settings icon
share icon
سوال

خُدا نے شیطان اور بد ارواح کو گناہ کرنے کی اجازت کیوں دی؟

جواب


خُدا نے انسانوں اور فرشتوں دونوں کو انتخاب کرنے کا اختیار دیا تھا۔ گوکہ بائبل شیطان اور گرائے گئے فرشتوں کی بغاوت کے بارے میں زیادہ تفصیل پیش نہیں کرتی مگر ایسا لگتا ہے کہ شیطان جو تمام فرشتوں میں غالباًسب سے بڑا تھا (حزقی ایل 28باب 12-18آیات)اُس نے تکبرکیا اور خُدا کی مانند بننے کی کوشش میں خُدا کے خلاف بغاوت کی تھی ۔ شیطان (لوسیفرLucifer ) خُدا کی پرستش یا فرمانبرداری نہیں کرنا چاہتا تھا اِس کے برعکس وہ خُود خُدا بننا چاہتا تھا (یسعیاہ14باب 12-14آیات)۔ مکاشفہ 12باب 4آیت کو اُن گرائے گئے تہائی فرشتوں کے بارے میں علامتی بیان سمجھا جاتا ہے جنہوں نے خدا کے خلاف شیطان کی بغاوت میں اُس کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا اور اِس طرح شیطان کے یہ پیروکار– گرائے گئے فرشتے – بد ارواح بنے ۔

تاہم بنی نو ع انسان کے برعکس شیطان کی پیروی کرنے یا خدا کے ساتھ وفادار رہنے کا فرشتوں کا فیصلہ ایک ابدی نوعیت کا فیصلہ تھا ۔ بائبل کے مطابق گرائے گئے فرشتوں کے پاس توبہ کرنے اور اپنے گناہوں سے معافی مانگنے کا کوئی موقع نہیں ۔ اور نہ ہی بائبل مزید فرشتوں کے گناہ کرنے کے امکان کے بارے میں کوئی اشارہ کرتی ہے ۔ وہ فرشتے جو خُدا کے ساتھ وفادار رہے اُن کو "برگزیدہ فرشتوں" کے طور پر بیان کیا گیا ہے (1تیمتھیس 5باب 21آیت)۔ شیطان اور گرائے گئے فرشتے خُدا کی تمام شان و شوکت سے واقف تھے ۔خُدا کی ذات کےبارے میں ساری حقیقت کو جاننے کے باوجود خُدا کے خلاف بغاوت کرنا اُن کےلیے انتہائی بڑا گناہ تھا ۔ اِس وجہ سے خُدا شیطان اور دوسرے گرائے گئے فرشتوں کو توبہ کرنے کا موقع فراہم نہیں کرتا۔ نیز بائبل ہمیں یقین کرنے کے لیے ایسی کوئی دلیل بھی نہیں دیتی کہ اگر خُدا شیطان اور گرائے گئے فرشتوں کو توبہ کرنے کا موقع دے تو وہ توبہ کریں گے۔ (1پطرس 5باب 8آیت)۔ خُدا نے شیطان اور فرشتوں کے سامنے بھی ویسا ہی انتخاب رکھا تھا جیسا اُس نے آدم اور حوا کے سامنے رکھا تھا یعنی فرشتے خدا کی فرمانبرداری یا نافرمانی کرنے میں کسی بات کا بھی انتخاب کر سکتے ۔ فرشتے فیصلہ کرنے میں آزاد تھے کیونکہ خُدا نے فرشتوں میں سے کسی کو بھی گناہ کرنے کے لئے نہ تو مجبور کیا تھا اورنہ اُن کی حوصلہ افزائی کی تھی۔ شیطان اور گرائے گئے فرشتوں نے اپنی آزاد مرضی سے گناہ کیا تھا اِس لئے اب وہ خدا کے ابدی غضب یعنی آگ کی جھیل میں ڈالے جانے کے مستحق ہیں ۔

جب خُدا جانتا تھا کہ نتیجہ کیا ہو گا تو خُدا نے فرشتوں کو آزاد مرضی کیوں دی؟ خُدا جانتا تھا کہ تہائی فرشتے اُس کے خلاف بغاوت کریں گے اور ابدی ہلاکت کے مستحق ٹھہریں گے۔ خُدا یہ بھی جانتا تھا کہ شیطان انسان کو گناہ کی آزمائش میں مبتلا کرنے کے وسیلہ سے اپنی بغاوت کو مزید ترقی دے گا۔ لہذاخُدا نے ایسا کیوں ہونے دیا؟ بائبل اِس سوال کا جواب واضح طور پر نہیں دیتی۔ کیونکہ ایسا سوال قریباً کسی بھی بُرائی کے بارے کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً خُدا فلاں فلاں بُرے کام کو کیوں ہونے دیتا ہے؟ آخر میں بات پھر خدا کی حاکمیت پر آجاتی ہے جو اُسے اپنی تخلیق پرحاصل ہے ۔ زبور نویس بیان کرتا ہے کہ" خُدا کی راہ کامل ہے" (18زبور 30آیت )۔ پس اگر خُدا کی سب راہیں "کامل" ہیں تو ہم ایمان رکھ سکتے ہیں کہ جو کچھ وہ کرتا ہےاور جو کچھ وہ ہونے دیتا ہے سب کامل ہے۔ لہذا گناہ کی اجازت دے دینا بھی ہمارے کامل خُدا کا کامل منصوبہ تھا ۔ جیسا کہ یسعیاہ 55باب 8- 9آیات میں خدا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ " میرے خیال تمہارے خیال نہیں اور نہ تمہاری راہیں میری راہیں ہیں۔ "

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا نے شیطان اور بد ارواح کو گناہ کرنے کی اجازت کیوں دی؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries