settings icon
share icon
سوال

مسیحی مسلمانوں کی طرح روزہ کیوں نہیں رکھتے؟

جواب


یہ بات سچ ہے کہ مسیحی اور مسلمان دونوں روزہ رکھتے ہیں مگر روزہ رکھنے کے لیے اِن دونوں کے مقاصد فرق فرق ہیں ۔ دین کے پانچ ارکان کی پابندی کرتے ہوئے ہر مسلمان رمضان کے مہینے میں روزے رکھنے کا پابند ہے ۔

بائبل سکھاتی ہے کہ روزہ رکھنا نہ تو خدا کے فضل کا اور نہ ہی فردوس میں کسی مقام کا مستحق بناتا ہے۔ مسیحی ذیل میں بیان کردہ کسی ایک مقصد کےلیے روزہ رکھ سکتے ہیں۔

• خدا وند میں اطمینان کے اظہار کےلیے (متی 4باب 4آیت) ۔

• خداوند کے حضور عاجزی اور انکساری اختیار کرنے کے لیے (دانی ایل 9باب 3آیت) ۔

• خدا سے مدد کی درخواست کےلیے (2سموئیل 12باب 16آیت؛ آستر 4باب 16آیت ؛ عزرا 8باب 23آیت)۔

• خدا کی مرضی معلوم کرنے کےلیے ( اعمال 13باب 2-3آیات)۔

• گناہوں سے توبہ کرنے کےلیے (یوناہ 3باب 5- 10آیات)۔

• خداوند کی عبادت میں مکمل طور پر مگن ہونے کےلیے (لوقا 2باب 36-38آیات)۔

یسوع نے بھی روزہ رکھا تھا

اس سے پہلے کہ یسوع لوگوں میں اپنی خدمت کا آغازکرتا،عظیم معجزات کرتا اور لوگوں کو تعلیم دیتا اُس نے چالیس دن رات کا روزہ رکھا۔ اس کے بعد جب وہ بھوک سے نڈھال تھا تو ابلیس نے اُس کی آزمایش کی: " اور چالیس دِن اور چالیس رات فاقہ کر کے آخر کو اُسے بھوک لگی ۔۔۔ پھر اِبلیس اُسے ایک بہُت اُونچے پہاڑ پر لے گیا اور دُنیا کی سب سلطنتیں اور اُن کی شان و شوکت اُسے دِکھائی۔اور اُس سے کہا اگر تُو جھک کر مجھے سجدہ کرے تو یہ سب کچھ تجھے دے دُوں گا۔یسُوع نے اُس سے کہا اَے شَیطان دُور ہو کیونکہ لِکھا ہے کہ تُو خُداوند اپنے خُدا کو سجدہ کر اور صرف اُسی کی عبادت کر۔ تب اِبلیس اُس کے پاس سے چلا گیا اور دیکھو فرشتے آ کر اُس کی خدمت کرنے لگے"(متی 4باب 2اور 8-11آیات)۔

یسوع کی تکبر آمیز روزے کے خلاف تنبیہ

یسوع کے زمانے کے مذہبی رہنما اِس بات پر بڑا غرور کرتے تھے کہ وہ ہفتے میں دو بار روزہ رکھتے ہیں مگر یسوع اُن کی خلوصِ نیت پر اعتراض کرتا ہے ۔

• آدمیوں کے سامنے راستباز ظاہر ہونے کےلیے روزہ نہ رکھیں۔

“اور جب تُم روزہ رکھو تو رِیاکاروں کی طرح اپنی صورت اُداس نہ بناؤکیونکہ وہ اپنا مُنہ بِگاڑتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو روزہ دار جانیں۔ مَیں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چکے۔

بلکہ جب تُو روزہ رکھے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور مُنہ دھو۔تاکہ آدمی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے تجھے روزہ دار جانے۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا۔ "(متی6باب 16-18آیات)۔

• گناہوں کی معافی کے حصول کے لیے روزہ نہ رکھیں

(فریسی یہودی مذہب کے ایک اہم فرقے سے تعلق رکھنےوالا شخص ہوتا ہے )۔

“فرِیسی کھڑا ہو کر اپنے جی میں یُوں دُعا کرنے لگا کہ اَے خُدا! مَیں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ باقی آدمیوں کی طرح ظالم بے اِنصاف زِناکار یا اِس محصُول لینے والے کی مانِند نہِیں ہوں۔مَیں ہفتہ میں دو بار روزہ رکھتا اور اپنی ساری آمدنی پر دہ یکی دیتا ہوں۔لیکن محصول لینے والے نے دُور کھڑے ہو کر اِتنا بھی نہ چاہا کہ آسمان کی طرف آنکھ اُٹھائے بلکہ چھاتی پِیٹ پِیٹ کر کہا اَے خُدا! مجھ گناہگار پر رحم کر۔مَیں تم سے کہتا ہُوں کہ یہ شَخص دُوسرے کی نسبت راستباز ٹھہر کر اپنے گھر گیا کیونکہ جو کوئی اپنے آپ کو بڑا بنائے گا وہ چھوٹا کِیا جائے گا اور جو اپنے آپ کو چھوٹا بنائے گا وہ بڑا کِیا جائے گا"(لوقا 18باب 11-14آیات)۔" اور ہم سب کے سب ایسے ہیں جیسے ناپاک چیز اور ہماری تمام راست بازی ناپاک لباس کی مانند ہے اور ہم سب پتے کی طرح کملا جاتے ہیں اور ہماری بدکرداری آندھی کی مانند ہم کو اُڑالے جاتی ہے"(یسعیاہ 64باب 6آیت )

یسوع کی طرف سے روزے کے مفہوم میں اضافہ

یسوع سکھاتا ہے کہ کھانے کی نسبت خدا کی مرضی کی پیروی کرنا زیادہ تسلی بخش ہے : ۔۔۔"اِتنے میں اُس کے شاگرد اُس سے یہ درخواست کرنے لگے کہ اے رّبی! کچھ کھالے۔ لیکن اُس نے اُن سے کہا میرے پاس کھانے کے لیے ایساکھانا ہے جسے تم نہیں جانتے۔پس شاگردوں نے آپس میں کہا کیا کوئی اُس کے لئے کچھ کھانے کو لایا ہے؟ یسوع نے اُن سے کہا میرا کھانا یہ ہے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے موافق عمل کروں اور اُس کا کام پورا کروں۔ "(یوحنا 4باب 31-34آیات)۔

خدا کی مرضی کیا ہے ؟ "یِسُوع نے اُن سے کہا زِندگی کی روٹی مَیں ہُوں۔ جو میرے پاس آئے وہ ہرگز بُھوکا نہ ہوگا اور جو مجھ پر اِیمان لائے وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا۔لیکن مَیں نے تم سے کہا کہ تم نےمجھے دیکھ لِیا ہے۔ پھر بھی اِیمان نہِیں لاتے۔جو کچھ باپ مجھے دیتا ہے میرے پاس آجائے گا اور جو کوئی میرے پاس آئے گا اُسے مَیں ہرگِز نِکال نہ دُوں گا۔ کیونکہ مَیں آسمان سے اِس لئے نہیں اُترا ہُوں کہ اپنی مرضی کے مُوافق عمل کروں بلکہ اِس لئے کہ اپنے بھیجنے والے کی مرضی کے مُوافق عمل کرُوں۔اور میرے بھیجنے والے کی مرضی یہ ہے کہ جو کچھ اُس نے مجھے دِیا ہے مَیں اُس میں سے کچھ کھو نہ دُوں بلکہ اُسے آخِری دِن پھر زِندہ کرُوں۔کیونکہ میرے باپ کی مرضی یہ ہے کہ جو کوئی بیٹے کو دیکھے اور اُس پر اِیمان لائے ہمیشہ کی زِندگی پائے اور مَیں اُسے آخِری دِن پھر زِندہ کرُوں۔ "(یوحنا 6باب 35- 40آیات)۔

جس طرح ہم روٹی نہ کھائیں تو مر جائیں گے ويسے ہی اگر ہم یسوع جو زندگی کی روٹی ہے کو قبول نہیں کرتے تو ہم (خدا باپ سے جُدا ہو کر جہنم میں ابدی طور پررہیں گے ) مر جائیں گے ۔كيونكہ وہ "آسمان سے اُترااور كنواری مريم سے پيدا ہوا ہے ۔ يسوع خُدا كو اپنا باپ کہتا ہے اور اُس نے اپنی كامل زندگی ،موت اور مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے وسیلہ سے ثابت كیا ہے کہ وہ الٰہی ذات اور خدا کا بیٹا ہے ۔ یسوع نے ایمان لانے والے گنہگاروں کا فدیہ دینے کے ذریعے سے اپنے آسمانی باپ کی مرضی پوری کی ہے ۔ يسوع كو مُردوں ميں سے جلانے کے ذریعے سے خدا باپ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اُس نے مسیح کی قربانی کو قبول کیاہے ۔

آپ زندگی کی روٹی کو کیسے حاصل کر سکتے ہیں ؟ اس کےلیے آپ کو روزے جیسے اپنے نیک کاموں پر بھروسہ کرنے کی بجائے اپنے گناہوں سے توبہ کرنے اوراس بات پر ایمان رکھنے کی ضرورت ہے کہ مسیح یسوع میری نجات کےلیے موا ءاور مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے ۔

گناہوں سے نجات دینے کے بعد خداوند آپ کو نیک کاموں اور یہاں تک کہ روزے کے وسیلہ سے خدا کی تمجید کرنے کی توفیق اور قوت بخشے گا: "مگر اَب گُناہ سے آزاد اور خُدا کے غلام ہوکر تم کو اپنا پھل مِلا جس سے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور اِس کا انجام ہمیشہ کی زِندگی ہے۔کیونکہ گُناہ کی مزدوری مَوت ہے مگر خُدا کی بخشش ہمارے خُداوند مسیح یسوع میں ہمیشہ کی زِندگی ہے(رومیوں6باب 22-23آیات)۔

روزے کے بارے میں شخصی گواہی

ایک عقلمند آدمی جس نے اپنی زندگی کے کئی سال مشرق وسطیٰ میں مسلمانوں کے درمیان خدمت میں گزارے ہیں روزنے کے لیے اپنے مقاصد بیان کرتا ہے ۔

مَیں چاہتا ہوں کہ روزہ رکھنا ۔۔۔

• اُن سب باتوں کا ایک بالکل ایماندارانہ بیان ہو جو میرے لیے اہم ہیں۔ مَیں چاہتا ہوں کہ یہ سادہ سا عمل (یعنی کچھ دیر کے لیے کھانے پینے کے بغیر رہنا)اِس بات کی یاد دہانی کروائے کہ رُوحانی اور ابدی چیزیں دُنیاوی چیزوں سے زیادہ اہم ہیں۔

• اُس اطمینان کی علامت ہو جسے مَیں خُدا کی ذات میں حاصل کر رہا ہوں: خُدا سے محبت کرنا، اُس سے سیکھنا، اُس کی مرضی کو پورا کرنا۔

• خداوند کے حضور شاد مانی کرنا اور خوشی منانا ہو کہ اُس نے صلیب پر خدا وند یسوع مسیح کی قربانی کے وسیلہ سے مجھے گناہوں کی معافی بخشی ،مجھے چنااوراُن گناہ آلودعادات سے بچایا جن کا میں غلام تھا ۔

• اپنے گھرانے اور اُن عزیزوں کی خوشی اور شفاعت کرنے کا باعث ہو جو تمام دنیا کے مختلف حصوں میں ہیں ۔

• خداوند میں گہرے اطمینان کا اظہار ہو ، کیونکہ اِس طرح مَیں اپنے مال اور روحانی نعمتوں کو اور زیادہ سرگرمی اوربہتر انداز میں دوسروں کے ساتھ بانٹ سکوں گا ۔ خدا وند یسوع نے فرمایا ہے کہ "تیرا باپ ۔۔۔۔۔تجھے بدلہ دے گا(متی 6باب 18آیت)۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں



مسیحی مسلمانوں کی طرح روزہ کیوں نہیں رکھتے؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries