settings icon
share icon
سوال

مَیں کیسے جان سکتا ہوں کہ خدا کے کون کون سے وعدے میرے لیے ہیں؟

جواب


بائبل میں حقیقی طور پر خدا کے سینکڑوں وعدےموجود ہیں۔ ہم کیسے جان سکتے ہیں کہ کن وعدوں کا اطلا ق ہم پر ہوتا ہے یا ہم کن وعدوں کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ اس سوال کو ایک اور انداز میں بیان کیا جا سکتا ہے کہ کوئی شخص عام وعدوں اور خاص وعدوں میں کیسے فرق بتا سکتا ہے؟ ایک عام وعدہ وہ ہے جو رُوح القدس کی طرف سے ہر دور کے ہر ایماندار سے کیا گیا ہے ۔ جب مصنف نے اُس وعدے کو قلمبند کیا تو اس نے دَوریا وصول کنندہ کے حوالے سے کوئی پابندی /حد بندی مقرر نہیں کی تھی۔

1یوحنا 1باب 9آیت عام وعدے کی ایک مثال ہے"اگر اپنے گُناہوں کا اِقرار کریں تو وہ ہمارے گُناہوں کے مُعاف کرنے اور ہمیں ساری ناراستی سے پاک کرنے میں سچّا اور عادِل ہے۔" یہ وعدہ خدا کی معاف کرنے والی فطرت پر مبنی ہے اور تمام ایمانداروں کے لیے ہر جگہ میسر ہے۔ عام وعدے کی ایک اور مثال فلپیوں 4باب 7آیت ہے"خُدا کا اِطمِینان جو سمجھ سے بِالکُل باہر ہے تمہارے دِلوں اور خیالوں کو مسیح یِسُوع میں محفُوظ رکھّے گا"۔ یہ وعدہ اُن تمام ایمانداروں سے کیا گیا ہے جو فکرمندی کو رد کرتے ہوئے اپنی درخواستیں خدا کے حضور لاتے ہیں (8آیت)۔ عام وعدوں کی دیگر مثالوں میں 1زبور 3آیت؛ 27زبور 10آیت؛ 31زبور 24آیت؛ یوحنا 3باب 13-14آیات (لفظ " جو کوئی " مدِ نظررکھیں )؛ اور مکاشفہ 3باب 20آیت شامل ہیں ۔

ایک خاص وعدہ وہ وعدہ ہے جو مخصوص حالات میں مخصوص افراد سے کیا جاتا ہے۔ وعدے کا سیاق و سباق عام طور پر واضح کر دے گا کہ وصول کنندہ کون ہے۔ مثال کے طور پر1 سلاطین 9باب 5آیت کا وعدہ نہایت خاص ہے: "مَیں تیری سلطنت کا تخت اِسرائیل کے اُوپر ہمیشہ قائِم رکُھوں گا ۔" اِس حوالے سے پہلی اور بعد کی آیات یہ واضح کرتی ہیں کہ خدا صرف سلیمان بادشاہ سے بات کر رہا ہے۔

لوقا 2باب 35آیت میں ایک اور خاص وعدہ ہے: " خُود تیری جان بھی تلوار سے چھد جائے گی۔" یہ پیشین گوئی( وعدہ) مریم کے حوالے سے تھی اور اُس کی زندگی میں پوری ہوئی تھی۔گوکہ کوئی خاص وعدہ عموماً تمام ایماندار وں سے نہیں کیا جاتا ہے لیکن اس کے باجوود رُوح القدس کسی ایماندار کی رہنمائی یا حوصلہ افزائی کے لیے کسی مخصوص وعدے کا استعمال کر سکتا ہے۔ مثال کے طور پر یسعیاہ 54باب 10آیت کا وعدہ بنی اسرائیل کو مدِ نظر رکھتے ہوئے قلمبند کیا گیا تھا لیکن رُوح القدس بہت سے مسیحیوں کو تسلی دینے کے لیے آج بھی اِن الفاظ کا استعمال کرتا ہے : "میری شفقت کبھی تجھ پر سے جاتی نہ رہے گی اور میرا صُلح کا عہد نہ ٹلے گا۔"

جب پولس رسول کی غیر قوموں تک انجیل کا پیغام لے جانے کے لیے رہنمائی کی گئی تو اُ س نے یسعیاہ کے وعدے کا دعویٰ کیا: "مَیں نے تجھ کو غَیر قَوموں کے لئے نُور مُقرّر کِیا تاکہ تُو زمین کی اِنتِہا تک نجات کا باعث ہو۔" یسعیاہ کا وعدہ اصل میں موعودہ مسیحا کے حوالہ سے تھا لیکن پولس نے اس میں خُداوند کی طرف سے اپنی زندگی کے لیے رہنمائی پائی ۔ کلام ِ مقدس میں مندرج خدا کے وعدوں میں سے کسی ایک کا مطالبہ کرتے وقت ہمیں درج ذیل اصولوں کو ذہن میں رکھنا چاہیے :

1. خدا کے وعدے اکثر مشروط ہوتے ہیں۔ سیاق و سباق میں لفظ "اگر" کی تلاش کریں۔

2. خُدا اس حوالہ سے ہماری مدد کے لیے وعدے کرتا ہے کہ ہم اُس کی مرضی کے تابع ہوں اور اُس پر بھروسہ کریں ۔ کوئی بھی وعدہ خدا کو ہماری مرضی کا پابند نہیں بناتا۔

3. ہم یہ اندازہ نہیں لگا سکتے کہ ہماری زندگیوں میں خدا کے وعدے کب، کہاں یا کیسے پورے ہوں گے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مَیں کیسے جان سکتا ہوں کہ خدا کے کون کون سے وعدے میرے لیے ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries