settings icon
share icon
سوال

خُدا بائبل میں اِس قدر واضح اور آجکل اِس قدر چھپا ہو اکیوں ہے ؟

جواب


بائبل میں بیان کیا گیا ہے کہ خُدا اپنے لوگوں پر ظاہر ہوتا ہے، وہ حیرت انگیز اور ناقابلِ تردید معجزات کرتا ہے، وہ قابلِ سماعت کلام کرتا ہے اور مزید بہت ساری ایسی چیزیں کرتا ہے جن کا ہم آج کے دور میں بالکل بھی تجربہ نہیں کرتے۔ ایسا کیوں ہے؟خُدا بائبل کے دور میں اپنے آپ کو یوں ظاہر کرنے اور ثابت کرنے کے لیے اِس قدر رضا مند کیوں تھا ، لیکن آجکل کے دور میں وہ اس قدر "چھپا ہوا "کیوں محسوس ہوتا ہے؟

اِس دور میں خُدا کو چھپا ہوا محسوس کرنے کی ایک اہم وجہ رضاکارانہ طور پر گناہ کرنا اور اُس سے توبہ نہ کرنا ہو سکتا ہے۔"تب وہ خُداوند کو پکاریں گے پر وہ اُن کی نہ سُنے گا۔ ہاں وہ اُس وقت اُن سے مُنہ پھیر لے گا کیونکہ اُن کے اعمال بُرے ہیں" (میکاہ 3باب4آیت؛ بالموازنہ اِستثنا 31باب18آیت؛ 32باب20آیت)۔ مزید برآں ایمان کے بغیر خُد اکو پسند آنا ناممکن ہے (عبرانیوں 11باب6آیت)۔ بہت دفعہ لوگ خُدا کے بارے میں موجود ثبوتوں کو نہیں دیکھ پاتے کیونکہ وہ مسلسل طور پر اُس کی ذات پر ایمان رکھنے سے انکار کرتے ہیں (دیکھئے مرقس 6باب1-6آیات) –جب آپ اپنی آنکھیں بند کر لیں تو پھر دیکھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔

خُدا کی ذات کے مخفی یا چھپے ہونے سے دور، خُدا نے انسان کے لیےاپنی ذات کے بتدریج مکاشفے کے اظہار کے منصوبے کو مکمل کیا ہے۔ خُدا کی طرف سے انسان کے ساتھ مسلسل طور پر رابطہ رکھنے کے صدیوں پر محیط مرحلے کے دوران خُدا نے بہت دفعہ معجزات کو استعمال کیا، کئی بار اُس نے اپنی ذات کے خاص پہلوؤں ، اپنی ہدایات اور اپنے منصوبوں کو ظاہر کرنے کے لیے لوگوں کے ساتھ خود کلام کیا۔ خُدا کی طرف سے انسانوں کے ساتھ کلام کرنے کے اِس دور میں کئی ایک خاموشی کے ادوار بھی آئے۔ اِن ادوار کے دوران اُس کی قدرت اتنی واضح نہیں تھی اور اُس کی طرف سے مکاشفہ جات نہیں دئیے جا رہے تھے (دیکھئے 1 سموئیل 3باب1آیت)۔

خُدا کا پہلا معجزہ –اُسکی تخلیق –کبھی بھی کسی بھی انسان سے چھپا ہوا نہیں رہا۔ خُدا کی تخلیق پہلے بھی اور آج بھی خُدا کے وجود کا بنیادی ترین ثبوت ہے، اور یہ وہ طریقہ ہے جس کے ذریعےسے وہ اپنی ذات کی بہت ساری خصوصیات کی نمائش کرتا ہے۔ جو کچھ خُدا کی طرف سے بنایا گیا تھا اُس کےوسیلے انسان دیکھ سکتا ہے کہ خُدا قادرِ مطلق، حاکمِ کُل اور ابدی ہے (رومیوں 1باب20آیت)۔ تخلیق خُدا کی طرف سے انسان کے لیے اپنی ذات کے متعلق پہلا بیان تھا۔ "آسمان خُدا کا جلال ظاہر کرتا ہے اور فضا اُس کی دست کاری دِکھاتی ہے " (19زبور 1آیت)۔ تخلیق کے بعد خُدا نے اپنی ذات کے بارے میں مزید اعلانات کرنے کے لیے اور انسان کو اپنی راہوں اور منصوبوں کے بارے میں آگاہ کرنے کےلیے انسان کے ساتھ کلام کیا۔ اُس نے سب سے پہلے آدم اور حوّا کے ساتھ کلام کیاجس میں اُس نے اُنہیں کچھ احکامات دئیے تاکہ وہ اُن پر عمل کریں،لیکن جب اُنہوں نے اُس کے احکامات کی نافرمانی کی تو پھر اُس نے گناہ کی وجہ سے پیدا ہونے والی لعنت کا اعلان کیا۔ اُس نے آدم اور حوّا کے ساتھ ساتھ تمام بنی نوع انسان کو اِس بات کا بھی یقین دلایا کہ وہ اُنہیں گناہ سے نجات دینے کے لیے ایک نجات دہندہ بھیجے گا۔

حنوک کے آسمان پر اُٹھائے جانے کے بعد ایسا معلوم ہوتا ہے کہ خُدا کی ذات ایک بار پھر "چھپ" گئی تھی۔ لیکن بعد میں خُدا نے نوح اور اُس کے خاندان کو بچانے کے لیے اُس کے ساتھ کلام کیا، پھر موسیٰ سے کلام کر کے اُس نے اپنے لوگوں کی رہنمائی کے لیے شریعت عطا کی۔ خُدا نے اِس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ موسیٰ اُس کا خاص نبی ہے اور اپنے لوگوں کو مصر کی غلامی سے رہائی دینے کے لیے بہت خاص معجزات کئے (خروج 4 باب8 آیت)۔ خُدا نے بنی اسرائیل قوم کو وعدے کی سرزمین میں آباد کرنے کے لیے ایک بار پھر معجزات کئے، اور اُس کے بعد ایلیاہ اور الیشع کے دور میں خُدا نے اپنے نبیوں کی تصدیق کے لیے اور بُت پرستی کا مقابلہ کرنے کے لیے معجزات کئے۔ اُس کے بعد کئی نسلیں کسی بھی طرح کا کوئی معجزہ دیکھے بغیر اور خُدا کی آواز کو براہِ راست سُنے بغیر گزر گئیں۔ اُس وقت بھی غالباً بہت سارے لوگ یہ کہتے ہوئے حیران ہوئے ہونگے کہ ،"خُدا آجکل چھپا ہوا کیوں ہے؟ وہ اپنے آپ کو سب پر واضح طور پر ظاہر کیوں نہیں کرتا؟"

جب خاموشی کے 400 سالوں کے بعد اِس زمین پر خُداوند یسوع آیا تو اُس نے بہت سارے معجزات کئے اور اِس بات کو ثابت کیا کہ وہ حقیقت میں خُدا کا بیٹا ہے ، اور اِس طرح سے اُس نے لوگوں کو دعوت دی کہ وہ اُس پر ایمان لائیں (متی 9باب6آیت؛ یوحنا 10باب 38آیت)۔ اُس کے معجزانہ طور پر مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے بعد، اُس نے اپنے رُسولوں کو یہ ثابت کرنے کے لیے معجزات کرنے کی قوت بخشی کہ وہ اُسی کی طرف سے بھیجے گئے ہیں۔ ایک بار پھر یہ سب کچھ اِس لیے ہوا کہ لوگ یسوع مسیح پر ایمان لائیں اور اُس نئے عہد نامے کی تعلیمات پر غور کریں جسے رسول لکھ رہے تھے۔

اِس بات کی کئی ایک وجوہات ہیں کہ خُدا نے رسولوں کے دور کے بعد قابلِ سماعت انداز سے ہمارے ساتھ کلام کیوں نہیں کیا یا اپنی ذات کے وجود کے لیے کوئی واضح ثبوب کیوں نہیں دیا۔ جیسا کہ اوپر دیکھا جا چکا ہے کہ خُدا نے پہلے ہی سے لوگوں کے ساتھ کلام کر لیا تھا۔ اُس کے کلام کو بڑی وفاداری کے ساتھ قلمبند کر لیا گیا تھا اور گزشتہ ساری صدیوں کے دوران خُدا کا کلام ہمارے پاس اپنی بالکل محفوظ حالت میں موجود ہے۔ بائبل کی صورت میں خُدا کا کلام مکمل ہو چکا ہے۔ خُدا کی طرف سے بتدریج طریقے سے دیا جانے والا اُس کا مکاشفہ مکمل ہو چکا ہے (مکاشفہ 22باب18آیت)۔ ابھی ہمارے پاس خُدا کے کلام کی مُصدقہ کتب کا مجموعہ موجود ہے اور ہمیں مزید ایسے کسی معجزے کی ضرورت نہیں ہے جو بائبل کی صداقت کو ثابت کرے، جس کی تصدیق پہلے ہی سے ہو چکی ہے۔ خُدا کے کامل کلام کے اندر ہر ایک وہ چیز موجود ہے جوہماری "تعلِیم اور اِلزام اور اِصلاح اور راست بازی میں تربِیّت کرنے کے لئے فائدہ مند " ہے(2 تیمتھیس 3باب15آیت)۔ بائبل مُقدس ہمیں " مسیح یِسوع پر اِیمان لانے سے نجات حاصل کرنے کے لئے دانائی بخش " سکتی ہے۔ (2 تیمتھیس 3باب15آیت)۔ یہ "خُدا کا معتبر کلام(معجزات سے زیادہ معتبر) ہے اور ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اِس پر دھیان دیں(2 پطرس 1باب19آیت)۔ ہمیں کسی بھی اور چیز کی ضرورت نہیں ہے اور ہمیں بائبل سے باہر مزید مکاشفات کو تلاش نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کوئی ایسا کرے تو اُس کی وجہ سے اِس بات پر سوال اُٹھایا جائے گا کہ کیا خُدا کی طرف سے مہیا کردہ کلام کافی نہیں ہے۔

لیکن کیا رُوح القدس ہمارے ساتھ کلام نہیں کرتا؟ جی ہا ں وہ کرتا ہے اور وہ اِس دُنیا کے اندر ہمارا مددگار ہے (یوحنا 14باب16آیت)۔ وہ ہمارے شعور کے اندر کام کرتے ہوئے ہماری مدد کر سکتا ہے۔ لیکن اِس بات کو سمجھنا بھی ضروری ہے کہ رُوح القدس ہمیں آج نئے نئے مکاشفات نہیں دے رہا۔ اِس کے برعکس وہ خُدا کے پہلے سے قلمبند کلام کی روشنی میں ہمارے ساتھ کلام کرتا ہے، یہ خُدا کا وہ کلام ہے جسے "رُوح کی تلوار" کہا گیا ہے۔ (افسیوں 6باب17آیت)۔ جب کبھی بھی ہمیں کسی طرح کی رُوحانی ضرورت ہوتی ہے تو رُوح القدس ہمارے ذہن میں مخصوص قسم کا کلام لے کر آتا ہے (یوحنا14باب26آیت)؛ وہ ہمیں نور بخشتا ہے کہ ہم خُدا کے کلام کو سمجھیں اور وہ ہمیں قوت بخشتا ہے کہ ہم خُدا کے کلام کے مطابق زندگی گزاریں۔ لیکن کوئی بھی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ، "رُوح القدس نے آسمان کے بارے میں ایک نئی حقیقت کو مجھ پر ظاہر کیا ہے، جس کا بائبل کے اندر پہلے سے ذکر نہیں کیا گیا تھا۔"یہ چیز کلامِ مُقدس میں اضافہ کرنے کے مترادف اور قیاس آرائی کی انتہا ہوگی۔

خُدا کے اِس دور میں "چھپے" ہونے کے بارے میں حبقوق نبی نے ایک اور اہم بات ہمارے سامنے رکھی ہے: "صادِق اپنے اِیمان سے زِندہ رہے گا۔" (حبقوق 2باب4آیت)خُدا اپنے لوگوں کو معجزاتی نشانات کا کوئی خاص تسلسل نہیں دیتا؛ اُس نے کبھی بھی ایسا نہیں کیا ہے۔ اِس کے برعکس وہ چاہتا ہے کہ اُس کے لوگ اُن چیزوں اور باتوں پر یقین رکھیں جنہیں اُس نے پہلے سے ظاہر کر دیا ہے، اور اُس کے لوگو روز بروز کلامِ مُقدس کی تحقیق کریں، آنکھوں دیکھے پر نہیں بلکہ ایمان کیساتھ زندگی گزاریں (متی 16باب4آیت؛ یوحنا 20باب29آیت؛ 2 کرنتھیوں 5باب 7آیت)۔

اور آخر میں، آئیے اِس بات کو یاد رکھیں کہ حتیٰ کہ اُن اوقات میں بھی جب ایسا محسوس ہوتا ہے کہ خُدا کچھ بھی نہیں کر رہا، وہ اپنی ساری مخلوقات پر مکمل حاکمیت کو قائم رکھے ہوئے ہے، وہ مسلسل طور پر کام کر رہا ہوتا ہےاور یوں وہ اپنے پاک منصوبے کی تکمیل کو ممکن بنا رہا ہوتا ہے۔ خُدا کے مخفی کام کی ایک بہترین مثال آستر کی کتاب ہے جس میں ایک بھی بار خُدا کا ذکر نہیں ہوا، لیکن وہ اُس کتاب میں شروع سے آخر تک اپنی حاکمیت کے ذریعے سے کام کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا بائبل میں اِس قدر واضح اور آجکل اِس قدر چھپا ہو اکیوں ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries