settings icon
share icon
سوال

مسیحی پرستش کے کیا معنی ہیں؟

جواب


نئے عہد نامے میں" پرستش "کے لیے جو یونانی لفظ "پروسکیو ناؤ " (proskuneo)استعمال ہوا ہے اُس کے معنی ہیں"کسی کے سامنے نیچے گر پڑنا" یا "کسی کے سامنے جھک جانا"۔ پرستش دراصل انسانی رُوح کی ایک حالت( ایک رویہ ) ہے۔ کیونکہ یہ ایک باطنی(اندرونی) اور شخصی عمل ہے اِس لیے یہ ہماری زندگیوں میں کسی بھی جگہ یا حالت کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جاری رہ سکتا ہےاور جاری رہنا چاہیے (یوحنا 4 باب 21آیت)۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی ہر وقت خُدا کی پرستش کرتے ہیں، ہفتے کے ساتوں دن۔ جب مسیحی عام طور پر پرستش کرنے کے لیے جمع ہوتے ہیں تو اُس صورت میں بھی خُداوند کی پرستش کے اِس عمل کو شخصی حالت میں سرانجام دینے پر زور دیا جانا چاہیے۔ حتیٰ کہ پوری کلیسیائی جماعت کے اندر، اُس میں حصہ لینے والے اراکین کو اِس بات سے آگاہ ہونا چاہیے کہ وہ سب مکمل طور پر شخصی بنیادوں پر خُداوند کی پرستش کر رہے ہیں۔

مسیحی پرستش کی نوعیت ہمارے اندر یعنی رُوح میں سے کسی جذبے یا اظہار کا باہر آنا ہے اور اِس کے دو حصے ہیں جو بالکل ایک جتنے اہم ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم "رُوح اور سچائی" کیساتھ پرستش کریں (یوحنا 4 باب 23-24آیات)۔ رُوح سے خُدا کی پرستش کرنے کے لیے ہمیں کوئی خاص جسمانی انداز اپنانے کی قطعی طور پر کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اِس کا مکمل طور پر تعلق ہماری اندرونی ترین حالت سے ہے اور یہ کئی ایک چیزوں کا تقاضا کرتا ہے۔ سب سے پہلے تو ہمیں اِس کے لیے نئے سرے سے پیدا ہونا چاہیے۔ جب تک رُوح القدس ہمارے اندر نہیں بستا، ہم اپنی پرستش میں خُدا کی ذات کے لیے کسی بھی طرح کا کوئی رَدعمل ظاہر نہیں کر سکتے کیونکہ ہم حقیقت میں اُسے جانتے ہی نہیں ہیں۔ "۔۔۔خُدا کے رُوح کے سوا کوئی خُدا کی باتیں نہیں جانتا" (1 کرنتھیوں 2 باب 11آیت)۔ رُوح القدس جو ہمارے اندر بستا ہے وہ پرستش کے لیے زور ، طاقت اور توانائی بخشتا ہے کیونکہ ہماری اُس پرستش سے اُسکو جلال ملتا ہے اور ہر طرح کی سچی پرستش خُدا کے نام کو جلال دیتی ہے۔

دوسرے نمبر پر رُوح سے پرستش کرنے کے لیے ہمارے اندر ایسی عقل (ذہن) کا ہونا ضروری ہے جو خُدا کی ذات پر مرکوز ہو اور جو سچائی کے وسیلے سےنئی ہو گئی ہو ۔ پولس رسول ہمیں نصیحت کرتا ہے کہ "اپنے بدن اَیسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زِندہ اور پاک اور خُدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے۔ اور اِس جہان کے ہمشکل نہ بنو بلکہ عقل نئی ہوجانے سے اپنی صورت بدلتے جاؤ تاکہ خُدا کی نیک اور پسندیدہ اور کامل مرضی تجربہ سے معلوم کرتے رہو " (رومیوں 12باب 1آیت ب؛ 2 آیت)۔ جس وقت ہمارے ذہن دُنیا پر مرکوز ہونے سے تبدیل ہو کر خُدا کی ذات پر مرکوز ہوتے ہیں تو ہم اُسی صورت میں رُوح سے خُدا کی پرستش کر سکتے ہیں۔ جب ہم اپنے خُدا کی پرستش اور ستائش کرتے ہیں تو بہت قسم کی رکاوٹیں ہمارے زہنوں میں اُمڈ آسکتی ہیں تاکہ ہماری سچی پرستش میں رکاوٹ بنیں۔

تیسرے نمبر پر ہم رُوح سے اُسی وقت پرستش کر سکتے ہیں جب ہم پاک دل ہوں، یعنی ہمارا دل خُدا کے سامنے کھلا پڑا ہو اور ہم نے اپنی خطاؤں سے توبہ کر لی ہو۔ جس وقت داؤد بادشاہ کا دل بت سبع کے ساتھ اُس کے تعلق کی وجہ سے گناہ سے بھرا ہوا تھا (2 سموئیل 11 باب) تو اُس کے لیے خُدا کی پرستش کرنا ممکن نہیں تھا۔ اُس نے محسوس کیا کہ جیسے خُدا اُس سے بہت زیادہ دور ہے، اور وہ "دن بھر کراہتا رہا کیونکہ خُدا کا ہاتھ اُس پر بھاری تھا" (32 زبور 2-4آیات)۔ لیکن جب اُس نے اپنے گناہوں کا اعتراف کیا تو خُدا کے ساتھ اُس کی رفاقت بحال ہو گئی اور اُس کے دل سے خُدا کی حمد و ستائش اور پرستش پھوٹ نکلی۔ پھر اُسے اِس بات کی سمجھ آئی کہ "شکستہ رُوح خُدا کی قُربانی ہےاور خُدا شکستہ اور خستہ دِل کو حقیر نہ جانیگا " (51 زبور 17آیت)۔ خُدا کے لیے پرستش اور حمد و ثنا ء کسی ایسے دل سے نہیں نکل سکتی جو ایسے گناہوں سے بھرا ہوا ہو جن کا کبھی اعتراف نہیں کیا گیا۔

حقیقی پرستش کا دوسرا حصہ "سچائی سے پرستش کرنا " ہے۔ ہر طرح کی پرستش دراصل سچائی کو جاننے کا رَد عمل ہے اور ہر طرح کی سچائی خُدا کے کلام کے اندر پائی جاتی ہے۔ خُداوند یسوع نے اپنے آسمانی باپ سے کہا کہ "تیرا کلام سچائی ہے"(یوحنا 17 باب 17آیت ب)۔ 119 زبور بیان کرتا ہے کہ "تیری شریعت برحق ہے"(142آیت) اور "تیرے کلام کا خلاصہ سچائی ہے" (160آیت)۔ خُدا کی سچائی سے پرستش کرنے کے لیے ہمیں اِس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ ہے کون، اور اُس نے کیا کچھ کیا ہے، اور یہ بھی کہ وہ واحد جگہ جہاں پر اُس نے خود کو مکمل طور پر ظاہر کیا ہے وہ اُس کا زندہ کلام یعنی بائبل مُقدس ہے۔پرستش دراصل اُس خُدا کی ذات کے لیے دل کی گہرائیوں سے حمد و ستائش کا اظہار ہے جسے پوری طرح اُس کے کلام کی مدد سے سمجھا جا سکتا ہے۔اگر ہمارے پاس بائبل کی سچائی موجود نہیں ہے تو پھر ہم خُدا کو نہیں جانتے اور ہم سچائی کے ساتھ اُس کی پرستش بھی نہیں کر سکتے۔

اب جبکہ مسیحی پرستش کے دوران بیرونی اور جسمانی انداز اور حرکات و سکنات کی اہمیت نہیں ہے اِس لیے اِس حوالے سے کوئی بھی قانون موجود نہیں ہے کہ آیا ہم پرستش کے دوران بیٹھیں، کھڑے ہوں، خُدا کے سامنے گر جائیں، خاموشی کے ساتھ بیٹھیں یا جماعت کے ساتھ عبادت میں باآواز بلند اُسکی حمد و ثناء گائیں۔ اِن باتوں کا فیصلہ کسی بھی کلیسیائی جماعت کی اپنی نوعیت اور کلیسیائی قوانین کے مطابق کیا جا سکتا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ہم اپنے خُدا کی پرستش "رُوح سے" (یعنی اپنے دل کی گہرائیوں سے) اور سچائی سے (یعنی اپنے عقل اور ذہن سے) کرتے ہیں۔

English



اُردو ہوم پیج پر واپس جائیں

مسیحی پرستش کے کیا معنی ہیں؟
Facebook icon Twitter icon Pinterest icon Email icon اس پیج کو شیئر کریں:
© Copyright Got Questions Ministries