settings icon
share icon
سوال

اگر ہمارے سارے پیارے آسمان پر نہیں ہونگے تو پھر وہ کامل کیسے ہو سکتا ہے ؟

جواب


لفظ کاملیت اپنے اندر مکمل یا کامل ہونے کا تصور رکھتا ہے جس میں کسی بھی چیز کی کمی نہ ہو۔ اگر کوئ چیز کامل ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ وہ مکمل ہے۔ پس اگر کچھ لوگ فردوس میں نہیں جاتے اور فردوس میں جانے والے لوگوں کے کچھ پیارے اگر لا پتہ ہیں تو پھر آسمان کامل کیسے ہو سکتا ہے؟کیا یہ بہتر نہ ہوتا کہ ہمارے سبھی عزیز آسمان پر جاتے؟

خُدا کامل ہے (18زبور30 آیت)۔ خُدا کی سکونت گاہ کامل ہے۔ خُدا کا انسانی نجات کے لیے منصوبہ کامل ہے۔ خُدا اپنے منصوبوں (جو کہ کامل ہیں) کے مطابق اپنی راستبازی کو اُن لوگوں کو عطا کرتا ہے جو خُداوند یسوع مسیح پر ایمان لاتے ہیں۔ جو خُداوند یسوع مسیح پر ایمان نہیں لاتے اُن کے ساتھ کیا ہوتا ہے؟وہ دراصل کاملیت کو رَد کر رہے ہیں، وہ خُدا کی سکونت گاہ اور خُدا کی اپنی ذات کو رَد کر رہے ہیں۔ جیسے کہ یوحنا 3باب18 آیت بیان کرتی ہے کہ "جو اُس پر اِیمان لاتا ہے اُس پر سزا کا حکم نہیں ہوتا ۔ جو اُس پر اِیمان نہیں لاتا اُس پر سزا کا حکم ہو چُکا ۔ اِس لئے کہ وہ خُدا کے اِکلَوتے بیٹے کے نام پر اِیمان نہیں لایا۔ "لوگوں کو ایمان لانے کے لیے مجبور کرنا، گناہ کو نظر انداز کرنا، مسیح کے وسیلے نجات کو رَد کرنا دراصل آسمان کی کاملیت کو تباہ کرنے کے مترادف ہوگا۔

جب ہم آسمان پر پہنچیں گے تو ہمارا نقطہ نظر تبدیل ہو جائے گا۔ ہمارے محدود زمینی نقطہ نظر کی جگہ ایک پاک آسمانی نقطہ نظر لے لے گا۔ ابدی حالت کی بات کرتے ہوئے مکاشفہ 21باب4 آیت بیان کرتی ہے کہ "اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسُو پونچھ دے گا ۔ اِس کے بعد نہ مَوت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا ۔ نہ آہ و نالہ نہ درد ۔ پہلی چیزیں جاتی رہیِں۔ " آسمان پر اپنے پیاروں کی یاد میں تڑپنا غالبا ً ماتم اور آہ و نالہ کے زمرے میں آئے گا۔ ایسا ممکن ہے کہ ہمیں اُنکی کوئی یاد یا اُن کے بارے میں کوئی علم ہی نہ رہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں اِس بات کا ادراک ہو جائے کہ اُن کی آسمان پر موجودگی کس طرح خُدا کے نام کے جلال کا باعث ہے۔ "اب ہم کو آئینہ میں دُھندلا سا دِکھائی دیتا ہے مگر اُس وقت رُوبرُو دیکھیں گے ۔ اِس وقت میرا عِلم ناقِص ہے مگر اُس وقت اَیسے پُورے طَور پر پہچانُوں گاجیسے مَیں پہچانا گیا ہُوں " (1 کرنتھیوں 13باب12 آیت) ۔اِسی دوران ہم ایمان سے اِس بات کو قبول کرتے ہیں کہ خُدا آسمان کے بارے میں جو کچھ کہتا ہے وہ سچ ہے اور ہم ساری ابدیت کاملیت کا تجربہ کریں گے۔

ابدیت کی مختصر سی تفصیل کے لیے دیکھئے مکاشفہ 21-22 ابواب۔ ہر ایک چیز کو نیا بنایا جاتا ہے۔ ہر ایک چیز شاندار، جلالی اور مبارک ہے۔ اِس میں ہم بھی شامل ہونگے۔ ہمارے بدن، ہماری رُوحیں اور جان مکمل طور پر مبارک ہوگی۔ وہاں پر گناہ کا کوئی عنصر نہیں ہوگا اور ہمارے خیالات خُدا کے ساتھ بالکل متفق ہونگے (1 یوحنا 3باب2 آیت)۔ خُدا کے پاس اپنے لوگوں کو تسلی دینے (یسعیاہ 40باب1 آیت)، نجات یافتہ لوگوں کو کامل بنانے (عبرانیوں 10باب14 آیت) اور ساری ابدیت اُنہیں ہر ضرورت کی چیز عطا کرنے (23 زبور 6 آیت) کا منصوبہ ہے۔

فی الحال ہماری توجہ اِس بات پر نہیں ہونی چاہیےکہ ہم اپنے پیاروں کے بغیر آسمانی زندگی سے کیسے لطف اندوز ہونگے یا اُن کے بغیر ہماری ابدی حالت کیسی ہوگی۔ اِس کے برعکس ہمیں اِس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ ہم اپنے پیاروں کو کس طرح مسیح پر ایمان لانے کی طرف لا سکتے ہیں تاکہ وہ بھی آسمان پر موجود ہوں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اگر ہمارے سارے پیارے آسمان پر نہیں ہونگے تو پھر وہ کامل کیسے ہو سکتا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries