settings icon
share icon
سوال

خُدا گناہ سے نفرت کیوں کرتا ہے ؟

جواب


خُدا گناہ سے نفرت کرتا ہے کیونکہ یہ اُس کی فطرت کے متضاد چیز ہے، بلکہ اُسکی فطرت کی ضد ہے۔ زبور نویس نے گناہ سے خُدا کی نفرت کو کچھ اِس طرح سے بیان کیا ہے۔" تُو اَیسا خُدا نہیں جو شرارت سے خُوش ہو ۔ بدی تیرے ساتھ نہیں رہ سکتی " (5باب4 آیت)۔ خُدا گناہ سے نفرت کرتا ہے کیونکہ وہ خود پاک ہے؛ پاکیزگی اُس کی سب صفات میں سے بلند ترین ہے (یسعیاہ 6باب3 آیت؛ مکاشفہ 6باب8 آیت)۔ اُس کا مکمل وجود پاکیزگی سے پُر ہے۔ اُس کی پاکیزگی اُس کی اخلاقی کاملیت اور اُس کی ذات کے کسی بھی داغ دھبے سے مطلق آزادی کو بیان کرتی ہے (89 زبور 35 آیت؛ 92 زبور 15 آیت؛ رومیوں 9باب14 آیت)۔

بائبل گناہ کے خلاف خُدا کے رویے کو دشمنی، نفرت، سراسر ناپسندیدگی کے شدید احساسات کے ساتھ پیش کرتی ہے۔ مثال کے طور پر گناہ کو سڑے ہوئے گھاؤ (یسعیاہ 1باب6 آیت)،بڑے بوجھ کی مانند بھاری (38 زبور 4 آیت)،ناپاک و آلودہ (ططس 1باب15 آیت؛ 2 کرنتھیوں 7باب1 آیت)،قرض (متی 6باب12-15 آیات)، تاریکی (1 یوحنا 1باب6 آیت) اور قرمزی داغ (یسعیاہ 1باب18 آیت)کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔

خُدا گناہ سے نفرت کرتا ہے اور یہی ایک سادہ سی وجہ ہے کہ کیوں گناہ ہمیں خدا سے جُدا کر دیتا ہے۔ " تمہاری بدکرداری نے تمہارے اور تمہارے خُداکے درمیان جُدائی کر دی ہے اور تمہارے گناہوں نے اُسے تُم سے رُوپوش کِیا اَیسا کہ وہ نہیں سُنتا " (یسعیاہ 59 باب 2 آیت؛ مزید دیکھئے یسعیاہ 13باب11 آیت؛ یرمیاہ 5باب25 آیت)۔ یہ گناہ ہی تھا جس نے آدم اور حوّا کو خُدا کے حضور سے بھاگ کر "باغ کے درختوں میں چھپنے" پر مجبور کیا (پیدایش 3باب8 آیت)۔ گناہ ہمیشہ ہی جُدائی لاتا ہے، اور خُدا کی طرف سے گناہ سے نفرت کرنے کی حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ خُدا ہمارے اور اپنے درمیان جُدائی سے بھی نفرت کرتا ہے۔ اُس کی محبت بحالی کا تقاضا کرتی ہے ، جو کہ حقیقت میں پاکیزگی کا تقاضا کرتی ہے۔

خُدا گناہ کی لطیف فریب کاری کی وجہ سے بھی اِس سے نفرت کرتا ہےجو ہمیں ترغیب دیتی ہے کہ ہم خُدا کی برکات کو نظر انداز کر کے دُنیاوی چیزوں کی لذت پر توجہ مرکوز کریں۔ جن کے گناہ معاف ہو گئے ہیں وہ کہہ سکتے ہیں کہ " تُو مُجھے زِندگی کی راہ دِکھائے گا۔ تیرے حضُور میں کامِل شادمانی ہے ۔ تیرے دہنے ہاتھ میں دائمی خُوشی ہے " (16 زبور 11 آیت)۔ گناہ کے پیچھے بھاگنا اُس خُدا کی نعمتوں سے منہ موڑنا ہے جس کے پاس ہمارے لیے "سلامتی کے خیالات ۔" ہیں تاکہ وہ ہمیں نیک انجام کی اُمید بخشے (یرمیاہ 29باب11 آیت)۔ گناہ کے لیے خُدا کی نفرت کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے لوگوں سے محبت رکھتا ہےا ور اُنہیں برکت دینا چاہتا ہے۔

خُدا کی طرف سے گناہ سے نفرت کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ گناہ ہمیں ایسا اندھا کر دیتا ہے کہ ہم سچائی کو نہیں دیکھ پاتے۔ خُداوند یسوع نے جھوٹے اُستادوں کو "اندھےراہ بتانے "والوں سے تشبیہ دی ہے (متی 15باب14 آیت)۔ یوحنا کہتا ہے کہ وہ شخص جو اپنے بھائی سے نفرت کرتا ہے " یہ نہیں جانتا کہ کہاں جاتا ہے کیونکہ تارِیکی نے اُس کی آنکھیں اَندھی کر دی ہیں" (1 یوحنا 2باب11 آیت)۔گناہ کے خطرناک نتائج ہوتے ہیں جن کو گناہگار اکثر نظر انداز کرتا ہے " فریب نہ کھاؤ ۔ خُدا ٹھٹھوں میں نہیں اُڑایا جاتا کیونکہ آدمی جو کچھ بوتا ہے وُہی کاٹے گا "(گلتیوں 6باب7 آیت؛ مزید دیکھئے گنتی 32باب23 آیت)۔ خُدا گناہ سے اُسی وجہ سے نفرت کرتا ہے جس وجہ سے روشنی اندھیرے سے نفرت کرتی ہے اور سچ جھوٹ سے نفرت کرتا ہے۔ خُدا چاہتا ہے کہ اُس کے فرزند" پُوری سمجھ کی تمام دَولت کو حاصل کریں " (کلسیوں 2باب2 آیت)، صرف گناہ ہی اُن کی راہ میں رکاوٹ بنتا ہے۔

خُدا گناہ سے نفرت کرتا ہے کیونکہ یہ ہمیں غلام بناتا ہے اور پھر بالآخر ہمیں ہلاک کر دیتا ہے۔ جس طرح سے سمسون کا گناہ اُس کے جسمانی اندھے پن اور قید کا باعث بنا، اِسی طرح ہمارا گناہ بھی ہمارے رُوحانی اندھے پن اور غلامی کا سبب بنتا ہے " کیا تم نہیں جانتے کہ جس کی فرمانبرداری کے لئے اپنے آپ کو غُلاموں کی طرح حوالہ کر دیتے ہو اُسی کے غُلام ہو جس کے فرمانبردار ہو خواہ گُناہ کے جس کا انجام مَوت ہے خواہ فرمانبرداری کے جس کا انجام راست بازی ہے؟" (رومیوں 6باب16 آیت)۔ خُدا زندگی کا سرچشمہ ہے اور وہ ابدی طور پر اپنی اُس زندگی کو سب ایمان لانے والوں کو عطا کرے گا۔ گناہ ہماری طرف سے زندگی کو قبول کرنے میں رکاوٹ ڈالتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ خُدا اُس سے نفرت کرتا ہے۔

خُد اگناہ سے نفرت کرتا ہے کیونکہ یہ خُداکے لیے ہماری محبت کو کم کرتا ہے۔ بائبل مُقدس میں بیان کیا گیا ہے کہ " نہ دُنیا سے مُحبّت رکھّو نہ اُن چیزوں سے جو دُنیا میں ہیں ۔ جو کوئی دُنیا سے مُحبّت رکھتا ہے اُس میں باپ کی مُحبّت نہیں۔کیونکہ جو کچھ دُنیا میں ہے یعنی جسم کی خواہش اور آنکھوں کی خواہش اور زِندگی کی شیخی وہ باپ کی طرف سے نہیں بلکہ دُنیاکی طرف سے ہے" (1 یوحنا 2باب15-16 آیات)۔ یعقوب ہمیں دُنیا کو گلے لگانے کے خطرے کے بارے میں خبردار کرتا ہے" اَے زِنا کرنے والیو! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ دُنیاسے دوستی رکھنا خُدا سے دُشمنی کرنا ہے؟ پس جو کوئی دُنیا کا دوست بننا چاہتا ہے وہ اپنے آپ کو خُدا کا دُشمن بناتا ہے " (یعقوب 4باب4 آیت)۔ کوئی شخص دو مالکوں کی خدمت نہیں کر سکتا (لوقا 16باب13 آیت)، اور ہمیں گناہ اور راستبازی میں سے کسی ایک کا چناؤ کرنا ہوگا۔

بطورِ ایماندار ہمیں بھی گناہ سے اُسی طرح نفرت کرنی چاہیے جیسے خُدا گناہ سے نفرت کرتا ہے۔ ہم "نور کے فرزند اور دِن کے فرزند" ہیں ہم نہ رات کے ہیں نہ تاریکی کے (1 تھسلنیکیوں 5باب5 آیت)۔ ہمیں اِس بات کا ادراک ہونا چاہیے کہ خُدا نے ہمیں " ایک برگُزِیدہ نسل ۔ شاہی کاہِنوں کا فِرقہ ۔ مُقدّس قَوم اور اَیسی اُمّت ۔۔۔ جو خُدا کی خاص ملکیت " ہے ہونے کے لیے الگ کیا ہے (1 پطرس 2باب9 آیت)۔ ہم اپنے طور پر پاک نہیں ہو سکتے، لیکن خُدا ہمیں اپنا رُوح القدس عطا کرتا ہے جو ہماری تقدیس کرتا ہے (2 تھسلنیکیوں 2باب13 آیت)۔ اُس کا ہمارے ساتھ وعدہ ہے کہ گناہ کے خلاف ہماری جدوجہد میں وہ ہماری مدد کرے گا (1 کرنتھیوں 1باب8 آیت)۔

ہم گناہ سے اِس لیے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں خُدا سے جُدا کرتا ہے۔ ہم گناہ سے اِس وجہ سے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ ہماری محبت کم کرتے ہوئے ہمارے ضمیر کو دھندلا دیتا ہے۔ ہم اِس سے اِس لیے نفرت کرتے ہیں کیونکہ یہ خُدا کے رُوح کو رنجیدہ کرتا ہے (افسیوں 4باب30 آیت)۔ پاک خُدا کے سامنے ہماری بھی پولس کی طرح یہ دُعا ہے کہ " خُدا جو اِطمِینان کا چشمہ ہے آپ ہی تم کو بِالکُل پاک کرے اور تمہاری رُوح اور جان اور بدن ہمارے خُداوند یِسوع مسیح کے آنے تک پُورے پُورے اور بے عیب محفُوظ رہیں " (1 تھسلنیکیوں 5باب23 آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا گناہ سے نفرت کیوں کرتا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries