settings icon
share icon
سوال

خُدا کے حاضروناظر ہونے سے کیا مُراد ہے؟

جواب


حاظر و ناظر کی صفت کو بیان کرنے کے لیے انگریزی اصطلاح Omnipresent استعمال کی جاتی ہے اوراِس لفظ میں استعمال ہونے والا سابقہ Omniلاطینی زبان سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہیں "تمام"۔ پس اگر کہا جائے کہ خُدا Omnipresent یعنی حاضرو ناظر ہے تو اِس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ خُدا ہر ایک جگہ پر موجود ہے۔ بہت سارے مذاہب میں خُدا کو حاضرو ناظر تصور کیا جاتا ہے ، جبکہ یہودیت اور مسیحیت کے اندر اِس تصور کو مزید دو تصورات یعنی خُدا کے اعلیٰ و ارفع ہونے اور اُسکے ہر ایک چیز کا جوہر ہونے میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اگرچہ خُدا کی ذات کائنات کی ہر ایک چیز کا حصہ نہیں جیسا کہ عقیدہ وحدت الوجود تعلیم دیتا ہے، لیکن خُدا ہر ایک جگہ پر ہر ایک لمحے موجود ہے۔

اِس کائنات کی تخلیق سے لیکر ہر ایک دور میں خُدا کی حضوری جاری و ساری رہی ہے، ضروری نہیں کہ وہ ہر وقت سبھی لوگوں پر ظاہر ہو لیکن وہ موجود ضرور ہے۔ بعض دفعہ یہ ہو سکتا ہے کہ کسی ایک جگہ پر اُس کی حضوری کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہو، لیکن ضروری نہیں کہ وہ خود کو کسی اور مقام پر کسی اور طرح کے حالات میں اُسی طرح سے ظاہر کرےبہرحال وہ حاضر ہر ایک جگہ پر ہوتا ہے۔ بائبل ظاہر کرتی ہے کہ خُدا ایک ہی وقت میں کسی ایک شخص پر اپنی ذات کو خاص انداز سے ظاہر کر سکتا ہے(46 زبور 1 آیت؛ یسعیاہ 57 باب 15آیت) اور تخلیق کی ہر ایک دیگر چیز کے اندر بھی وہ ہر وقت حاضر ہوتا ہے (33 زبور 13-14آیات)۔ خُدا کی حاضرو ناظر ہونے کی صفت سے مُراد یہی ہے کہ وہ پورے وقت اور پوری کائنات میں ہر وقت حاضرو ناظر ہے۔ خُدا ہر ایک لمحے ہر ایک مقام پر موجود ہے۔ اِس کائنات میں کوئی مالیکیول یا کوئی ایٹم اِس قدر چھوٹا نہیں ہے کہ اُس تک خُدا کی حضوری نہ ہو، اور کوئی کہکشاں اِس قدر بڑی نہیں ہے کہ خُدا کی ذات نے اُس کا گھیراؤ نہ کیا ہوا ہو۔ اگر ہم ساری کی ساری تخلیقات کو ختم کر دیں پھر بھی خُدا اُس کی ہر ایک چیز سے باخبر ہوگا، کیونکہ وہ ہر طرح کے ممکنات سے واقف ہے چاہے وہ حقیقی مادی صورت میں ہوں یا نہ ہوں۔

خُدا فطری طور پر فطرت کے ہر ایک پہلو میں موجود ہے، اُس کے ہر ایک طور طریقے اور وقت و خلاء میں بھی اُسکی موجودگی پائی جاتی ہے (یسعیاہ 40 باب 12آیت؛ ناحوم 1 باب 3آیت)۔ خُدا تاریخ کے ہر ایک پہلو میں بھی انسان کے سبھی معاملات کے ایک دور اندیش رہنما کے طور پر موجود ہے (48زبور 7آیت؛ 2 تواریخ 20 باب 37آیت؛ دانی ایل 5 باب 5-6آیات)۔ خُدا ایک بہت ہی خاص طریقے سے بڑی توجہ کے ساتھ اُن سب کے ساتھ بھی حاظر ہوتا ہے جو اُسے پکارتے، اُس سے دوسروں کے لیے شفاعت کرتے، اُس کی پرستش کرتے، اُس سے التجا کرتے اور جانفشانی کے ساتھ اُس سے معافی حاصل کرنے کے لیے دُعا کرتے ہیں (46 زبور 1آیت)۔ بہت ہی واضح طور پر وہ اپنے بیٹے ہمارے خُداوند یسوع مسیح کی ذات میں حاضر ہے(کلسیوں 2 باب 19آیت) اور ایک بھید کے طور پر وہ عالمگیر کلیسیا کے اندر موجود ہے جو ساری زمین پر پھیلی ہوئی ہے اور جس پر موت اور عالمِ ارواح کے دوازے غالب نہ آئیں گے۔

جس طرح خُدا کی صفت علیمِ کل کے بارے میں انسان کے محدود دماغ کی بدولت کچھ ابہام پائے جاتے ہیں ایسے ہی ابہام خُدا کے حاضر و ناظر ہونے کے بارے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ ایسا ہی ایک معاملہ جہنم کے اندر خُدا کی موجودگی کا ہے جو کہ وہ مقام ہے جہاں پر اُن گناہگاروں کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سزا کے لیے بھیج دیا جاتا ہے جو اپنے گناہوں کی بدولت خُدا سے جُدا ہو جاتے ہیں۔ بہت سارے لوگ یہ بحث کرتے ہیں کہ جہنم خُدا سے جدائی کا مقام ہے (متی 25 باب 41آیت)، اگر ایسا ہے تو پھر یہ ہرگز نہیں کہا جا سکتا کہ خُدا ایک ایسی جگہ پر موجود ہوگا جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ خُدا سے جُدائی کا مقام ہے۔ بہرحال جہنم میں جانے والے گناہگار خُدا کے ابدی قہر کا سامنا کرتے ہیں کیونکہ مکاشفہ 14 باب 10آیت بیان کرتی ہے کہ سارے گناہگار برّے کی حضوری میں عذاب میں مبتلا ہونگے۔ہم جانتے ہیں کہ خُدا ہر جگہ موجود ہے اور جتنے بھی گناہگار ہیں وہ جب گناہ کرتے اور جہنم میں جاتے ہیں تو وہ خُدا سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جُدا ہو جاتے ہیں۔ اور پھر اگر یہ بھی کہا جائے کہ خُدا وہاں بھی موجود ہے تو اِس سے اکثر اضطراب اور حیرانگی کی حالت پیدا ہوتی ہے۔ بہرحال اِس قسم کی صورتحال کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ چونکہ ساری کائنات خُدا کی حضوری سے پُر ہے (کلسیوں 1 باب 17 آیت) اور وہ اپنے کلام کی قدرت سے ہر ایک چیز کو قائم رکھتا ہے (عبرانیوں 1 باب 3 آیت) – لیکن ضروری نہیں کہ وہ ہر جگہ پر چیزوں کو برکت دینے کے لیے ہی ہو۔

بہت دفعہ جب خُدا اپنے بچّوں کے گناہوں کی بدولت اُن سے دور ہو جاتا ہے (یسعیاہ 52 باب 9آیت)، اور وہ شریر سے دور ہوتا ہے (امثال 15 باب 29آیت) اور خُدا کا خوف نہ رکھنے والے تاریکی کے فرزندوں کو خود سے دور ابدی سزا دیتا ہے ، پھربھی اُن سب کے پاس خُدا کی حضوری موجود ہے۔ وہ جانتا ہے کہ جہنم کے اندر جو لوگ اُس کے عذاب کا سامنا کرتے ہیں اُن کو کس قسم کی اذیت کا سامنا ہے۔ وہ اُن کی تکلیف سے واقف ہے، مزید مہلت کے لیے اُن کی چیخ پکار، اور اپنی اُس حالت کی بدولت جو ابدیت تک ویسے ہی رہنے والی ہے اُن کے آنسوؤں اور اُن کے دُکھوں سے بھی واقف ہے۔ وہ ابدی طور پر اُن کے ساتھ ایک ایسی یاددہانی کے طور پر موجود ہے جو اُنہیں بتاتی ہے کہ اُن کے گناہ نے اُن کے اور خُدا کی ہر طرح کی برکات کے درمیان کیسا بڑا خلیج پیدا کر دیا ہے۔ وہ وہاں پر مکمل طور پر موجود ہے لیکن اُس مقام پر وہ صرف اپنی قہر کے سوا کسی اور صفت کوظاہر نہیں کرتا۔

اِسی طرح وہ آسمان پر بھی موجود ہوگا، جہاں پر وہ ہر اُس برکت کو ہم پر ظاہر کرے گا جس کا ہم ابھی تصور تک نہیں کر سکتے؛ وہ وہاں پر اپنی بہت بڑی بڑی برکات کو ہم پر ظاہر کرے گا، اپنی بیش بہا محبت اور اپنی بیش بہا مہربانی ہمیں دکھائے گا اور اپنے قہر کے سوا ہر ایک دیگر چیز اور برکت کو ہم پر ظاہر کرے گا۔ خُدا کی ہر جگہ پر حضوری ہمارے لیے اِس بات کی یاددہانی ہونی چاہیے کہ ہم گناہ کی حالت میں یا گناہ کرنے کے لیے اپنے آپ کو خُدا سے کسی بھی جگہ پر چھپا نہیں سکتے (139 زبور 11-12ابواب)، لیکن ہم ذرا سا بھی ہلے بغیر اور ذرا سا بھی سفر کئے بغیرایمان کیساتھ توبہ کرتے ہوئے اُس کی حضوری میں واپس آ سکتے ہیں (یسعیاہ 57باب16آیت)

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا کے حاضروناظر ہونے سے کیا مُراد ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries