کہیں کوئی ایسا حوالہ نہیں ملتا جہاں غیر قوم ایمانداروں کو کہانتی قوانین یا یہودی رسم و رواج کی پیروی کرنے کی ہدایت کی جا رہی ہے بلکہ حقیقت میں اس کے برعکس سکھایا جاتا ہے۔ رومیوں 7باب 6آیت فرماتی ہے " لیکن جس چیز کی قَید میں تھے اُس کے اِعتبار سے مَر کر اَب ہم شرِیعت سے اَیسے چھوٹ گئے کہ رُوح کے نئے طَور پر نہ کہ لَفظوں کے پُرانے طَور پر خِدمت کرتے ہیں"۔ مسیح نے موسوی شریعت کے ہر حکم کی مکمل پیروی کرتے ہوئے اِس کی تکمیل کی ہے ۔ جس طرح گھر کے لیے آخری قسط اُس معاہدے کی تکمیل کرتی اور اُس کے لیے کسی انسان کی ذمہ داری ختم کردیتی ہے اِسی طرح سے مسیح نے ہم سب کے لیے شریعت کو پورا کرتے ہوئے اس کی تکمیل کی ہے ۔

یہ خود خدا ہی ہے جس نے ایک ایسی دنیا تخلیق کی ہے جو مختلف ثقافتوں، زبانوں اور روایات کے حامل لوگوں پر مشتمل ہے ۔ جب ہم محبت میں ایک دوسرے کو قبول کرتے اور مسیح یسوع میں ایک بدن کی حیثیت سے متحد ہوتے ہیں تو خدا کا نام جلال پاتا ہے ۔ اس بات کو سمجھنا ضروری ہے کہ بحیثیت یہودی یا غیر قوم پیدا ہونے میں کوئی برتری نہیں ہے۔ ہم مسیح کے پیروکار جو کہ بہت سی مختلف ثقافتوں اور طرز زندگی کو تشکیل دیتے ہیں سب کے سب اس لیے قدر اور بڑی محبت کے لائق ہیں کیونکہ ہم خُدا کے خاندان میں شامل ہو چکے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ہیبرو رُوٹس تحریک کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries