settings icon
share icon
سوال

اخیر زمانے سے پہلے ایلیاہ کا آنا کیوں ضروری ہے (ملاکی 4باب5-6آیات)؟

جواب


ملاکی 4باب5-6 آیات ایک دلچسپ پیشین گوئی پیش کرتی ہیں:"دیکھو خُداوند کے بزُرگ اور ہَولناک دِن کے آنے سے پیشتر مَیں ایلیّاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔اور وہ باپ کا دِل بیٹے کی طرف اور بیٹے کا باپ کی طرف مائِل کرے گا ۔ مبادا مَیں آؤں اور زمین کو ملعون کروں ۔ " آج کے دِن تک یہودیوں کی فسح کی عید کے موقع پر جب اُن کے خاندان کھانا کھانے بیٹھتے ہیں تو وہ کھانے کی میز پر ایک کُرسی کو اپنے اِس ایمان کی بناء پر خالی رکھتے ہیں کہ ملاکی کی نبوت کی تکمیل کے لیے ایلیاہ یہودیوں کے مسیحا کی آمد کا اعلان کرنے کے لیے آئے گا۔

ملاکی 4باب6آیت کے مطابق ایلیاہ کے واپس آنے کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ باپ اور اُس کے بچّوں کے "دِلوں کو ایک دوسرے کی طرف مائل" کرے۔ دوسرے الفاظ میں اُس کی آمد کا مقصد صلح کروانا ہوگا۔ نئے عہد نامے کے اندر خُداوند یسوع اِس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ ملاکی کی اِس نبوت کی تکمیل یوحنا اصطباغی کی صورت میں ہو چکی ہے: "کیونکہ سب نبیوں اور تَورَیت نے یُوحنّا تک نبُوت کی۔اور چاہو تو مانو۔ ایلیّا ہ جو آنے والا تھا یہی ہے۔ " (متی 11باب13-14آیات)۔ اِس تکمیل کا ذکر مرقس 1باب2-4آیات اور لوقا 1باب14آیت؛ 7باب 27 آیت میں بھی کیا گیا ہے۔

ملاکی 4باب5-6آیات سے متعلقہ خاص حوالہ متی 17باب10-13آیات ہیں: "شاگردوں نے اُس سے پُوچھا کہ پھر فقیہ کیوں کہتے ہیں کہ ایلیّا ہ کا پہلے آنا ضرور ہے؟اُس نے جواب میں کہا ایلیّا ہ البتہ آئے گااور سب کچھ بحال کرے گا۔لیکن مَیں تم سے کہتا ہُوں کہ ایلیّاہ تو آ چکا اور اُنہوں نے اُسے نہیں پہچانا بلکہ جو چاہا اُس کے ساتھ کِیا ۔ اِسی طرح اِبنِ آدم بھی اُن کے ہاتھ سے دُکھ اُٹھائے گا۔تب شاگرد سمجھ گئے کہ اُس نے اُن سے یُوحنّا بپتسمہ دینے والے کی بابت کہا ہے۔ "

فقیہ یہودی مذہبی اُستاد تھے، جن میں زیادہ تر فریسی اور صدوقی شامل ہوا کرتے تھے جو یہودی صحائف کی تفسیر مہیا کرتے تھے۔ پطرس ، یعقوب اور یوحنا فقیہوں کی تعلیمات سے آگاہ تھے اِس لیے اُنہوں نے یسوع کی صورت کے تبدیل ہونے کے واقعے کے بعد (متی 17باب1-8آیت) یسوع سے ایلیاہ کے بارے میں پوچھا۔ یسوع نے اُنہیں بڑے واضح طور پر بتایا کہ ایلیاہ تو پہلے ہی آ چکا ہے، لیکن افسوس کی با ت یہ ہے کہ اُسے نہ پہچانا گیا اور قتل کر دیا گیا۔ اِس کے ساتھ ہی یسوع نے اِس بات کی بھی پیشین گوئی کی کہ وہ بھی اپنے دشمنوں کے ہاتھوں اِسی طرح مارا جائے گا (17باب13آیت)۔

یوحنا اصطباغی کی خدمت پر ایک مختصر سی نظر ڈالنے سے ہم بہت ساری ایسی قابلِ ذکر باتوں کے بارے میں سیکھتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ "ایلیاہ " تھا۔ سب سے پہلے، خُدا نے اِس بات کی پیشین گوئی کی کہ یوحنا کی خدمت ایلیاہ جیسی ہوگی (لوقا 1باب17آیت)۔ دوسرے نمبر پر وہ ایلیاہ جیسا لباس پہنتا تھا (2 سلاطین 1باب8آیت اور متی 3باب4آیت)۔ تیسرے نمبر پر ایلیاہ کی ہی مانند یوحنا اصطباغی نے بھی بیابان میں ہی منادی کی تھی (متی 3باب1آیت)۔ چوتھے نمبر پر دونوں نے ہی توبہ کی منادی کی تھی ۔ پانچویں نمبر پر دونوں ہی نے بادشاہوں کے سامنے کھڑے ہونے کی جرات کی تھی اور اُن کے دشمن بہت اعلیٰ درجوں پر فائز تھے (1 سلاطین 18باب17آیت اور متی 14باب3آیت)۔

کچھ لوگ اِس بات پر بحث کرتے ہیں کہ یوحنا اصطباغی دراصل آنے والا ایلیاہ نہیں تھا کیونکہ اُس نے تو خود یہ کہہ دیا تھا کہ وہ ایلیاہ نہیں ہے۔" کیا تُو ایلیّاہ ہے؟ اُس نے کہا مَیں نہیں ہُوں ۔ کیا تُو وہ نبی ہے؟ اُس نے جواب دِیا کہ نہیں " (یوحنا 1باب21آیت)۔ اِس ظاہری تردید کی دو وضاحتیں پیش کی جاتی ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ چونکہ ایلیاہ کی کبھی بھی وفات نہیں ہوئی تھی (2 سلاطین 2باب11آیت)، اِس لیے بہت سارے ربّیوں کی طرف سے یہ تعلیم دی جاتی تھی کہ ایلیاہ ابھی بھی زندہ ہےاور اخیر زمانے کے قریب مسیحا کے آنے سے پہلے دوبار سے ظاہر ہو جائے گا۔ جس وقت یوحنا نے ایلیاہ ہونے کا انکار کیا تو وہ دراصل حقیقی ایلیاہ ہونے کی نفی کر رہا تھاجسے آسمان پر اُٹھا لیا گیا تھا۔

دوسرا نظریہ یہ ہے کہ یوحنا کے الفاظ یوحنا کے اپنے بارے میں خیالات اور یسوع کے یوحنا کے بارے میں خیالات کے اندر فرق کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ یوحنا نے اپنے آپ کو ملاکی 4باب5-6آیات کی نبوت کی تکمیل کرنے ہوئے نہ دیکھا ہو۔ بہرحال یسوع نے اُسے ایسا کرتے ہوئے دیکھا تھا۔ پس اِس کے اندر کوئی بھی تردید نہیں ہے، بلکہ ایک حلیم نبی خود اپنے بارےمیں حلیمی کے ساتھ اپنی رائے کا اظہار کر رہا ہے۔ یوحنا نے اپنے لیے عزت و احترام کو رَد کیا تھا (یوحنا 3باب30آیت)، بہرحال یسوع نے یوحنا کی تعریف کی اور بیان کیا کہ ملاکی میں ایلیاہ کی آمد کے بارے میں جو نبوت کی گئی ہے یوحنا نے اُس کی تکمیل کی ہے۔

تمثیلی ایلیاہ کے طور یوحنا اصطباغی نے لوگوں کو توبہ کرنے اور خُدا کی تابعداری میں زندگی گزارنے کے لیے بلایا، اور یوں اپنے دور کے لوگوں کو یسوع مسیح ، جو کہ "کھوئے ہوؤں کو ڈھونڈنے اور نجات دینے کے لیے آ چکا تھا"(لوقا 19باب10آیت) کی آمد کے لیے تیار کرنے کی اور صلح کی خدمت کو قائم کرنے کی کوشش کی (2 کرنتھیوں 5باب18آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

اخیر زمانے سے پہلے ایلیاہ کا آنا کیوں ضروری ہے (ملاکی 4باب5-6آیات)؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries