"کیا خُدا گنہگاروں/بے ایمانوں کی دُعا سُنتا/جواب دیتا ہے؟



سوال: "کیا خُدا گنہگاروں/بے ایمانوں کی دُعا سُنتا/جواب دیتا ہے؟

جواب:
یوحنا ۳۱:۹ بیان کرتی ہے، "ہم جانتے ہیں کہ خُدا گنہگاروں کی نہیں سُنتا لیکن اگر کوئی خُدا پرست ہو اور اور اُس کی مرضی پر چلے تو وہ اُسکی سُنتا ہے"۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ "خُدا گنہگار کی کوئی دُعا سُنتا ہے تو وہ صرف نجات کے لیے دُعا ہے"نتیجہ کے طور پر کچھ لوگ ایمان رکھتے ہیں کہ خُدا غیر ایماندار کی دُعا نہیں سُنتا اور نہ کبھی سُنے گا۔ سیاق وسباق میں، اگرچہ یوحنا ۳۱:۹ بیان کر رہی ہے کہ خُدا غیر ایماندار کے ذریعے معجزات نہیں کرتا۔ ۱۔یوحنا۱۴:۵۔۱۵ میں مرقوم ہے کہ اگر ہم خُدا کی مرضی کے موافق کُچھ مانگتے ہیں تو وہ ہماری سُنتا ہے۔ شاید اِس اصول کا اطلاق غیر ایمانداروں پر ہوتا ہے۔ اگر کوئی غیر ایماندار خُدا کی مرضی کے موافق دُعا کرتا ہے، تو کوئی چیز خُدا کو جواب دینے سے روک نہیں سکتی۔

کُچھ صحائف بیان کرتے ہیں کہ خُدا نے غیر ایمانداروں کی دُعا کو سُنا اور اُن کا جواب بھی دیا۔ اِن میں سے زیادہ تر واقعات میں دُعا شامل ہے۔ ایک دو واقعات میں تو خُدا نے اُن کے دل کی پکار کا بھی جواب دیا (یہ بیان نہیں کیا گیا کہ آیا یہ فریاد خُدا سے ہی کی گئی ) کچھ واقعات میں لگتا ہے کہ دُعا توبہ کے ساتھ کی گئی۔ کچھ واقعات میں دُعا صرف زمینی ضروریات اور برکات کے لیے کی گئی، اور خُدا نے یا تو اُن پر ترس کھا کر، یا اُن کے ایمان اور حقیقی تلاش کی وجہ سے اُن کا جواب دیا۔ غیر ایمانداروں کی دُعا کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا گیا مندرجہ ذیل حوالہ جات ملاحظہ کریں۔

نینوہ کے لوگوں نے دُعا کی کہ نینوہ کو بچا لیا جائے (یوناہ۵:۳۔۱۰)۔ اگرچہ خُدا نے اُن کو دھمکی دی ،تو بھی اُن کی دُعا سُنی اور نینوہ شہر کو برباد نہ کیا۔

ہاجرہ نے اپنے بیٹے اسمعیل کی محافظت کے لیے خُدا سے درخواست کی (پیدائش۱۴:۲۱۔۱۹)۔ خُدا نے نہ صرف اُس کو محفوظ رکھا بلکہ اُس کو کثرت کی برکت بھی دی۔

۱۔سلاطین۱۷:۲۱۔۲۹ میں خاص طور پر ۲۷ سے ۲۹ تک آیات میں، اخی اب بادشاہ اپنی نسل کے بارے میں ایلیاہ نبی کی پیشن گوئی پر ماتم کرتا اور روزہ رکھتا ہے۔ خُدا نے اُس کی دُعا کا جواب دیا اور اُس کے دور میں اُن پر مصیبت نازل نہ کی۔

صور اور صیدہ کی غیر یہودی عورت نے یسوع سے دُعا کی کہ یسوع اُس کی بیٹی کو بدروح سے آزاد کرے (مرقس۲۴:۷۔۳۰)۔ یسوع نے اُس عورت کی بیٹی میں سے بدروح نکال دی۔

اعمال دسویں ۱۰ باب میں رومی صوبیدار کُرنیلیس کی راستبازی اور دُعا کے جواب میں پطرس رسول کو اُس کے پاس بھیجا گیا۔ اعمال ۲:۱۰ بیان کرتی ہے کہ کُرنیلیس "خُدا سے باقاعدگی سے دُعا " کیا کرتا تھا۔

خُدا وعدے کرتا ہے جو (نجات یافتہ اور غیر نجات یافتہ) سب پر لاگو ہوتے ہیں جیسے کہ یرمیاہ۱۳:۲۹ میں ذکر ہے، "اور تم مُجھے ڈھونڈو گے اور پاؤ گے۔ جب پورے دِل سے میرے طالب ہو گے"۔ یہی ماجرہ کُرنیلیس کے ساتھ اعمال۱:۱۰۔۶ میں ہوا۔ لیکن سیاق وسباق کے مطابق بہت سے وعدے صرف مسیحیوں کے لیے ہیں۔ کیونکہ مسیحیوں نے یسوع کو نجات دہندہ کے طور پر قبول کیا ہے ، اور انہیں اپنی ضرورت کے وقت مدد حاصل کرنے کے لیے خُدا کے تخت کے سامنے آنے کی دلیری حاصل ہے (عبرانیوں۱۴:۴۔۱۶)۔ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ جب ہم خُدا کی مرضی کے موافق کُچھ مانگتے ہیں تو وہ ہماری سُنتا ہے اور جو چیز ہم مانگتے ہیں مہیا کرتا ہے (۱۔یوحنا۱۴:۵۔۱۵)۔ دُعا کے حوالے سے اور بھی بہت سے وعدے مسیحیوں کے ساتھ ہیں (متی۲۲:۲۱؛یوحنا۱۳:۱۴؛۷:۱۵)۔ لہذہ ہاں، بہت سے واقعات میں خُدا غیر ایمانداروں کی دُعا نہیں سُنتا۔ لیکن اُس وقت اپنے فضل اور ترس میں خُدا غیر ایمانداروں کی زندگیوں میں مداخلت کر کے اُن کی دُعاؤں کا جواب دے بھی سکتا ہے۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



"کیا خُدا گنہگاروں/بے ایمانوں کی دُعا سُنتا/جواب دیتا ہے؟