مجھے خُدا باپ کے تصور کو کس طرح سے سمجھنا چاہیے؟


سوال: مجھے خُدا باپ کے تصور کو کس طرح سے سمجھنا چاہیے؟

جواب:
"دیکھو باپ نے ہم سے کیسی محبّت کی ہے کہ ہم خُدا کے فرزند کہلائے اور ہم ہیں بھی ۔ دُنیا ہمیں اِس لئے نہیں جانتی کہ اُس نے اُسے بھی نہیں جانا"(1یوحنا 3باب 1آیت)۔ یہ آیت اس اصراری لفظ "دیکھو"کے ساتھ شروع ہوتی ہے ۔ یوحنا چاہتا ہے کہ ہم خدا باپ کی محبت کے اظہار کا مشاہدہ کریں۔ وہ پچھلے باب ( 1یوحنا 2باب 5، اور 15آیت) میں خدا کی محبت کے موضوع کو متعارف کراتا ہے، تیسرے باب میں اُ س محبت کے بارے میں مختصر طور پر بیان کرتا ہے اور چوتھے باب میں اِس کی مکمل وضاحت کرتا ہے ۔ یوحنا کا مقصد اس بات کو بیان کرنا ہے کہ خدا باپ اپنے بچّوں سے " کیسی محبت" رکھتا ہے ۔ وہ یونانی لفظ جس کا ترجمہ "کیسی" کیا گیا ہے نئے عہد نامے میں صرف چھ بار استعمال ہوا ہے اور ہمیشہ تعجب اور تعریف و ستائش کی جانب اشارہ کرتاہے ۔

یہاں دلچسپ بات یہ ہے کہ یوحنا یہ نہیں کہتا کہ " باپ ہم سے محبت کرتا ہے "۔ اگر وہ ایسا کرتا تو اُس صورت میں وہ ایک حالت کو بیان کر رہا ہوتا۔ اس کے بجائے وہ ہمیں بتاتا ہے کہ خدا باپ نے ہم سے "بے انتہا محبت" کی ہے اور اس طرح وہ خدا کی محبت کے عمل اور حد کی تصویر پیش کرتا ہے۔ یہاں یہ بات بھی دلچسپی کی حامل ہے کہ یوحنا نے لفظ " باپ " کا انتخاب خاص مقصد کے تحت کیا ہے ۔ یہ لفظ باپ اور بیٹے کے درمیانی رشتے کو ظاہر کرتا ہے ۔ تاہم خدا نے جب ہمیں لے پالک بچّوں کے طور پر قبول کیا تھا تو وہ محض اُس وقت باپ نہیں بنا تھا ۔ خدا ابدی طور پر باپ ہے ۔وہ ازل سے یسوع مسیح کا باپ ہے اور یسوع کے وسیلہ سے وہ ہمارا بھی باپ ہے ۔ یسوع کے وسیلے سے ہم خدا باپ کی محبت کا تجربہ حاصل کرتےہیں اور " خدا کے فرزند" کہلاتے ہیں ۔

یہ کیسے اعزاز کی بات ہے کہ خدا ہمیں اپنے فرزند کہتااور ہمیں یہ یقین دہانی کراتا ہے کہ اُس کے بچّوں کی حیثیت سے ہم " وارث اور مسیح کے ہم میراث " ہیں (رومیوں 8باب 17آیت)۔ اپنی انجیل میں یوحنا رسول نے ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ خدا اُن تمام لوگوں کو اپنے فرزند بننے کا حق بخشتا ہے جو ایمان سے مسیح کو اپنے خداوند اور نجات دہندہ کی حیثیت سے قبول کرتے ہیں (یوحنا 1باب 12آیت)۔ خدا اپنی محبت اپنے بیٹے یسوع مسیح اور اُس کے وسیلے سے اپنے لے پالک بچّوں تک پھیلاتا ہے ۔

یوحنا رسول جب ہمیں یہ بتاتا ہے کہ " ہم خُدا کے فرزند کہلائے اور ہم ہیں بھی " تو درحقیقت وہ ہمارے رتبے کا اعلان کر رہا ہے ۔ ابھی اوراسی وقت بھی ہم اُس کے فرزند ہیں ۔ دوسرے الفاظ میں یہ کوئی ایسا وعدہ نہیں جسے خدا مستقبل میں پورا کرےگا ۔ بلکہ سچ تو یہ ہے کہ ہم پہلے ہی خدا کے فرزند ہیں ۔ کیونکہ ہم خدا کو اپنے باپ کی حیثیت سے قبول کر چکے ہیں اس لیے خدا کے فرزندوں کی حیثیت سے ہم تمام اختیارات و استحقاق سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ اُس کے بچّوں کی حیثیت سے ہم اُس کی محبت کا تجربہ کرتے ہیں ۔ اُس کے فرزند ہونے کے ناطے ہم اُسے اپنے باپ کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں اس لیے کہ ہمارے پاس خدا کی ذات کا تجرباتی علم موجود ہے ۔ ہم اُس پر اعتماد اور ایمان رکھتے ہیں جو ہم سے پیارکرتا ، ہماری ضروریات کو پورا کرتااور ہماری حفاظت کرتا ہے بالکل ویسے جیسے ہمارے زمینی باپ کو کرنا چاہیے ۔ اس کے علاوہ جس طرح ہمارے زمینی باپوں کو کرنا چاہیے اُس طرح خدا اپنے بچّوں کی اُس وقت تربیت بھی کرتا ہے جب وہ اُس کے احکامات کی نافرمانی کرتے یا اُن کو نظرانداز کرتے ہیں۔ وہ ہماری بہتری کےلیے ایسا کرتا ہے"تاکہ ہم بھی اُس کی پاکیزگی میں شامل ہو جائیں" ( عبرانیوں 12باب 10آیت)۔

English
اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں
مجھے خُدا باپ کے تصور کو کس طرح سے سمجھنا چاہیے؟

معلوم کریں کہ کس طرح۔۔۔

خُدا کے ساتھ اپنی ابدیت گزاریں



خُدا سے معافی حاصل کریں