settings icon
share icon
سوال

گا ڈ آف دی گیپس /رخنوں کے خدا کی دلیل کیا ہے؟

جواب


" رخنوں کے خدا " کی دلیل کائنات کے بارے میں ایک ایسے طرزِ فکر کی طرف اشارہ کرتی ہے جس کے مطابق ایسی کوئی بھی بات جس کی قدرتی مظاہر کے بارے میں ہمارے حالیہ علم کی مدد سے وضاحت کی جا سکتی ہے اُسے الٰہی مداخلت کے دائرے سے باہر خیال کیا جاتا ہے اور اِس طرح "خدا "کے تصور" کو اُن باتوں کی وضاحت کے لیےاستعمال کیا جاتا ہے جس کی سائنس ابھی تک وضاحت کرنے سے قاصر ہے۔ دوسرے الفاظ میں خدا کی طرف سے سرا نجام دئیےگئے کاموں کے وسیلہ سے سائنسی علوم میں"رخنوں " کی وضاحت کی جاتی ہے اس لیے اِس کا نام "رخنوں کا خدا" ہے۔

خیال یہ ہے کہ جیسے جیسے سائنسی تحقیق ترقی کر تی جاتی ہے اور مظاہر کی بڑی تعداد کو علم ِالفطرت کے طور پر بیان کیاجا رہا ہے اُسی نسبت سے خدا کا کردار کم ہوتا جاتا ہے۔ تنقید کا بڑے پیمانے پر کہنا ہے کہ جیسے جیسے خدا کی طرف سے بیان کردہ سابقہ علم کا دائرہ اثر کم ہوتا جا رہا ہے اُس قدر وقت کے ساتھ ساتھ مافوق الفطرت بیانات سے مدد طلب کرنے میں کمی ہونی چاہیے ۔

تاہم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں جدید پیش رفت کے ساتھ معاملات بالکل بدل چکے ہیں ۔ الیکٹران کے درجے تک مشاہدہ کرنے والی خوردبین کی آمد کے ساتھ ہم پہلی بار خلیے کے پیچیدہ کاموں کا مشاہدہ کرنے کے قابل ہوئے ہیں۔ جس چیز کو بنیاد ی اور سطحی طور پر مادہ ِ حیات کے ایک "گولے " سے زیادہ کچھ نہیں سمجھا جاتا تھا اب وہ تصور سے کہیں زیادہ پیچیدہ اور معلومات سے بھرا دکھائی دیتا ہے ۔

بیسویں صدی کے اوائل میں جن زیادہ تر باتوں کو کسی وقت پہلے "حل شدہ " قرار دیا جا چکا تھا اب معلوم ہوا ہے کہ نظریہ فطرت پرستی کے وسیلے اُنہیں ناقص طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی روایتی ارتقائی نظریے میں موجود خامیوں کو تیزی سے عیاں کر رہی ہے۔ "سادہ" خیال کی جانے والی چیزوں کو معلومات سے بھرپور پاتے ہوئے حال ہی میں کسی بھی حقیقی سطح پر سمجھا گیا ہے اور اُنہیں کچھ بھی کہا جا سکتا ہے سوائے "سادہ" ہونے کے ۔ معلومات کو فطری طور پر اب غیر مادی سمجھا جا سکتا ہے۔ لہذا مادیت پسندانہ طریقے معلومات کے ذرائع کی حیثیت سے معیار پر پورے نہیں اُتر سکتے۔

درحقیقت خُدا پر ایمان رکھنا ایک آفاقی تجزیے کے وسیلے سے ممکن ہے برعکس شخصی تجزیے کے جیسا کہ ممکنہ طور پر ہزار سال پہلے تک خیال کیا جاتا تھا۔ لیکن بہت سے لوگ عام طور پر اُس بات سے بھی انکار کرتے ہیں جو اُن کے لئے بالکل واضح ہے۔ بائبل اُنہی لوگوں کو مخاطب کرتی ہے: " کیونکہ خُدا کا غضب اُن آدمیوں کی تمام بے دِینی اور ناراستی پر آسمان سے ظاہر ہوتا ہے جو حق کو ناراستی سے دبائے رکھتے ہیں۔ کیونکہ جو کچھ خُدا کی نِسبت معلوم ہو سکتا ہے وہ اُن کے باطن میں ظاہر ہے۔ اِس لئے کہ خُدا نے اُس کو اُن پر ظاہِر کر دِیا۔ کیونکہ اُس کی اَن دیکھی صفتیں یعنی اُس کی ازلی قُدرت اور الُوہیت دُنیا کی پیدایش کے وقت سے بنائی ہُوئی چیزوں کے ذرِیعہ سے معلُوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں۔ یہاں تک کہ اُن کو کُچھ عُذر باقی نہیں" (رومیوں 1باب 18-20آیات )۔ رخنوں کے خدا کی دلیل "سچ کو دبانے" کی ایک مثال ہے کیونکہ یہ اُن معاملات میں خدا کی اہمیت کم کرتے ہوئے اُسےدوسرے درجے کی وضاحت قرار دیتی ہے جن کی ابھی تک قدرتی مظاہر سے وضاحت نہیں کی جا سکتی ہے۔ یہ دلیل کچھ لوگوں کے یہ نتیجے اخذ کرنے کا باعث بنتی ہے کہ خدا وہ قادر مطلق، ہمہ گیر،اعلیٰ و ارفع ہستی نہیں ہے جس کی کلامِ مقدس گواہی دیتا ہے۔

وقت/خلاء/مادے کے تسلسل کی ابتدا اور اُن کی فائن ٹیوننگ/خاص ترتیب جیسی بہت سی باتیں ہیں جس کے لیے فطری علوم وضاحت فراہم نہیں کر سکتے؛ خود زندگی کی ابتدا اور بعد میں ترقی؛ اور تمام جانداروں میں شامل پیچیدہ اور مخصوص معلوماتی نظام کی ابتدا، جس کی فطری ذرائع سے وضاحت نہیں کی جا سکتی (اور نہ ہی کبھی ہوگی)۔ اس طرح کوئی شخص شعوری طور پر مافوق الفطرت کو مشاہداتی کائنات سے جُدا نہیں کر سکتا ، جس سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے کہ "خُدا نے اِبتدا میں زمین و آسمان کو پَیدا کِیا"(پیدایش 1باب 1آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

گا ڈ آف دی گیپس /رخنوں کے خدا کی دلیل کیا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries