settings icon
share icon
سوال

کیا یسوع مجسم خدا ہے؟ یہ بات اہم کیوں ہے کہ یسوع مجسم حالت میں خدا ہے ؟

جواب


رُوح القدس کے وسیلہ سے کنواری مریم کے رحم میں پڑنے(لوقا 1باب 26-38آیات) کے وقت سے یسوع مسیح کی حقیقی شناخت پر تشکیک پرستوں کی طرف سے ہمیشہ سوال اُٹھایا جاتا رہا ہے۔ اس تشکیک پرستی کا آغاز مریم کے منگیتر یوسف سے ہوا جو مریم کے حاملہ ہونے کی خبر پا کر اُس سے شادی کرنے سے ڈرا (متی 1باب 18-24آیات)۔لیکن جب فرشتہ نے اُس کے سامنے یہ کی تصدیق کی کہ مریم کے پیٹ میں موجود بچّہ خدا کا بیٹا ہے، صرف تب ہی اُس نے اُسے اپنی بیوی کے طور پر قبول کیا۔

مسیح کی پیدایش سے سینکڑوں سال پہلے یسعیاہ نبی نے خدا کے بیٹے کی آمد کی پیشین گوئی کی تھی: "اِس لئے ہمارے لئے ایک لڑکا تولُّد ہُوا اور ہم کو ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اُس کے کندھے پر ہو گی اور اُس کا نام عجیب مُشیر خُدایِ قادِر ابدِیت کا باپ سلامتی کا شاہزادہ ہو گا"(یسعیاہ 9باب 6آیت)۔ جب فرشتہ نے یوسف سے بات کی اور یسوع کی عنقریب پیدایش کا اعلان کیا تو اُس نے یسعیاہ کی پیشین گوئی کی طرف اشارہ کیا: " دیکھو ایک کنواری حامِلہ ہو گی اور بیٹا جنے گی اور اُس کا نام عِمانُوایل رکھیں گے جس کا ترجمہ ہے خُدا ہمارے ساتھ"(متی 1باب 23 آیت)۔ اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ اُنہیں بچّے کا نام عمانویل رکھنا تھا؛ بلکہ اس کا مطلب یہ تھا کہ "خدا ہمارے ساتھ " بچّے کی پہچان تھی۔ یسوع وہ خدا تھا جوزمین پر انسان کے ساتھ رہنے کے لیے مجسم حالت میں آیا تھا۔

اپنی شناخت کے بارے میں قیاس آرائیوں سے یسوع خود بھی آگاہ تھا۔ اُس نے اپنے شاگردوں سے پوچھاکہ" لوگ اِبنِ آدمؔ کو کیا کہتے ہیں؟" (متی 16باب 13آیت؛ مرقس 8باب 27آیت)۔ جوابات مختلف طرح کے تھے، جیسے آج بھی ہیں ۔ پھر یسوع نے ایک اور اہم سوال پوچھا "مگر تم مجھے کیا کہتے ہو؟"(متی 16باب 15آیت)۔ پطرس نے درست جواب دیا:"تُو زِندہ خُدا کا بیٹا مسیح ہے"(متی 16باب 16آیت)۔ یسوع نے پطرس کے جواب میں موجود سچائی کی تصدیق کی اور وعدہ کیا کہ مَیں اپنی کلیسیا کو اس سچائی پر قائم کروں گا (متی 16باب 18آیت)۔ یسوع مسیح کی حقیقی فطرت اور شناخت کی ابدی اہمیت ہے۔ اس سوال کا جواب ہر ایک شخص کو دینا چاہیے جو یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا تھا کہ: " تُم مُجھے کیا کہتے ہو؟"

اُس نے کئی طرح سے ہمیں اس کا درست جواب دیا۔ یوحنا 14باب 9-10آیات میں یسوع نے فرمایا ہے کہ "جس نے مجھے دیکھا اُس نے باپ کو دیکھا۔ تُو کیوں کر کہتا ہے کہ باپ کو ہمیں دِکھا؟ کیا تُو یقین نہیں کرتا کہ مَیں باپ میں ہُوں اور باپ مجھ میں ہے؟ یہ باتیں جو مَیں تم سے کہتا ہُوں اپنی طرف سے نہیں کہتا لیکن باپ مجھ میں رہ کر اپنے کام کرتا ہے۔"

بائبل خداوند یسوع مسیح کی الٰہی فطرت کے بارے میں واضح ہے (دیکھیں یوحنا 1باب 1-14آیات)۔ فلپیوں 2باب 6-7آیات یسوع کے بارے میں فرماتی ہیں کہ " اُس نے اگرچہ خُدا کی صُورت پر تھا خُدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چیز نہ سمجھا۔ بلکہ اپنے آپ کو خالی کر دِیا اور خادِم کی صورت اِختیار کی اور اِنسانوں کے مُشابِہ ہو گیا"۔ کلسیوں 2باب 9آیت بیان کرتی ہے " کیونکہ اُلُوہِیّت کی ساری معمُوری اُسی میں مُجسّم ہو کر سکُونت کرتی ہے۔"

یسوع کامل خدا اور کامل انسان ہے اور اُس کے مجسم ہونے کی حقیقت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ اُس نے انسانی زندگی گزاری لیکن اُس میں ہماری مانند گناہ آلودہ فطرت نہیں تھی ۔ وہ آزمایا گیا لیکن اُس نے کبھی گناہ نہیں کیا (عبرانیوں 2باب 14-18آیات؛ 4باب 15آیت)۔ آدم کے وسیلہ سے گناہ دنیا میں داخل ہوااور سوائے یسوع کے دنیا میں پیدا ہونے والے ہر بچّے میں آدم کی گناہ آلودہ فطرت منتقل ہو گئی (رومیوں 5باب 12آیت) ۔ چونکہ یسوع کا انسانی باپ نہیں تھااس لیے اُس کی فطرت میں موروثی گنا ہ نہیں تھا ۔ وہ اپنے آسمانی باپ کی طرف سے الٰہی فطرت رکھتا تھا۔

اِس سے پہلے کہ وہ ہمارے گناہ کے لیے قابل قبول قربانی بن پاتا (یوحنا 8باب 29آیت؛ عبرانیوں 9باب 14آیت)یسوع کو مُقدس خُدا کے تمام تقاضوں کو پورا کرنا تھا ۔ اُسے مسیحا کے بارے میں اُن تین سو سے زیادہ پیشین گوئیاں کو پورا کرنا تھا جو خدا نے نبیوں کے وسیلہ سے کروائی تھیں (متی 4باب 13-14آیات؛ لوقا 22باب 37آیت؛ یسعیاہ 53باب میکاہ 5باب 2آیت)۔

انسان کے گناہ میں پڑنے کے وقت سے (پیدایش 3باب 21-23آیات)خدا کے ساتھ میل ملاپ کرنےکا واحد طریقہ ایک بے عیب قربانی کا خون رہا ہے (احبار 9باب 2آیت؛ گنتی 28باب 19آیت؛ استثنا 15باب 21آیت؛ عبرانیوں 9باب 22آیت)۔ یسوع وہ آخری اور کامل قربانی بنا جس نے گناہ کے خلاف خُدا کے غضب کو ہمیشہ کے لیے ٹھنڈا کر دیا تھا (عبرانیوں 10باب 14آیت)۔ اُس کی الٰہی فطرت نے اُسے نجات دہندہ کے کام کے لیے موزوں بنایا؛ اُس کے انسانی جسم نے اُسے گناہوں کی معافی کے لیے ضروری خون بہانے کے قابل بنایا۔گناہ آلودہ فطرت کا حامل کوئی بھی انسان ایسےقرض کو ادا نہیں کر سکتا تھا ۔ کوئی اور انسان تمام دنیا کے گناہوں کی قربانی بننے کے تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتا تھا (متی 26باب 28آیت؛ 1یوحنا 2باب 2آیت)۔ اگر یسوع محض ایک معززانسان تھا جیسا کہ کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں تو وہ کامل نہیں بلکہ گناہ آلودہ فطرت کا مالک تھا ۔ اُس صورت میں اُس کی موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنا کسی کو نجات دینے کی قوت نہیں رکھتا تھا ۔

چونکہ یسوع مجسم خدا تھا لہذا وہ اکیلے ہی اُس قرض کو ادا کر سکتا تھا جس کے لیے ہم خدا کے مقروض تھے۔ موت اور قبر پر اُس کی فتح نے ہر اُس شخص کے لیے فتح حاصل کی تھی جو اُس پر بھروسہ رکھتا ہے (یوحنا 1باب 12آیت؛ 1کرنتھیوں 15باب 3-4، 17آیات )۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا یسوع مجسم خدا ہے؟ یہ بات اہم کیوں ہے کہ یسوع مجسم حالت میں خدا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries