"خُدا غیور (جیلس) خُدا کیوں ہے؟



سوال: "خُدا غیور (جیلس) خُدا کیوں ہے؟

جواب:
یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ لفظ "جیلس بمعنی غیور" کیسے استعمال ہوا ہے۔ خروج۵:۲۰ میں اِس کا استعمال (جیلس) حسد جیسے گناہ کے استعمال سے مختلف ہے (گلتیوں۲۰:۵)۔ جب ہم لفظ "حسد" استعمال کرتے ہیں تو ہم کسی سے رشک کے معفوم میں استعمال کرتے ہیں کہ جو چیز میرے پاس نہیں اُس کے پاس کیوں ہے۔ ایک شخص دوسرے شخص سے حسد یا رشک کر سکتا ہے کہ اُس کے پاس اچھی گاڑی یا گھر (ملکیت) کیوں ہے۔ یا کوئی شخص دوسرے شخص سے حسد یا رشک کر سکتا ہے کہ اُس کے پاس ہنر یا قابلیت (جیسا کہ اچھا کھیلنے کی قابلیت) کیوں ہے۔ ایک اور مثال یہ ہو سکتی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص کسی دوسرے سے حسد یا رشک اُس وجہ سے کرے کہ وہ اتنا/اتنی خوبصورتی کیوں ہے۔

خروج ۵:۲۰ میں لفظ "جیلس" کا ہرگز مطلب نہیں کہ خُدا کسی سے حسد یا رشک کرتا ہے کہ جس چیز کی اُسے ضرورت ہے کسی اور کے پاس کیوں ہے۔ خروج۴:۲۰۔۵ فرماتی ہے، "تُو اپنے لیے کوئی تراشی ہوئی مُورت نہ بنانا جو اوپر آسمان میں یا نیچے زمین پر یا زمین کے نیچے پانی میں ہے۔ تُو اُن کے آگے سجدہ نہ کرنا اور نہ اُ نکی عبادت کرنا کیونکہ میں خُداوند تیرا خُدا غیور خُدا ہوں۔۔۔" غور کریں خُدا جیلس(غیور) تب ہوتا ہے جب کوئی ایسی چیز کسی اور کو دیتا ہے جو صرف خُدا کے لیے واجب ہے۔

اِن آیات میں خُدا لوگوں کے بُت بنانے اور اُن کو سجدہ کرنے اور اُن کی پرستش کرنے کی بات کر رہا ہے کہ اِن کا اصل حق دار خود خُدا ہے نہ کے بُت۔ صرف خُدا ہی پرستش اور خدمت کے لائق ہے۔ خُدا کے علاوہ کسی اور کی خدمت کرنا اور پرستش کرنا گناہ ہے (جیسا کہ خُدا اِس حکم میں اشارہ کر رہا ہے)۔ اور یہ بھی گناہ ہے جب ہم خواہش کرتے، رشک کرتے، یا حسد کرتے ہیں کہ کسی کے پاس وہ چیز کیوں ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے۔ خُدا جیلس (غیور) ہے، اِس لفظ کا استعمال یہاں فرق طریقے سے ہوا ہے۔ وہ اُن چیزوں کے بارے میں غیور ہے جن کا تعلق اُس کے ساتھ ہے یعنی پرستش، خدمت جو صرف اُس کے لیے ہونی چاہیے۔

ہو سکتا ہے کہ ایک عملی مثال سے فرق سمجھ آ جائے۔ اگر ایک شوہر کسی اور مرد کو اپنی بیوی کے ساتھ دل لگی (فلرٹ) کرتا دیکھ لے، تواُس کے پاس جیلس (غیور) ہونے کا حق ہے، کیونکہ صرف وہی اپنے بیوی کے ساتھ فلرٹ کرنے کا حق دار ہے۔ اِس قسم کی جیلسی (غیرت) گناہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ بالکل مناسب ہے۔ ایسی چیز کے لیے جیلس ہونا اچھا اور مناسب ہے جس کا تعلق صرف آپ کے ساتھ ہے۔ جیلسی اُس وقت گناہ ہےجب آپ ایسی چیز کی خواہش کرتے ہیں جس کے آپ حق دار نہیں۔ پرستش، جلال، عزت، اور بزرگی صرف خُدا کے لیے ہے۔ کیونکہ صرف وہی اِس کا حق دار ہے۔ لہذہ جب پرستش، جلال، عزت اور بزرگی کسی اور کو دی جائے تو خُدا ٹھیک جیلس ہوتا ہے۔ اور اِسی جیلسی کا ذکر پولوس رسول بھی ۲۔کرنتھیوں۲:۱۱ میں کرتا ہے، "مُجھے تماری بابت خُدا کی غیرت (جیلسی) ہے"۔



اردو ہوم پیج میں واپسی



"خُدا غیور (جیلس) خُدا کیوں ہے؟