"خُدا قدرتی آفات مثلاً زلزلوں، آندھی طوفانوں، اور سمندری طوفانوں کو کیوں اجازت دیتا ہے؟



سوال: "خُدا قدرتی آفات مثلاً زلزلوں، آندھی طوفانوں، اور سمندری طوفانوں کو کیوں اجازت دیتا ہے؟

جواب:
خُدا زلزلوں، آندھیوں، طوفانوں، بگولوں، ٹائفونوں، سونامیوں، سائیکلوں، جنگل کی آگ، مڈ سلائیڈز، لینڈ سلائیڈز (ریزش زمین) اور باقی قدرتی آفات کو کیوں اجازت دیتاہے؟ ایشیاء میں ۲۰۰۴ کی المناک سونامی ،جنوبی ریاست ہائے متحدہ کے ۲۰۰۵ کے کیٹری طوفان، میانمار میں ۲۰۰۸ کے سائیکلون سے بہت سے لوگ خُدا کی بھلائی پر سوال کر رہے ہیں۔ یہ تکلیف دہ بات ہے کہ قدرتی آفات اکثر "خُدا کے افعال" قرار دئیے جاتے ہیں، جبکہ پُر امن موسم کے سالوں، دہائیوں، یہاں تک کہ صدیوں کے لیے خُدا کو کوئی "کریڈٹ" نہیں دیا جاتا۔ خُدا نے پُوری کائنات اور فطرت کے قوانین کو خلق کیا (پیدائش۱:۱)۔ بہت سی قدرتی آفات فطری قوانین کا نتیجہ ہیں۔ ہیریکینز، ٹائیفونز، اور ٹورنیڈوز منتشر موسم کے ٹکراؤ کا نتیجہ ہیں۔ زلزلے زمینی پلیٹس کی اپنی جگہ سے تبدیلی کا نتیجہ ہیں۔ سونامی پانی کے نیچے زلزلے کا نتیجہ ہیں۔

بائبل بیان کرتی ہےکہ یسوع مسیح فطرت کی تمام چیزوں کو ایک دوسرے کے ساتھ قائم رکھتا ہے (کُلسیوں۱۶:۱۔۱۷)۔ کیا خُدا قدرتی آفات کو روک سکتا ہے؟ بالکل! کیا خُدا بعض اوقات موسم کو اختیار بخشتا ہے؟ جی ہاں، جیسا کہ ہم استثنا ۱۷:۱۱ اور یعقوب ۱۷:۵ میں دیکھتے ہیں۔ گنتی ۳۰:۱۶۔۳۴ بیان کرتی ہے کہ خُدا بعض اوقات قدرتی آفات کو گناہ کے خلاف عدالت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ مکاشفہ کی کتاب بہت سے واقعات کی وضاحت کرتی ہے جن کو یقینی طور پر قدرتی آفات کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے (مکاشفہ ابواب۸،۶ اور ۱۶)۔ کیا ہر قدرتی آفت خُدا کی طرف سے سزا ہے؟ بالکل نہیں۔

جس طرح خُدا بُرے لوگوں کو بُرے کام کرنے کی اجازت دیتا ہے،ویسے ہی خُدا زمین کو اجازت دیتا ہے کہ وہ اُن نتائج کو ظاہر کرے جو گناہ نے تخلیق پر پیدا کئے۔ (رومیوں۱۹:۸۔۲۱ بیان کرتی ہے "کیونکہ مخلوقات کمال آرزُو سے خُدا کے بیٹوں کے ظاہر ہونے کی راہ دیکھتی ہے۔ اِس لیے کہ مخلوقات بطالت کے اختیار میں کر دی گئی تھی نہ اپنی خوشی سے بلکہ اُسکے باعث سے جس نے اُس کو اِس اُمید پر بطالت کے اختیار میں کر دیا کہ مخلوقات بھی فنا کے قبضہ سے چھوٹ کر خُدا کے فرزندوں کے جلال کی آزادی میں داخل ہو جائے گی"۔ انسانیت کی گناہ میں گراوٹ نے ہماری دُنیا سمیت جس میں ہم رہتے ہیں ہر چیز کو متاثر کیا۔ تخلیق میں ہر چیز "مایوسی" اور "تنزل" کے اختیار میں ہے۔ جیسے موت، بیماری، اور اذیت کا سبب گناہ ہے ویسے قدرتی آفات کا اصل سبب بھی گناہ ہے۔

ہم سمجھ سکتے ہیں کہ قدرتی آفات کیوں واقع ہوتے ہیں۔ جو ہم نہیں سمجھتے وہ یہ ہے کہ خُدا ایسے واقعات کو کیوں اجازت دیتا ہے۔ خُدا نے سونامی کو ایشیا میں ۲۲۵،۰۰۰ لوگوں کو مارنے کی اجازت کیوں دی؟ خُدا نے کیڑی ہیریکین کو ہزاروں لوگوں کے گھروں کو تباہ کرنے کی اجازت کیوں دی؟ ایک بات ہے، ایسے واقعات اِس زندگی میں ہمارے اعتماد کو متزلزل کرتے ہیں اور ہمیں ابدیت کے بارے میں سوچنے کے لیے مجبور کرتے ہیں۔آفات کے بعد چرچز بھر جاتے ہیں کیونکہ لوگوں کو احساس ہو جاتا ہے کہ اُن کی زندگیاں کتنی نازک ہیں اور کس طرح زندگی ایک لمحہ میں لے لی جاتی ہے۔ ہم یہی جانتے ہیں کہ خُدا بھلا ہے! بہت سے حیران کن معجزات قدرتی آفات کے دوران واقع ہوتے ہیں جو زیادہ جانی نقصان کو روک دیتے ہیں۔ قدرتی آفات لاکھوں لوگوں کی زندگی کی ترجیحات کے از سر نو جائزے کا سبب بنتی ہیں۔ مصیبت زدہ لوگوں کی مدد کے لیے کروڑوں ڈالرز کی امداد بھیجی جاتی ہے۔ مسیحی منسٹریز کو مدد کرنے، خدمت کرنے، مشورہ دینے، دُعا کرنے، اور مسیح پر ایمان لانے کے لیے رہنمائی کرنے کا موقع ملتا ہے! خُدا خوفناک سانحوں سے بھی بھلائی پیدا کر سکتا ہے ، اور کرتا ہے (رومیوں۲۸:۸)۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



"خُدا قدرتی آفات مثلاً زلزلوں، آندھی طوفانوں، اور سمندری طوفانوں کو کیوں اجازت دیتا ہے؟