settings icon
share icon
سوال

ڈی این اے ایک خالق کے وجود کی طرف کیسے اشارہ کرتا ہے؟

جواب


ہزار سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے کہ خُدا پر ایمان رکھنے والوں نے خُدا کے وجود کو ثابت کرنے کی کوشش میں بے شمار دلائل پیش کئے ہیں۔ کائناتی ، وجودیاتی اور اخلاقی دلائل کی مختلف شکلیں بہت کامیابی کے ساتھ تیار کی گئی ہیں اور اُن میں کافی زیادہ نکھار پیدا کیا جا چکا ہے۔ خُدا کے وجود کے بارے میں دلیل کی ایک اکثر زیر بحث شکل ڈئزاین کی دلیل رہی ہے۔ ڈائزائن کی دلیل کے افلاطون سے لیکر تھامس ایکوئنس اور اِس سے آگے کے بہت سے قابلِ ذکر لوگ حامی رہے ہیں۔

اگرچہ ڈئزائن کی دلیل کی کئی ایک اقسام بہت اہم اور معتبر ہیں اور یہ بہت سارے لوگوں کے لیے قابلِ عمل رہی ہیں۔ خلئے کی سطح پر حالیہ دریافتوں نے ڈیزائن کے حامیوں کے لیے اور بھی بہت قابلِ قدر مواد فراہم کیا ہے۔ 1953 میں فرانسس کرک اور جیمز واٹسن جیسے محققین نے ڈی این اے مالیکیول کی ساخت کی وضاحت کی۔ ایسا کرتے ہوئے اُنہوں نے دریافت کیا کہ ڈی این اَے اپنے اندر مخصوص جینیاتی معلومات کو لیے ہوئے ہوتا ہے جو چار حروف کے ڈیجیٹل کوڈ کی شکل میں ہوتی ہے۔ اِس معلومات کے اندر چار مختلف طرح کے کیمیکل ایک خاص ترتیب کے ساتھ ہوتے ہیں اور سائنسدان اُن کی نمائندگی کے لیے A, C, T اور Gجیسے حروف کو استعمال کرتے ہیں۔ اِن کیمیکلز کی ترتیب اور تسلسل پیچیدہ پروٹین مالیکیولز کو جمع کرنے کے لیے ضروری ہدایات فراہم کرتے ہیں جو بدلے میں آنکھوں، پَروں اور ٹانگوں کی طرح کے متنوع ڈھانچے بنانے میں مدد کرتے ہیں۔

جیسا کہ ڈاکٹر سٹیفن سی۔ مئیر نے نوٹ کیا ہے ، "ڈی این اے کے مخصوص علاقوں کے مالیکیول ، جو کوڈنگ ریجنز کہلاتے ہیں اُن میں "ترتیب کی خاصیت" یا "مخصوص پیچیدگی " کی ویسی ہی خصوصیت ہے، جیسی کہ تحریری کوڈ، لسانی متن، اور پروٹین کے مالیکیولز کی خصوصیت ہوتی ہے۔جس طرح کسی تحریری زبان کے اندر حروفِ تہجی ترتیب سے لکھے گئے ہوں تو ایک خاص پیغام دیتے ہیں بالکل اُسی طرح ڈی این اے کے ریڑھ کی ہڈی نما فیتے کے مالیکیولز بھی کسی خلیے کے اندر پروٹین بنانے کے لیے ہدایات کا ایک بالکل درست مجموعہِ معلومات(جیسے کہ A’s, T’s, G’s, C’s) لیے ہوئے ہوتے ہیں۔"

ڈی این اَے مالیکیولز کے اندر معلومات کو رکھنے والی خصوصیات واضح نظر آتی ہیں۔ تاہم کیا یہ حقیقت بذاتِ خود ہمیں ایک پُر حکمت ڈیزائنر کے وجود کا اندازہ لگانے پر مجبور کرتی ہے جو اِس ساری معلومات کی وجہ ہو؟ مئیرمزید کہتا ہے کہ "چاہیے ہم کسی علامتی زبان/تصویری لکھائی کے کتبے ، کسی کتاب کے اندر متن کے کسی حصے یا کسی کمپیوٹر سافٹ وئیر کو دیکھ رہے ہوں، اگر اُس میں کچھ معلومات ہے، اور وہ معلومات ہمیں اُس کے ماخذ کے پاس لے جاتی ہے تو ہمیشہ ہم اِس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ اِس سب میں خاص ذہانت کا عمل دخل ہے۔ اِس لیے جب ہم ایک خلئے کے اندر ڈی این اَے کے مالیکیول کے ریڑھ کی ہڈی نما فیتے میں لکھی ہوئی معلومات پاتے ہیں تو ہم اپنے بار بارکے تجربات کی بنیاد پر سب سے زیادہ عقلی اندازہ یہ لگاتے ہیں کہ کسی خاص قسم کی ذہانت اور حکم نے اِس معلومات کو یہاں پر ترتیب دینے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔"

ڈی این اَے کی معلومات سے بھرپور خصوصیات اِس بات کی مزید تصدیق فراہم کرتی ہیں کہ ہماری کائنات خُدا نے بنائی بلکہ اُس نے اِسےخاص طور پر ڈئزائن کیا ہے۔ جیسا کہ پولس رسول نے روم کی کلیسیا کے نام اپنے خط میں لکھا ہے کہ "کیونکہ اُس کی اَن دیکھی صفتیں یعنی اُس کی ازلی قُدرت اور الُوہیت دُنیا کی پَیدایش کے وقت سے بنائی ہُوئی چیزوں کے ذرِیعہ سے معلُوم ہو کر صاف نظر آتی ہیں ۔ یہاں تک کہ اُن کو کُچھ عُذر باقی نہیں۔ " (رومیوں 1باب20 آیت)۔ یہ الہامی بیان جب اصل میں قریباً 2000 ہزار سال پہلے لکھا گیا تھا تو یہ اُس وقت اتنا واضح نہیں تھا جتنا واضح یہ اب نظر آتا ہے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

ڈی این اے ایک خالق کے وجود کی طرف کیسے اشارہ کرتا ہے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries