کیا ہر شخص میں "خُدا کے لئے خالی پن" موجود ہے؟



سوال: کیا ہر شخص میں "خُدا کے لئے خالی پن" موجود ہے؟

جواب:
خُدا کے لئے خالی پن ایک ایسا نظریہ ہے کہ ہر شخص کی جان/روح/زندگی میں ایک خالی پن موجود ہے جو صرف خُدا ہی بھر سکتا ہے۔ خُدا کے لئے خالی پن انسانی دل کی کسی اعلیِ و ارفع ہستی کے لئے ایک فطرتی خواہش ہے۔ واعظ 3:11 "انسان کے دل میں ابدیت" کو قائم کرنے کو پیش کرتی ہے۔ خُدا نے انسان کو اپنے ازلی مقصد کے لئے خلق کیا، اور صرف خُدا ہی ابدیت کے لئے ہماری خواہش پوری کر سکتا ہے۔ تمام مذاہب کی بنیاد اِس فطرتی خواہش کو خُدا کے ساتھ "جوڑنے" پر ہے۔یہ خواہش صرف خُدا ہی پوری کر سکتا ہے، اور اِس لئے اِس خواہش کی "خُدا کے لئے خالی پن" کے ساتھ تشبیہ دی جا سکتی ہے۔

مسلہ یہ ہے کہ انسان اِس خالی پن کو نظر انداز کرتا ہے یا خُدا کے علاوہ اور چیزوں کے ساتھ اِس کو پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ یرمیاہ 17:9 ہمارے دلوں کی حالت کو بیان کرتی ہے، "دل سب چیزوں سے زیادہ حیلہ باز اور لاعلاج ہے۔ اُس کو کون دریافت کر سکتا ہے؟" سلیمان بھی ایسے خیال کو پیش کرتا ہے، "ہاں بنی آدم کا دل بھی شرارت سے بھرا ہے اور جب تک وہ جیتے ہیں حماقت اُن کے دل میں رہتی ہے۔۔۔" (واعظ 9:3)۔ نیا عہد نامہ بھی اِس خیال کے ساتھ متفق ہے، "اِس لئے کہ جسمانی نیّت خُدا کی دشمنی ہے کیونکہ نہ تو خُدا کی شریعت کے تابع ہے نہ ہو سکتی ہے" (رومیوں 8:7)۔ رومیوں 1:18-22 بیان کرتی ہے کہ جو کچھ خُدا کی بابت معلوم ہو سکتا ہے انسان اُسے نظر انداز کرتا ہے، اِس میں ممکنہ طور پر "خُدا کے لئے خالی پن" بھی شامل ہے اور اِس میں خُدا کے علاوہ کسی چیز یا سب چیزوں کی پرستش بھی شامل ہے۔

افسوس سے، بہت سے لوگ خُدا کے سوا دوسری چیزوں، کاروبار، خاندان، کھیل کود وغیرہ کی خواہشات کی تکمیل کے لئے زندگی گزارتے ہیں۔ لیکن اِن چیزوں کا پیچھا کرتے ہوئے جو ابدی نہیں ہیں وہ خالی رہ جاتے ہیں اور حیران ہوتے رہتے ہیں کہ اُن کی زندگی کبھی تسلی بخش کیوں نہیں ہوئی۔ شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ بہت سے لوگ خُدا کے علاوہ اور چیزوں کا پیچھا کرتے ہوئے کچھ وقت کے لئے تھوڑی خوشی حاصل کر لیتے ہیں۔ لیکن جب ہم سیلمان کو سمجھتے ہیں جس کے پاس وہ سب چیزیں دولت، کامیابی، عزت، اور اختیار تھا جن کے لئے انسان اپنی ساری زندگی تلاش کرتا رہتا ہے، ہم جانتےہیں کہ اِن میں سے کوئی چیز بھی ہمیشہ کے لئے خواہش پوری نہیں کر سکتی۔ اُس نے اِن سب چیزوں کو "بطلان" قرار دیا، جس کا مطلب ہے کہ وہ اِن چیزوں کی تلاش بے سُود کرتا رہتا کیونکہ یہ چیزیں تسلی نہیں دیتی۔ آخر پر اُس نے کہا، "اب سب کچھ سُنایا گیا۔ حاصل کلام یہ ہے ۔ خُدا سے ڈر اور اُس کے حکموں کو مان کہ انسان کا فرضِ کُلّی یہی ہے" (واعظ 12:13)۔

جیسے ایک معکب کھونٹی (میخ) ایک گول سوراخ کو بھی بھر نہیں سکتی، ویسے ہی ہم سب کے اندر کا خالی پن خُدا کے علاوہ کسی اور چیز سے نہیں بھر سکتا۔ یسوع مسیح پر ایمان لا کر صرف خُدا کے ساتھ ذاتی تعلق کے وسیلہ سے ہی "ہمارے اندر کا خالی پن" بھر سکتا ہے اور ہماری ہمیشہ کے لئے خواہش پوری ہو سکتی ہے۔

English



اردو ہوم پیج میں واپسی



کیا ہر شخص میں "خُدا کے لئے خالی پن" موجود ہے؟