settings icon
share icon
سوال

یوگا کے بارے میں مسیحی نقطہ نظر کیا ہے ؟

جواب


مغربی ممالک میں موجود بہت سے مسیحی جو یوگا کی تاریخ کو نہیں سمجھتے اُن کے لیے یوگا محض جسمانی ورزش اور پٹھوں کی مضبوطی اور اُن کی لچک بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے۔ تاہم یوگا کے پیچھے فلسفہ خود کو جسمانی طور پر بہتر بنانے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ہندوستان سے ماخوذ ایک قدیم مشق ہے جسے رُوحانی ترقی اور روشن خیالی کی راہ مانا جاتا ہے۔

یوگا لفظ کا مطلب "اتحاد" ہے اور اس کا مقصد اپنے عارضی (غیرمستقل ) وجود کو لامحدود برہمن ،جوہندو مت میں "خدا کا "تصور ہے کے ساتھ متحد کرنا ہے۔ یہ دیوتا کوئی اصلی وجود نہیں ہے بلکہ ایک غیر شخصی رُوحانی مادہ ہے جو فطرت اور کائنات کے ساتھ ایک ہے۔ یہ نظریہ "اضام پرستی " کہلاتا ہے، یہ عقیدہ کہ ہر چیز خدا ہے اور یہ کہ حقیقت صرف کائنات اور فطرت پر مشتمل ہے۔ کیونکہ ہر چیز خدا ہے اس لیے یوگا کافلسفہ انسان اور خدا کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا۔

ہتھا یوگا، یوگا کا وہ پہلو ہے جو بدن کی خاص حالتوں ، سانس لینے کی مشقوں اور ارتکاز یا مراقبہ کے ذریعے طبعی بدن پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ یہ روشن خیالی کے حصول کے لیے بدن کو کم سے کم رکاوٹوں کے ساتھ رُوحانی مشقوں کے لیے تیار کرنے کا ایک ذریعہ ہے ۔ یوگا کی مشق اس یقین پر مبنی ہے کہ انسان اور خدا ایک ہیں۔ یہ اعلیٰ درجے کی رُوحانیت کے روپ میں خود پرستی سے کچھ بڑھ کر ہے۔

سوال یہ ہے کہ کیا کسی مسیحی کے لیے یوگا کے پیچھے موجود رُوحانیت یا فلسفے کو شامل کیےبغیر اس کے جسمانی پہلوؤں کو محض ورزش کے ایک طریقہ کے طور پر الگ کرنا ممکن ہے ؟ یوگا کی ابتدا واضح طور پر مسیحیت مخالف فلسفے سے ہوئی تھی اور وہ فلسفہ تبدیل نہیں ہوا۔ یہ ایک سچے خدا کی بجائے اپنے آپ پر توجہ مرکوز کرنا سکھاتا ہے۔ یہ اپنے شرکاء کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ وہ زندگی کے مشکل سوالات کے جوابات خدا کے کلام کی بجائے اپنے شعور سے تلاش کریں۔ یہ کسی شخص کو ابلیس کی مکاری کے لیے بھی غیر محفوظ بنا دیتا ہے جو اُن لوگوں کی تلاش کرتا ہے جنہیں وہ خُدا سے دور کر سکتا ہے (1پطرس 5باب 8آیت )۔

ہم جو کچھ بھی کرتے ہیں وہ خدا کے جلال کے لیے ہونا چاہیے (1 کرنتھیوں 10باب 35آیت ) اور ہمارے لیے پولس رسول کے الفاظ پر دھیان دینا دانشمندی ہوگی: " غرض اَے بھائیو! جتنی باتیں سچ ہیں اور جتنی باتیں شرافت کی ہیں اور جتنی باتیں واجِب ہیں اور جتنی باتیں پاک ہیں اور جتنی باتیں پسندِیدہ ہیں اور جتنی باتیں دِلکش ہیں غرض جو نیکی اور تعرِیف کی باتیں ہیں اُن پر غور کِیا کرو"(افسیوں 4باب8 آیت )۔ کسی مسیحی کو احتیاط برتنی اور یوگا میں شمولیت کے حوالے سے فہم کے لیے دعا کرنی چاہیے۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

یوگا کے بارے میں مسیحی نقطہ نظر کیا ہے ؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries