settings icon
share icon
سوال

ادومی لوگ کون تھے؟

جواب


ادومی عیسو کی اولاد تھے جو کہ اضحاق کا پہلوٹھا بیٹا اور یعقوب کا جڑواں بھائی تھا۔ اُن کی ماں کے پیٹ میں ہی اُن دونوں بھائیوں کے درمیان ایک طرح سے سخت مزاحمت جاری تھی اور خُدا نے اُن کی ماں ربقہ سے کہا کہ"دو قومیں تیرے پیٹ میں ہیں اور دو قبیلے تیرے بطن سے نکلتے ہی الگ الگ ہو جائیں گے اور ایک قبیلہ دُوسرے قبیلہ سے زورآور ہو گا اور بڑا چھوٹے کی خِدمت کرے گا " (پیدایش 25باب23 آیت)۔ جب وہ بڑے ہو گئے تو عیسو نے عجلت اور لا پرواہی میں اپنے بڑے ہونے کے حق کو لال دال کی ایک پیالی کے عوض اپنے بھائی یعقوب کے ہاتھ بیج دیا (پیدایش 25باب30-34 آیات)، اور اُس کے بعد وہ اپنے بھائی سے نفرت کرنے لگا۔ عیسو ادومیوں کا باپ بنا اور یعقوب اسرائیلیوں کا باپ بنا، اور یہ دونوں قومیں اپنی تاریخ کے زیادہ تر حصے میں ایک دوسرے کے خلاف مزاحمت ہی کرتی رہی ہیں۔ بائبل میں "کوہ شعیر" (یشوع 24باب4 آیت)، "بُصراہ" (یسعیاہ 63باب1 آیت) اور "سلع" (2 سلاطین 14باب7 آیت) ادومیوں کی سرزمین اور اُن کے دارالحکومت کے بارے میں حوالہ جات ہیں۔ سلع کو آج پیٹرا کے نام سے جانا جاتا ہے۔


"ادوم" نام سامی زبان کے ایک لفظ سے ماخوذ ہے جس کا مطلب "سرخ" ہے۔ اور بحیرہِ مُردار کے جنوب میں واقع سر زمین کو اِس لیے یہ نام دیا گیا کیونکہ اُس کی جغرافیائی شکل میں سُرخ ریتلے پتھر بہت زیادہ نمایاں ہیں۔ عیسو نے جس دال کے لیے اپنے پہلوٹھے ہونے کے حق کو بیچ دیا تھااُسی وجہ سے وہ ادوم کہلایا، اور بعد میں وہ اپنے خاندان کے ساتھ اِسی نام کے پہاڑی علاقے میں منتقل ہو گیا۔ پیدایش 36 باب کے اندر ادومیوں کی ابتدائی تاریخ بیان کی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل کے اندر بادشاہی نظام کے شروع ہونے سے بہت پہلے ادومیوں پر اُن کے بادشاہ حکمرانی کرتے تھے (پیدایش 36 باب31 آیت)۔ ادومیوں کا مذہب بھی دوسرے غیر اقوام کے معاشروں ہی کی مانند تھازرخیزی کے دیوتا کی پوجا کرنے کے ساتھ منسلک تھا۔ عیسو کی اولاد بالآخر جنوبی علاقے کی زمینوں پر قابض ہو گئی اور زراعت اور تجارت کے ذریعے سے روزی روٹی کمانے لگ گئی۔ قدیم تجارتی راستوں میں سے ایک بنام کنگز ہائی وے (گنتی 20باب17 آیت) ادوم سے ہو کر گزرتی تھی اور جب اسرائیلیوں نے مصر سے خروج کے بعد اُس راستے کو استعمال کرنے کی اجازت کی درخواست کی تو اُنہیں طاقت کے بل بوتے پر وہاں سے گزرنے نہ دیا گیا۔

چونکہ وہ قریبی رشتے دار تھے اِس لیے اسرائیلیوں کو ادومیوں سے نفرت کرے سے منع کیا گیا تھا (اِستثنا 23باب7 آیت)۔ تاہم ادومیوں نے مسلسل طور پر اسرائیلیوں پر حملے کرنا جاری رکھے اور اِس کے نتیجے میں بہت سی جنگیں لڑی گئیں۔ ساؤل بادشاہ نے ادومیوں کے خلاف جنگ لڑی اور پھر داؤد بادشاہ نے اُنہیں شکست فاش دی اور ادوم کے اندر اپنی فوجی چھاؤنیاں قائم کیں۔ ادومیوں کے علاقے پر اختیار کی بدولت اسرائیلیوں کو بحرِ قلزم پر عصیو ن جابر کی بندرگاہ تک رسائی حاصل تھی جہاں پر سلیمان بادشاہ نےبحری جہازوں کا بیڑہ بنایا اور بہت سی مہمات کا آغاز کیا۔ سلیمان کے دور کے بعد ادومیوں نے بغاوت کی اور اُنہیں اُس وقت تک کچھ آزادی حاصل ہوئی جب تک کہ شاہِ اسور تگلت پلاسر نے اُنہیں اسیر نہ کرلیا۔

میکابیوں کے دور کی جنگوں کے دوران ادومیوں کو یہودیوں نے زیر کر کے یہودیت کو قبول کرنے پر مجبور کیا۔ اِس سارے دور کے دوران ادومیوں نے یہودیوں کے لیے اپنی اُس پرانی نفرت کو برقرار رکھا۔ جب یونانی زبان عام ہو گئی تو ادومیوں کو آئیدومئین /Idumaean کہا جانے لگا۔ جب رومی سلطنت اپنے عروج پر تھی تو اِن ادومیوں کے باپ کو جس نے یہودیت کو قبول کر لیا ہوا تھا یہودیہ کا بادشاہ قرار دیا گیا۔ اِس ادومی کو تاریخ میں ہیرودیسِ اعظم کے طور پر جانا جاتا ہے ، یہ وہ ظالم بادشاہ تھا جس نے مسیح کی پیدایش کے بعد بیت لحم میں بچّوں کے قتلِ عام کا حکم دیا تھا (متی 2باب16-18 ایات)۔

ہیرودیس کی وفات کے بعد ادومی لوگ آہستہ آہستہ تاریخ کے صفحات سے غائب ہوتے چلے گئے۔ خُدا نے حزقی ایل 35 باب میں یہ کہتے ہوئے ادومی لوگوں کی تباہی کی پیشین گوئی کر دی تھی :"جس طرح تُو نے بنی اِسرائیل کی مِیراث پر اِس لئے کہ وہ وِیران تھی شادمانی کی اُسی طرح مَیں بھی تجھ سے کرُوں گا ۔ اَے کوہِ شعِیر تُو اور تمام ادُو م بِالکُل وِیران ہو گے اور لوگ جانیں گے کہ مَیں خُداوند ہُوں " (حزقی ایل 35باب15 آیت)۔ ادوم کی یہودیوں پر حکمرانی کرنے کی بارہا کوششوں کے باوجود خُدا کی طرف سے ربقہ کے سامنے کی گئی نبوت بالآخر پوری ہوئی جس میں کہا گیا تھا کہ : " بڑا چھوٹے کی خِدمت کرے گا " پس بنی اسرائیل قوم بنی ادوم سے طاقتور ثابت ہوئی۔



English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ادومی لوگ کون تھے؟"
Facebook icon Twitter icon YouTube icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries