settings icon
share icon
سوال

خُدا شیطان کو ہم پر حملہ کرنے کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟

جواب


ہمارے خلاف شیطان کے حملےمختلف طریقوں سے ہوتے ہیں ۔ (1) وہ ہمیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے ہمارے اندر جسمانی شہوت کو ابھارنے کے لیے اُس گناہ آلوددُنیا کو استعمال کرتا ہے جس پر اُس کا اختیار ہے (1 یوحنا 5باب19آیت)۔ (2) وہ خُدا کی سچائی کی مخالفت کرنے کے لیے غیر ایماندار دُنیا کو دُنیاوی "حکمت" استعمال کرتے ہوئے ہمیں آزمانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ (3) وہ کسی جھوٹی انجیل کے کسی جھوٹے یسوع کی پیروی کروانے کے ذریعے ہمیں گمراہ کرنے کے لیے جھوٹے مسیحیوں کو استعمال کرتا ہے۔ (4)کئی بار وہ ہمیں یا ہمارے پیاروں کو جسمانی طور پر بیماری، جرم، حادثے یا ایذا رسانی کے ساتھ دُکھ دیتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ خُدا اِس ساری کائنات کا واحد حاکمِ اعلیٰ ہے کئی دفعہ ہم فطری طور پر یہ سوال پوچھتے ہیں کہ خُدا کیوں شیطان کو اِن طریقوں سے ہم پر حملے کرنے کی اجازت دیتا ہے؟

بائبل بیان کرتی ہے کہ خُدا شیطان کو ایک خاص حد تک اپنا کام کرنے کی اجازت یا آزادی دیتا ہے (دیکھئے ایوب 1باب12آیت)، لیکن وہ آزادی یا اجازت ہمیشہ ہی محدود ہوتی ہے۔ شیطان ہر وہ کام نہیں کر سکتا جسے کرنے کی اُسکی خواہش ہوتی ہے۔ شیطان خُدا کے فرزندوں پر حملے کرنے کا انتخاب کرتا ہے (1 پطرست 5باب8آیت) اور اُس کا کام کرنے کا طریقہ ہمیشہ ہی بدی پر مشتمل ہوتا ہے؛ شیطان خونی ہے (یوحنا 8باب44آیت)۔ اِس کے برعکس خُدا کی طرف سے اُس کے بچّوں پر جب شیطان کے کچھ حملو ں کی اجازت دی جاتی ہے تو ہمیشہ ہی اچھی ہوتی ہے، خُدا اپنے بچّوں سے پیار کرتا ہے (1 یوحنا 4باب16آیت)۔ یوسف نے اپنی زندگی کے اندر بہت سارے شیطانی حملوں کا سامنا کیا، لیکن آخر میں وہ بڑے ہی اعتماد کے ساتھ ایک ہی طرح کے واقعات کے پیچھے دو متضاد مقاصد کو بیان کرسکتا تھا: "تم نے تو مجھ سے بدی کرنے کا اِرادہ کِیا تھا لیکن خُدا نے اُسی سے نیکی کا قصد کِیا " (پیدایش 50باب20 آیت)۔

جو کچھ شیطان کرتا ہے اُس کے لیے ہم خُدا کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا سکتے۔ شیطان کے حملے کا شکار ہونے کے لیے ہماری کمزوری کا آغاز باغِ عدن میں اُس وقت ہوا جب آدم نے شیطان کی جھوٹی تجاویز پر یقین کرنے کا انتخاب کیا۔ جس وق شیطان نے ایوب پر حملہ کیا اور اُس سے اُس کا خاندا، دولت اور حتیٰ کہ صحت بھی چھین لی تو اُس وقت ایوب نے خُدا کو موردِ الزام نہیں ٹھہرا یا تھا۔ ایوب 1باب21-22 آیات پر غور کریں، "اور(ایوب نے) کہا ننگا مَیں اپنی ماں کے پیٹ سے نکلا اور ننگاہی واپس جاؤں گا ۔ خُداوند نے دِیا اور خُداوند نے لے لِیا ۔ خُداوند کا نام مُبارک ہو۔اِن سب باتوں میں ایُّوب نے نہ تو گُناہ کِیا اور نہ خُدا پر بیجا کام کا عیب لگایا۔ "

جب ایماندار شیطان کے حملوں کا سامنا کرتے ہیں تو اُس وقت وہ رومیوں 8باب28 آیت کی سچائی پر یقین کر سکتے ہیں "اور ہم کو معلوم ہے کہ سب چیزیں مِل کر خُدا سے مُحبّت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لئے جو خُدا کے اِرادہ کے مُوافق بُلائے گئے۔ " اِس لیے قیاس کیا جاتا ہے کہ ہم "اچھی" اور "بُری" چیزوں کا تجربہ کریں گے، لیکن یہ "سب" چیزیں " آخر میں ہمارے لیے "بھلائی" پیدا کریں گی جیسا کہ خُدا نے اُن کے وسیلے سے ٹھہرا رکھا ہے۔ تو پھر حتیٰ کہ شیطان کے حملے بھی، اگرچہ وہ بُرے بھی ہوں، ہمارے لیے "اچھے" نتائج کاباعث بنیں گے کیونکہ خُدا ہمیں مسیح کا ہمشکل بننے میں مدد کرنے کے لیے اُنہیں استعمال کرے گا (رومیوں 8باب29 آیت)۔ شیطان کی طرف سے حملے بشمول دیگر ہر طرح کی مصیبتیں ایمانداروں کے لیے خُدا کو اور زیادہ محبت کرنے ، شیطان کا اور زیادہ مقابلہ کرنے، صبر و تحمل کا اور زیادہ مظاہرہ کرنے، اپنے ایمان میں اور زیادہ بڑھنے اور مزید بہت سارے رُوحانی فائدوں کا باعث بن سکتی ہیں۔ خُدا کی حتمی حفاظت کے لیے اُس کا شکر ہو۔ ہر ایک چیز کے ہونے میں جو اُس کا منصوبہ ہے –حتیٰ کہ ہم پر شیطان کے حملے بھی –"ملکر آپکے لیے بھلائی پیدا کریں گے!"

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

خُدا شیطان کو ہم پر حملہ کرنے کی اجازت کیوں دیتا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries