settings icon
share icon
سوال

کیا یسوع جمعہ کے روز مصلوب ہوا تھا؟

جواب


بائبل ہمیں بالکل واضح طور پر یہ نہیں بتاتی کی ہفتے کے کونسے دن یسوع مصلوب ہوا تھا۔ دو بہت ہی عام نظریات جو اِس حوالے سے پائے جاتے ہیں اُن میں سے ایک کے مطابق یسوع بُدھ کے روز مصلوب ہوا تھا، جبکہ دوسرے نظریے کے مطابق وہ جُمعے کو مصلوب ہوا تھا۔ کچھ لوگ بُدھ اور جُمعے کے دِنوں کے حوالے سے پیش کئے جانے والے دلائل کی آمیزش کر کے یسوع کی مصلوبیت کا دن جمعرات قرار دیتے ہیں۔

خُداوند یسوع نے متی 12باب 40آیت میں کہا تھا کہ "کیونکہ جیسے یُو ناہ تین رات دِن مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی اِبنِ آدم تین رات دِن زمین کے اندر رہے گا۔" اب وہ لوگ جو جُمعے کے روز یسوع کی مصلوبیت کے لیے دلیل پیش کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ابھی بھی ہمارے پاس ایک طریقہ ہے جس سے یہ ثابت کیا جا سکتا ہے کہ یسوع تین دن تک قبر کے اندر رہا تھا۔ پہلی صدی کے یہودیوں کے تصورات کے مطابق دن چوبیس گھنٹوں کو نہیں بلکہ دن اوررات کے صرف اُس حصے کو کہا جاتا تھا جس میں سورج کی روشنی نظر آتی ہے، یعنی صبح سے شام تک کا وقت دن کہلاتا تھا۔ اب چونکہ یسوع کا بدن جُمعے کے دن کے کچھ حصے ، ہفتے کے سارے دِن اور اتوار کے دن کے کچھ حصے تک قبر میں رہا تھا اِس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یسوع تین دن تک قبر میں رہا تھا۔ جُمعے کے دن یسوع کی مصلوبیت کے لیے دلیل پیش کرنے والوں کی پشت پناہی کے لیے مرقس 15باب 42 آیت کا حوالہ پیش کیا جاتا ہے جہاں پر مرقوم ہے کہ جس دن یسوع مصلوب کیا گیا وہ"تیاری کا دن تھا جو سبت سے ایک دِن پہلے ہوتا ہے۔"اب اگر تو وہ ہفتہ وار سبت تھا یعنی ہفتے کے روز منایا جانے والا سبت تو پھر تو اوپر کے بیان کی روشنی میں مصلوبیت کا دن لازمی طور پر جُمعہ ہی تھا۔ جُمعے کے روز یسوع کی مصلوبیت کی حمایت کرنے والے ایک اور دلیل یہ بھی پیش کرتے ہیں کہ متی 16باب 21 آیت اور لوقا 9باب22آیت یہ تعلیم دیتی ہیں کہ یسوع تیسرے دن مُردوں میں سے جی اُٹھے گا، اِس لیے اُس پورے تین دن اور تین رات تک قبر کے اندر رہنے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ چند ایک تراجم اِن آیات کا ترجمہ اِس طرح سے کرتے ہیں کہ "تیسرے دن" جی اُٹھے گا، سبھی تراجم اور مترجمین اِس بات پر اتفاق نہیں کرتے کہ "تیسرے دن جی اُٹھے گا" اِن آیات کا صحتمند ترجمہ ہے۔ مزید برآں مرقس 8باب31 آیت بیان کرتی ہے کہ یسوع "تین دن کے بعد جی اُٹھے" گا۔

جمعرات کے روز یسوع کی مصلوبیت کا نظریہ رکھنے والے در اصل جُمعے ہی کے روز اُس کی مصلوبیت کے نظریے کی مزید وضاحت کرتے ہیں، اور وہ عام طور پر یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ جُمعے کی شام یعنی مسیح کی تدفین سے لیکر اتوار کی صبح یعنی یسوع کے جی اُٹھنے کے درمیان بہت سارے واقعات وقوع پذیر ہوئے تھے (کچھ کے نزدیک تو قریباً بیس کے قریب واقعات اِس سارے دورانیے میں ہوئے تھے۔)ابھی جُمعرات کے دن یسوع کے مصلوب ہونے کی دلیل پیش کرنے والے کہتے ہیں کہ اگر کہا جائے کہ یسوع جُمعے ہی کو مصلوب ہوا تھا تو مسئلہ یہ ہے کہ اُس کی موت اور اُس کے جی اُٹھنے کے درمیان مکمل دن تو ایک ہی تھا یعنی ہفتہ جو یہودیوں کا سبت تھا۔ ابھی اِس جُمعے کے دن یسوع کی مصلوبیت کے نظریے میں اگر ہم ایک یا دو دن کا اضافہ کر دیں تو سارا مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ اِس نظریے کی حمایت کرنے والے اِس کے لیے مزید دلیل کچھ اِس طرح سے پیش کرتے ہیں کہ : فرض کریں کہ آپ کی اپنے دوست کے ساتھ گزشتہ ملاقات سوموار کی شام کو ہوئی تھی اور پھر اُس کے بعد آپکی اُس کیساتھ ملاقات جمعرات کی صبح کو ہوتی ہے اور آپ اُسے کہتے ہیں کہ "مَیں نے تین دن سے تمہیں دیکھا ہی نہیں " حالانکہ اگر دیکھا جائے تو یہ سارا دورانیہ قریباً ساٹھ گھنٹے (اڑھائی دن ) بنتا ہے۔ پس اگر یسوع جمعرات کے دن مصلوب ہوا تھا تو پھر اِس مثال کے تحت کہا جا سکتا ہے کہ وہ تین دن اور رات قبر میں رہا تھا۔

بُدھ کے دن یسوع کی مصلوبیت کا نظریہ پیش کرنے والے کہتے ہیں کہ سال کے اُس خاص حصے میں یہودیوں کے دو سبت ہوا کرتے تھے۔ ابھی غور کرنے کی بات یہ ہے کہ پہلے سبت کے بعدجو اُس دن کی شام کو شروع ہو گیا تھا جب یسوع مصلوب ہوا تھا (مرقس 15باب 42 آیت؛ لوقا 23 باب 52-54آیات ) عورتوں نے جا کر خوشبودار چیزیں مول لیں (مرقس 16باب 1آیت)۔ بُدھ کے دن یسوع کی مصلوبیت کا نظریہ رکھنے والے کہتے ہیں کہ جس سبت کی یہاں پر بات کی جا رہی ہے وہ دراصل "فسح" تھا (دیکھئے احبار 16باب 29-31آیات؛ 23باب24-32، 39 آیات۔ یہاں پر دیکھا جا سکتا ہے کہ یہودیوں اپنے پاک ترین دِنوں میں صرف ہفتے کے دِن کو ہی سبت نہیں مانتے تھے۔ ) اور پھر جس دوسرے سبت کی بات کی جار ہی ہے جس کے بعد عورتیں قبر پر گئیں اوراُنہوں نے جانا کہ یسوع جی اُٹھا ہے دراصل ہفتہ وار سبت تھا۔ یہاں پر اِس بات پر دھیان دیں کہ اُن عورتوں نے پہلے سبت یعنی "فسح" (جو غالباً بُدھ کا دن تھا)کے بعد خوشبودار چیزیں مول لیں، اُنہوں نے اپنے گھر جا کر اُنہیں تیار کیا، پھر اُنہوں نے سبت کے دن (یعنی ہفتے کے روز) آرام کیا اور سبت کے اگلے دن وہ قبر پر پہنچیں۔ یہاں پر دلیل یہ دی جاتی ہے کہ جب تک یہاں پر دو سبتوں کے تصور کو نہ مانا جائے تو وہ سب باتیں جو بیان کی گئی ہیں وہ پوری ہوتی نظر نہیں آتیں، یعنی ایسا ممکن نہیں ہے کہ وہ عورتیں سبت کے بعد خوشبودار چیزیں خریدتیں، اورپھر سبت سے پہلے اُن کو تیار کرتیں اور سبت کے دن آرام کرنے کے بعد وہ سب قبر پر لے کر جاتیں۔ ابھی دو سبتوں کے ماننے والوں کے مطابق اگر یسوع کی مصلوبیت جمعرات کو ہوئی تھی تو جمعرات کی شام کو فسح کا سبت شروع ہو گیا ہوگا، پھر جب وہ سبت جُمعے کی شام کو ختم ہوا ہوگا تو ہفتے والے دن کا دوسرا سبت شروع ہو گیا ہوگا۔ ایسے میں اُن عورتوں کے پاس خوشبودار چیزوں کو خریدنے اور پھر اُنہیں تیار کرنے کے لیے قطعی طور پر کوئی مناسب وقت نہیں بچتا۔ اگر وہ ہفتے والے دن یعنی سبت کو وہ چیزیں خرید کر تیار کرتیں تو وہ شریعت کی حکم عدولی کرتیں۔

اِس لیے بُدھ کے دن خُداوند یسوع کی مصلوبیت کا نظریہ رکھنے والوں کے مطابق وہ واحد وضاحت جو بائبل کےعورتوں اور خوشبودار چیزوں کے کسی بھی بیان کی تردید نہیں کرتی اور متی 12باب 40 آیت کا درست ترجمہ اور تفسیر پیش کرتی ہے یہی ہے کہ یسوع بُدھ کے دن مصلوب ہوا تھا۔ اُس کے بعد اگلا دن یعنی جمعرات یہودی مذہبی روایت کے مطابق اُس سال پاک ترین دن (فسح) کا سبت تھا، اُس سے اگلے دن یعنی جُمعے کو عورتوں نے بازار سے خوشبودار چیزیں خریدیں اور اُسی دن اُنہیں تیار کیا، پھر اُس سے اگلے دن یعنی ہفتے کے سبت کو اُنہوں نے آرام کیا اور اتوار کی صبح وہ خوشبودار چیزیں لیکر قبر پر آئیں۔ یسوع کی تدفین بُدھ کے دن سورج غروب ہونے سے تھوڑی دیر پہلے کر دی گئی تھی اور اُس کے کچھ لمحوں بعد یہودی اوقات کار کے مطابق جمعرات کا دن شروع ہو گیا تھا۔ ابھی ہم اگر اِس سب کو یہودی کیلنڈرکے مطابق دیکھیں جمعرات کی رات (پہلی رات)، جمعرات کا دن (پہلا دن ) جُمعے کی رات (دوسری رات) جُمعے کا دن (دوسرا دن) ہفتے یعنی سبت کی رات (تیسری رات) اور ہفتے کا دن (تیسرا دن) بنتا ہے۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ خُداوند یسوع اتوار کی صبح کس وقت مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا لیکن ہم یہ ضرور جانتے ہیں کہ وہ سورج نکلنے سے پہلے جی اُٹھا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ ہفتے والے دن کی شام کو سورج کے غروب ہونے کے بعد کسی بھی وقت جی اُٹھا ہو، ہفتے والے دن کے اختتام پر یہودیوں کا اگلے ہفتے کا پہلا دن شروع ہو جاتا ہے۔ اور یسوع کی خالی قبر کی دریافت اگلے دن صبح صبح (مرقس 16باب 2آیت)، ایسے تڑکے کہ ابھی اندھیرا ہی تھا(یوحنا 20باب 1 آیت) ہوئی ہو۔

ابھی بُدھ کے دن کو خُداوند کی مصلوبیت کا دن ماننے کے نظریے کے حوالے سے ایک اہم مسئلہ سامنے آتا ہے، اور وہ یہ ہے کہ اماؤس کی راہ پر جانے والے دو شاگردوں کی ملاقات یسوع کے ساتھ اُسی دن ہوئی تھی جس دن وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تھا(لوقا 24باب 13آیت)۔ وہ دو شاگرد جنہوں نے یسوع کو نہیں پہچانا تھا اُنہوں نے یروشلیم میں مسیح کے مصلوب ہونے کے بارے میں اُسے خبر دیتے ہوئے (لوقا 24باب21آیت) یہ کہا تھا کہ "اِس ماجرے کو آج تیسرا دن ہو گیا"(لوقا 24باب22آیت)۔ اگر یسوع بُدھ کو مصلوب ہوا تھا اور یسوع اماؤس کی راہ پر جانے والے شاگردوں سے اتوار کی شام کو ملا تھا تو پھر اِس بات کو تیسرا نہیں بلکہ چوتھا دن بنتا ہے۔ اِس بات کی ایک ممکنہ وضاحت یہ پیش کی جاتی ہے یا کی جا سکتی ہے کہ ہو سکتا ہے کہ وہ دِنوں کا حساب یسوع کی تدفین کے وقت سے لگا رہے ہوں، یعنی یسوع کی تدفین بُدھ کی شام کو کی گئی اور جمعرات کا دن اِس کے لیے قبر میں پہلا دن تھا۔ اِس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اتوار کے دن تک اُس ماجرے کوواقع ہوئے تین دن بنتے ہیں۔

اگر ہم اِس کو بڑے پیمانے پر دیکھیں تو اِس بات سے قطعی طور پر کوئی فرق نہیں پڑتا کہ یسوع کس دن مصلوب ہوا تھا، اگر یہ بات اِسی قدر اہم ہوتی تو خُدا کا کلام بڑے واضح طور پر اُس دن اور مخصوص وقت کے بارے میں بیان کرتا۔ اہم ترین بات یہ ہے کہ وہ واقعی ہی جسمانی طور پر صلیب پر مصلوب ہو کر مرا اور پھر اپنے بدن میں جی اُٹھا تھا۔ اِس کے ساتھ ساتھ اتنی ہی اہم بات اُس کے صلیب پر مرنے کا مقصد بھی ہے– اُس نے تمام گناہگاروں کے گناہوں کا بوجھ اپنے اوپر لے لیا۔ یوحنا 3باب 16 آیت اور 3 باب 36 آیت یہ دعوی ٰ کرتی ہیں کہ جو کوئی یسوع پر ایمان لاتا ہے وہ ابدی زندگی پاتا ہے۔ یسوع چاہے بُدھ کو مصلوب ہوا ہو یا پھر جُمعے کو مصلوب ہوا ہو اُس کے صلیب پر جان دینے سے تمام ایمانداروں کو گناہوں سے چھٹکارہ اور ہمیشہ کی زندگی ملتی ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

کیا یسوع جُمعے کے روز مصلوب ہوا تھا؟اگر ایسا ہے تو چونکہ وہ اتوار کے دن جی اُٹھا تھا پھر اُس نے قبر میں تین دن کیسے گزارے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries